-
ذاتی وارداتِ قلبی اور علمی حقائق کے مابین کشمکش: حق کی تلاش کا بحران
میں اس وقت شدید ذہنی اور روحانی کشمکش میں ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں احمدیہ مسلم کمیونٹی کو چھوڑ کر غامدی مرکز میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ مجھے دو متضاد حالات کا سامنا ہے۔ ایک طرف، میرے کچھ ذاتی روحانی تجربات ہیں جو مجھے یقین دلاتے ہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب اپنے دعوے پر سچے ہیں اور وہ تجربات مجھے جماعت چھوڑنے سے روک رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف جب میں قرآن پاک کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے اس میں ان کا کوئی ذکر نہیں ملتا، وہ جو احادیث اور دلائل پیش کرتے ہیں ان میں کوئی وزن نہیں ہوتا، اور ان کا ترجمہ قرآن اور حدیث دیگر علماء کے مقابلے میں کمزور معلوم ہوتا ہے۔ مزید برآں، نہ ہی جماعت کا نظام مجھے سوٹ کرتا ہے، یعنی مجھے یہ پسند نہیں۔ میرے پاس نہ تو ان کے نبی ہونے کی کوئی واضح دلیل ہے اور نہ ہی مکمل انکار، جس سے مجھے شک ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں مجھے کیا کرنا چاہیے اور میں سچائی کا تعین کیسے کروں؟”اور اگر میں جماعت کو چھوڑ دوں تو روحانی تجربات کو شیطانی وسوسے یا ویسے ہی سمجھ کر رد کر دوں تو کوئی غلط تو نہیں ہے
Sponsor Ask Ghamidi