Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Islamic Sharia پراپرٹی ہبہ اور سرکاری بیع پر انتقال

  • پراپرٹی ہبہ اور سرکاری بیع پر انتقال

    Posted by Muhammad Tahir on February 8, 2026 at 12:31 pm

    السلام علیکم جاوید احمد غامدی صاحب!

    میں آپ سے ایک شرعی و قانونی مسئلے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔

    میں نے اپنے بھائی سے ایک کروڑ روپے کی کمرشل جگہ خریدی ہے۔

    اب خرید پر تقریباً 11% ٹیکس/فیس بنتی ہے جو کم از کم 11 لاکھ کے قریب بنتی ہے۔

    سوال 1:

    اگر میں خرید کے بجائے اپنے بھائی سے اسی جگہ کا ہبہ (Gift) کروا لوں، جس پر خرچہ تقریباً 40 سے 45 ہزار بنتا ہے، تو کیا یہ طریقہ شرعاً اور قانوناً جائز ہوگا؟ جبکہ حقیقت میں یہ خرید ہی ہے۔

    سوال 2:

    اگر انتقال/رجسٹری سرکاری ریٹ کے مطابق ہو سکتی ہے، اور اس جگہ کی سرکاری قیمت تقریباً 20 لاکھ ہے، جبکہ اصل خرید ایک کروڑ کی ہے، تو کیا سرکاری ریٹ کے حساب سے انتقال کروانا جائز ہے؟ اور اس میں کوئی شرعی یا قانونی مسئلہ تو نہیں؟

    جزاک اللہ خیراً، آپ کی رہنمائی کا منتظر ہوں۔

    Dr. Irfan Shahzad replied 1 month, 1 week ago 3 Members · 3 Replies
  • 3 Replies
  • پراپرٹی ہبہ اور سرکاری بیع پر انتقال

    Dr. Irfan Shahzad updated 1 month, 1 week ago 3 Members · 3 Replies
  • Umer

    Moderator February 12, 2026 at 3:15 am

    1) خرید کو ’’ہبہ‘‘ ظاہر کرنا — شرعی حیثیت

    غامدی صاحب کے نزدیک:

    اصل اصول

    شرع میں معاملات کی بنیاد حقیقت پر ہوتی ہے، الفاظ یا کاغذی عنوانات پر نہیں۔

    اگر حقیقت میں کوئی چیز بیچی جا رہی ہو لیکن کاغذوں میں اسے ہبہ (Gift)

    ظاہر کیا جائے صرف ٹیکس بچانے کے لیے، تو یہ صریح دھوکا ہے۔

    دھوکا اور جھوٹ شرعاً ناجائز ہیں، چاہے ریاست کے ساتھ ہوں یا کسی فرد کے ساتھ۔

    لہٰذا

    اگر حقیقت میں یہ خرید و فروخت ہے، اور آپ صرف ٹیکس بچانے کے لیے اسے ہبہ ظاہر کرتے ہیں، تو

    شرعاً یہ درست نہیں۔

    قانوناً بھی یہ

    کے زمرے میں آتا ہے۔ Misrepresentation

    غامدی صاحب ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ

    ٹیکس سے بچنے کے لیے حقیقت کو چھپانا نہ شرعاً درست ہے نہ اخلاقاً۔

    2) سرکاری ریٹ کے مطابق انتقال کروانا — شرعی حیثیت

    یہ معاملہ پہلے سے مختلف ہے۔

    اصل اصول

    اگر ریاست خود کہتی ہے کہ انتقال سرکاری ریٹ پر ہوگا، تو

    اس میں کوئی دھوکا نہیں۔

    لہٰذا

    سرکاری ریٹ کے مطابق انتقال کروانا شرعاً بالکل جائز ہے۔

    اس میں کوئی جھوٹ، دھوکا یا حقیقت چھپانا شامل نہیں۔

    یہ قانونی طور پر بھی درست ہے، کیونکہ یہ حکومت کا مقرر کردہ طریقہ ہے۔

    اصل قیمت ایک کروڑ ہو یا دو کروڑ، اگر حکومت کہتی ہے کہ رجسٹری 20 لاکھ کے سرکاری ریٹ پر ہوگی، تو یہ جائز ہے۔

  • Umer

    Moderator February 12, 2026 at 3:16 am

    @Irfan76

    Dr. Irfan Shahzad Sahab. Kindly share your insight as well.

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar February 12, 2026 at 4:28 am

    I have the same understanding.

You must be logged in to reply.
Login | Register