-
کیا یہ قرآن میں کھلا تضاد نہی؟
سورہ حجرات کی آیات 40 اور 42 میں آیا ہے کہ جب ابلیس کے سوا تمام نے آدم کو سجدہ کردیا تو خدا نے کہا میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہیں لیکن ہاں جو گمراہ لوگ تیری پیروی کریں ۔ ۔اور یہ بھی کہا کہ میرے منتخب بندوں پر تیرا کوئی زور نہی چلے گا۔ ۔ قرآن سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ نے آدم کو منتخب کیا ہے۔الفاظ ہیں کہ ان اللہ اصطفیٰ آدمِ و نوح ۔۔۔۔۔۔۔آگے تک’
پتہ چلا کہ آدم تو منتخب کئے گئے تھے۔ پھر انکو اور بیوی کو جنت میں ٹھہرایا ۔پھر کہا کہ شیطان نے انکو گمراہ کردیا۔ الفاظ ہیں کہ فاَزالھماالشیطن۔۔۔ آگے تک۔
کیا یہ قرآن کی بات خود سے ہی غلط ثابت نہی ہوتی کہ ایک طرف تو کہ رہا کہ میرے منتخب بندوں پر تیرا بس نہی چلے گا۔۔اور ادھر اگلی ہی قسط میں اس نے منتخب کردہ آدم کو گمراہ کردیا۔۔ ۔۔اب ہم کیا سچ مانیں ؟؟؟
Sponsor Ask Ghamidi