Forums › Forums › General Discussions › مکہ والوں کا اتمام حجت کے تحت قتل عام کیوں نہی کیا
-
مکہ والوں کا اتمام حجت کے تحت قتل عام کیوں نہی کیا
Posted by Abdullah Riaz on January 30, 2026 at 1:11 amبنو قریضہ کا قتل عام کیا گیا ۔عورتوں کو لونڈی بنایا گیا۔جبکہ مکہ فتح ہوا تو عام معافی کا اعلان کردیا گیا۔۔ مطلب کہ مکہ کے مشرکین پر کیوں اتمام حجت نہی کیا گیا؟۔کیا اس وجہ سے کہ وہ سب رشتے دار تھے۔۔حالنکہ سب سے زیادہ تکلیفیں بھی انہی نے دی۔بار بار جنگ بھی وہی کرتے تھے۔؟؟
Juned Khan replied 2 months ago 4 Members · 7 Replies -
7 Replies
-
مکہ والوں کا اتمام حجت کے تحت قتل عام کیوں نہی کیا
-
Maria Ali
Member January 30, 2026 at 4:07 amسب سے پہلے یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ بنو قریضہ کا معاملہ مکہ کے مشرکین سے نوعیت میں بالکل مختلف تھا۔ بنو قریضہ مدینہ میں رہنے والا یہودی قبیلہ تھا جس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باقاعدہ ایک تحریری معاہدہ کیا تھا جسے میثاقِ مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق اگر مدینہ پر حملہ ہو تو سب قبائل مل کر دفاع کریں گے اور اندرونی طور پر کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے۔ غزوۂ خندق کے موقع پر جب پورا مدینہ بیرونی حملے کی زد میں تھا، بنو قریضہ نے اسی نازک لمحے میں معاہدہ توڑا، دشمن سے خفیہ رابطے کیے اور مدینہ پر اندر سے حملے کی تیاری کی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو عورتیں، بچے اور بوڑھے سب قتل یا غلام بنا لیے جاتے۔ یہ محض اختلافِ عقیدہ نہیں بلکہ کھلی غداری اور جنگی جرم تھا۔جب محاصرہ ختم ہوا تو بنو قریضہ کے فیصلے کے لیے خود رسول اللہ ﷺ نے کوئی یک طرفہ سزا مقرر نہیں کی بلکہ ان کے مطالبے پر سعد بن معاذؓ کو منصف بنایا گیا، جو ان کے پرانے حلیف تھے۔ سعدؓ نے وہی فیصلہ دیا جو اس زمانے کے یہودی قانون یعنی تورات کے مطابق تھا۔ یوں یہ سزا نہ ذاتی انتقام تھی، نہ محض مذہبی بنیاد پر، بلکہ ایک ثابت شدہ جنگی غداری پر قانونی فیصلہ تھا۔اب مکہ کی فتح کو دیکھیں تو وہاں صورتِ حال اس کے برعکس تھی۔ مکہ کے مشرکین نے اگرچہ سخت ظلم کیے، مگر فتح کے وقت وہ اجتماعی طور پر کسی فعال جنگی معاہدے کو توڑتے ہوئے اندرونی غداری کے مرتکب نہیں تھے، بلکہ وہ مکمل طور پر مغلوب ہو چکے تھے۔ اس مرحلے پر رسول اللہ ﷺ کے پاس اختیار تھا کہ وہ بدلہ لیں، مگر آپ ﷺ نے بدلے کے بجائے معافی کو چنا تاکہ عرب میں ایک نئی اخلاقی مثال قائم ہو، دلوں کو فتح کیا جائے اور دین جبر کے بجائے رضا سے پھیلے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی عام معافی کے نتیجے میں وہی لوگ جو سب سے بڑے دشمن تھے، بعد میں اسلام کے سب سے مضبوط ستون بنے۔یہ کہنا بھی درست نہیں کہ مکہ والوں پر اتمامِ حجت نہیں ہوا۔ تیرہ سال مکہ میں، پھر کئی سال مدینہ میں، مسلسل دعوت، دلائل، وارننگ اور عملی نمونہ ان سب پر اتمامِ حجت تھا۔ فرق یہ ہے کہ اتمامِ حجت کے بعد سزا کا نفاذ ہر جگہ ایک جیسا نہیں ہوتا، بلکہ جرم کی نوعیت، حالات اور اجتماعی مصلحت کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ بنو قریضہ کا جرم براہِ راست ریاست کے وجود اور معصوم جانوں کے لیے خطرہ تھا، جبکہ مکہ کی فتح کے وقت ایسا کوئی فوری خطرہ باقی نہیں رہا تھا۔یہ بھی اہم ہے کہ مکہ والوں کو صرف اس لیے معاف نہیں کیا گیا کہ وہ رشتہ دار تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو ابو لہب، ابو جہل اور دیگر قریبی رشتہ دار سب سے پہلے بچ جاتے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسلام میں نہ رشتہ داری سزا سے بچاتی ہے اور نہ دشمنی سزا کو لازم بناتی ہے، اصل معیار عدل، جرم کی نوعیت اور اجتماعی خیر ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ بنو قریضہ اور فتح مکہ کے فیصلے دو الگ اخلاقی اور قانونی اصولوں پر مبنی تھے۔ ایک جگہ ریاست کے خلاف ثابت شدہ غداری پر قانون نافذ ہوا، اور دوسری جگہ اقتدار ملنے کے بعد معافی کے ذریعے انسانیت اور اخلاق کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی گئی۔ یہی توازن اسلام کی اصل روح کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی اصول کی ایک نہایت روشن مثال وہ ہدایت ہے جو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو ایک جنگی مہم پر بھیجتے وقت دی۔ آپ ﷺ نے صاف فرمایا کہ پہلے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا، انہیں حق سمجھانا، اور اگر وہ قبول کر لیں تو پھر کوئی کارروائی نہ کرنا۔ پھر آپ ﷺ نے وہ جملہ فرمایا جو اسلام کی روح کو واضح کر دیتا ہے کہ مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ تمہارے ذریعے ایک ہی شخص ایمان لے آئے، اس سے کہ ایک ہزار مشرک قتل کر دیے جائیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مقصد قتل و غلبہ نہیں بلکہ دلوں کی تبدیلی اور انسانوں کی ہدایت ہے، اور جنگ آخری مجبوری کے طور پر آتی ہے، پہلی ترجیح کبھی نہیں ہوتی۔
فتح مکہ کے موقع پر یہی اصول اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ وہاں صرف معافی ہی نہیں دی گئی بلکہ کئی لوگوں کو دلجوئی کے لیے عطیات اور انعامات بھی دیے گئے، جنہیں مؤلفۃ القلوب کہا جاتا ہے، تاکہ برسوں کی دشمنی، خوف اور کدورت ختم ہو اور دل اسلام کی طرف مائل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو کل تک اسلام کے بدترین دشمن تھے، معافی اور حسنِ سلوک دیکھ کر خود اسلام کے علمبردار بن گئے۔ عکرمہ بن ابو جہل جیسے شخص، جن کا پس منظر سب کے سامنے ہے، اسی معافی کے بعد ایمان لائے اور بعد میں عظیم صحابی ثابت ہوئے۔ اسی طرح بہت سے اور لوگ، جن کے ہاتھوں مسلمانوں کو شدید تکلیفیں پہنچی تھیں، اسی اخلاقی عظمت سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئے۔
یہ سارے واقعات مل کر یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ مکہ والوں کے ساتھ رویہ کمزوری یا رشتہ داری کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ ایک سوچے سمجھے اخلاقی اور دعوتی فیصلے کا نتیجہ تھا۔ وہاں موقع تھا کہ معافی سے ایک پوری قوم کے دل جیتے جائیں، اور یہی ہوا۔ جبکہ بنو قریضہ کے معاملے میں معاملہ دعوت یا اختلافِ عقیدہ کا نہیں بلکہ ایک زندہ اسلامی ریاست کے خلاف کھلی جنگی غداری کا تھا، جس کا انجام دنیا کے ہر قانون میں سخت ہوتا ہے۔
یوں اسلام ہمیں یہ توازن سکھاتا ہے کہ جہاں دل جیتنے سے ہدایت کی امید ہو وہاں معافی، حلم اور احسان کو ترجیح دی جائے، اور جہاں اجتماعی جانوں اور ریاست کے وجود کو براہِ راست خطرہ ہو وہاں عدل کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ یہی فرق دونوں واقعات کو سمجھنے کی کنجی ہے۔
-
Abdullah Riaz
Member January 31, 2026 at 9:55 amبغاوت تو بنو قریضہ کے سرداران کی طرف سے ہوئی تھی۔تو ان سرداران کی غلطی کی سزا 600 سے زائد معصوم لوگوں کو کیوں دی گئی۔۔انکے علاوہ عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا گیا۔ ۔ وہاں انکو اعلٰی اخلاق سے کیوں متاثر نہی کیا؟؟ اور دوسری۔بات کہ جب وقت کا نبی آگیا تو وہ شریعت لے کر آئے اور کہا کہ پرانی۔کتابیں تحریف شدہ۔ہیں۔جبکہ فیصلہ اسی تحریف شدہ کتاب سے لیا گیا۔؟؟ شاید اس لییے کہ وہ زیادہ سودمند لگا۔ بجائے اسکے کہ فیصلہ موجودہ وقت کی کتاب سے لیا جاتا ؟؟
تیسرا یہ کہ آپکی باتوں سے لگا کہ اتمام حجت بھی نبی اپنی مرضی سے کرتا ہے۔۔وہ کوئی خدائی فیصلہ نہی ہوتا۔کیوں کہ جہاں وہ چاہتے ہیں اعلٰی اخلاق دکھاتے ہیں۔اور جہاں چاہتے ہیں۔اتمام حجت کرنے کیلیے تحریف شدہ کتابوں کا۔حوالہ بھی قبول کرتے ہیں؟؟ -
Juned Khan
Member January 31, 2026 at 10:54 amYe fasad fil arad ki saza thi,agar koi group ke leader koi zulm ya fasad fil arad karte he to saza ka itlaq pure group par hoga Aaj bhi yahi usul he, group me kisi tarah ki koi bifigartion nahi ho gi
-
Maria Ali
Member January 31, 2026 at 11:52 amاصل میں آپ کے تمام سوالات ایک ہی بنیادی غلط فہمی کے گرد گھومتے ہیں، اس لیے ان کا جواب بھی ٹکڑوں میں نہیں بلکہ مجموعی فہم کے ساتھ ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ بنو قریضہ کے معاملے کو محض چند سرداروں کی ذاتی غلطی سمجھنا درست نہیں، کیونکہ قدیم قبائلی معاشروں میں معاہدہ، جنگ اور غداری سب اجتماعی سطح پر ہوتے تھے۔ اس دور کے عرف اور قانون کے مطابق یہ ایک اجتماعی جرم تھا۔ اسی طرح عورتوں اور بچوں کا معاملہ بھی آج کے اخلاقی پیمانوں کے بجائے اُس وقت کے عالمی جنگی قانون کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جہاں اسلام نے رائج سخت ترین رویّوں کو محدود اور منضبط کیا۔ تورات سے فیصلہ کروانا بھی تضاد نہیں تھا، کیونکہ قرآن تحریف کے باوجود پچھلی کتابوں میں موجود اصل وحی کو مانتا ہے، اور عدل کا تقاضا یہی تھا کہ جن لوگوں نے خود جس قانون کو الٰہی مانا، فیصلہ بھی اسی کے مطابق ہو۔ اسی طرح اتمامِ حجت کو نبی کی ذاتی مرضی سمجھنا بھی غلط ہے؛ مختلف مواقع پر مختلف فیصلے دراصل ایک ہی عدل کے حالات کے مطابق اطلاقات تھے، نہ کہ دوہرا معیار۔
میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ بنو قریضہ کا واقعہ اُس دور میں پیش آیا جب قرآن کے تفصیلی جنگی احکام ابھی بعد میں نازل ہونا تھے۔ اُس وقت اسلامی ریاست وجود میں آ چکی تھی، مگر اس کا عدالتی اور قانونی نظام تدریج کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی نگرانی میں ایک قاضی مقرر کیا گیا، اور وہ بھی بنو قریضہ ہی کی خواہش پر۔ فیصلہ نبی ﷺ نے خود اپنی طرف سے نافذ نہیں کیا بلکہ سعد بن معاذؓ کے ذریعے کروایا گیا، جو ان کے اپنے پرانے حلیف تھے۔ اس پورے عمل کو محض ذاتی مرضی یا وقتی مصلحت کہنا درست نہیں، بلکہ یہ اُس وقت کے اجتماعی عدل اور قبائلی قانون کے مطابق ایک باقاعدہ قانونی کارروائی تھی۔
میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ یہ کہنا درست نہیں کہ چند سرداروں کی غلطی کی سزا سینکڑوں معصوم لوگوں کو دی گئی۔ اُس دور میں معاہدے فرد نہیں بلکہ پورا قبیلہ کرتا تھا، اور غداری بھی اجتماعی جرم سمجھی جاتی تھی۔ بنو قریضہ کے عام افراد اس عمل سے بالکل الگ یا مجبور نہیں تھے، کیونکہ محاصرۂ خندق کے دوران پورے قبیلے نے عملی طور پر اسی راستے کو اختیار کیے رکھا۔ اگر وہ واقعی اختلاف یا براءت ظاہر کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے، مگر ایسا نہیں ہوا۔
جہاں تک عورتوں اور بچوں کے غلام بنائے جانے کا تعلق ہے، میں اسے آج کے اخلاقی معیارات سے نہیں بلکہ اُس دور کے عالمی جنگی قانون کے تناظر میں دیکھتی ہوں۔ اس زمانے میں غداری کی صورت میں مکمل نسل کشی کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ اسلام نے یہاں قتل کے بجائے غلامی کا راستہ اختیار کیا، اور پھر اسی نظام کے اندر تدریجی آزادی، کفالت اور حسنِ سلوک کے دروازے کھولے۔ اس لیے یہ کہنا کہ یہاں اعلیٰ اخلاق کیوں نہیں دکھایا گیا، تاریخی سیاق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
میں یہ بات بھی شامل کرنا چاہتی ہوں کہ قرآن کے جنگی احکام بعد میں نازل ہوئے، اور اسی ابتدائی دور میں فیصلے وحی کی نگرانی میں نبی ﷺ کی رہنمائی سے کیے جاتے تھے۔ قاضی کا تقرر بھی آپ ﷺ کی اجازت سے ہوا اور فیصلہ بھی اسی دائرے میں ہوا، نہ کہ کسی ذاتی خواہش سے۔
اب رہی یہ بات کہ جب نبی شریعت لے کر آئے اور پچھلی کتابوں کو تحریف شدہ کہا، تو فیصلہ تورات سے کیوں لیا گیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہاں ایک بنیادی فرق کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ تورات مکمل طور پر باطل ہو چکی تھی، بلکہ یہ کہ اس میں تحریف ہوئی، یعنی اصل وحی کے کچھ حصے باقی تھے اور کچھ بدلے گئے تھے۔ فیصلہ تورات سے اس لیے کروایا گیا کیونکہ بنو قریضہ خود اسی قانون کو اللہ کا قانون مانتے تھے۔ یہ دراصل عدل کی اعلیٰ صورت تھی کہ کسی قوم پر وہی قانون نافذ کیا جائے جسے وہ خود معتبر سمجھتی ہو، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم پر زبردستی دوسرا قانون تھوپ دیا گیا۔
اسی سلسلے میں میں یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ اگر سورۂ بقرہ کو واقعی معنی اور سیاق کے ساتھ پڑھا جائے، خاص طور پر مولانا امین احسن اصلاحی کی تفسیر کے ساتھ، تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ یہود پر حجت صرف قرآن کے ذریعے نہیں بلکہ ان کے اپنے قدیم صحائف، انبیاء کی بشارات اور سابقہ عہد و میثاق کے حوالوں سے قائم کی گئی۔ قرآن بار بار انہی کے مصادر کو ان کے خلاف دلیل بناتا ہے، نہ کہ سہولت کے لیے استعمال کرتا ہے۔
میں اس تاثر سے بھی اتفاق نہیں کرتی کہ اتمامِ حجت نبی اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ نبی نہ اپنی خواہش سے معافی دیتا ہے اور نہ سزا نافذ کرتا ہے، بلکہ ہر فیصلہ وحی، حالات اور خدائی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر معافی اس لیے دی گئی کیونکہ وہاں اجتماعی سرِ تسلیم خم ہو چکا تھا اور معافی سے دل جیتے جا سکتے تھے۔ بلکہ بعض لوگوں کو دل جوئی کے لیے عطیات بھی دیے گئے، اور اسی اخلاقی رویے کا نتیجہ تھا کہ عکرمہ بن ابو جہل جیسے لوگ اسلام میں داخل ہوئے اور بعد میں عظیم صحابہ بنے۔ بنو قریضہ کے معاملے میں صورت حال مختلف تھی، وہاں جرم کی نوعیت ایسی تھی کہ نرمی مستقبل میں ریاست کے وجود کے لیے مستقل خطرہ بن سکتی تھی۔
آخر میں میں یہ بھی واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اگر میری باتوں سے کسی کا دل مطمئن نہیں ہوتا اور اگر وہ جیسا میں سمجھ رہی ہوں ویسا نہیں ہے تو میں پہلے ہی معذرت کرتی ہوں۔ لیکن اگر وہ واقعی مذہب کو علمی اور عقلی بنیادوں پر سمجھنے کا ذوق رکھتا ہے اور جدید فکری چیلنجز کے تناظر میں دین کو دیکھنا چاہتا ہے، تو مولانا وحید الدین خان کی کتاب “مذہب اور جدید چیلنج” ایک سنجیدہ مطالعہ ہے، جو الحاد کے اعتراضات کا جواب صرف جذبات سے نہیں بلکہ عقلی دلائل کے ساتھ دیتی ہے۔
میرے نزدیک مسئلہ اسلام کے عدل یا اخلاق میں نہیں، بلکہ واقعات کو ان کے تاریخی، قانونی اور دعوتی سیاق سے کاٹ کر دیکھنے میں پیدا ہوتا ہے۔ جب پورا پس منظر سامنے رکھا جائے تو بہت سی الجھنیں خود بخود واضح ہو جاتی ہیں۔
-
Ahsan
Moderator February 1, 2026 at 12:28 amPlease see for details of Itmam Hujjah and its application. It also covers Mecca Conquest.
Discussion 37972 -
Abdullah Riaz
Member February 1, 2026 at 1:25 amاس میں آپ نے خود ہی اتمام حجت کی نفی کردی اب غامدی صاحب کی بات کا کیا؟ کیوں کہ بنو قریضہ کا معاملہ آپ نے جوڑ دیا بغاوت سے اور کہا کہ یہ تورات میں بھی وہی سزا ہے اور اس دور کی بھی یہی روایت تھی۔تو ٹھیک ہے انکو سزا مل گئی۔۔ تو اتمام حجت کہاں ہوا پھر ؟ مکہ والے تو بچ گئے۔
-
Juned Khan
Member February 1, 2026 at 2:19 amBhai e – tamame hujjat ke qanun ke mutabik agar ahle kitab mehkum ho kar rahe to unke liye jijiya dekar reh sakte he lekin banu kureza ne jo kam kiya woh mukhtalif tha, jesa ki upar discussion me he, banu kurezah ki saza ke baad bhi kai saal tak pehle kitab jijiya dekar rahe, phir umar radi ke waqt me wahi ravis ki in aehle kitab ne to yahi fasad fil arad ke quanun ke zel me tamam ko jila watan kar diya gaya
Sponsor Ask Ghamidi