Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Home › Forums › Islam And Family › Status Of Divorce Given In Anger

Tagged: 

  • Status Of Divorce Given In Anger

    Posted by ZAHID MAHMOOD on January 19, 2026 at 4:22 pm

    السلام علیکم

    میں نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں مختلف وقتوں میں 5 سے 6 مرتبہ طلاق دی لیکن جب بھی طلاق دی وہ حالت طہر میں نہیں تھی اور نہ ہی 2 گواہ موجود تھے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ نے حکم دیا ہے۔

    کیا ہماری طلاق ہو گئی ہے؟

    برائے مہربانی قرآن پاک کے مطابق جواب دیں۔

    Dr. Irfan Shahzad replied 8 months, 2 weeks ago 2 Members · 1 Reply
  • 1 Reply
  • Status Of Divorce Given In Anger

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar January 19, 2026 at 10:27 pm

    طلاق دینے کے لیے گواہوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قرآن مجید میں گواہوں کا ذکر عدت کے خاتمے کے وقت کے لیے آیا ہے کہ جب عدت کے خاتمے پر معاملات طے ہو رہے ہوں کہ رجوع کرنا ہے یا نہیں کرنا، تو گواہ موجود ہوں تاکہ کوئی نزاع نہ ہو۔

    طلاق ایک سنجیدہ معاملہ ہے ۔ یہ ارادے کے بغیر نہیں ہوتی۔

    درج ذیل لنک پر غامدی صاحب کی ویڈیو دیکھیے

    https://youtu.be/VuvBD37qLho?si=NP4K8e_R8vwz9iEc

You must be logged in to reply.
Login | Register