Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions اسلام میں آزمائش کا تصور: معذور بچے اور ناموافق حالات میں عدلِ الٰہی

  • اسلام میں آزمائش کا تصور: معذور بچے اور ناموافق حالات میں عدلِ الٰہی

    Posted by ZAHRAN ALI KHAN Ali Khan on July 29, 2026 at 4:53 am

    سوال کی تفصیل:

    محترم علماء کرام،

    اسلام میں زندگی کو آزمائش (ابتلاء/آزمائش)، انسانی تنوع، جواب دہی، اور عدلِ الٰہی کے تصور کے حوالے سے میرا ایک بنیادی سوال ہے۔

    1۔ شدید معذور بچوں کی تخلیق کی حکمت:

    عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ افراد جو عقل، شعور یا ضروری جسمانی صلاحیتوں سے محروم ہوں (مثلاً وہ بچے جو شدید ذہنی یا جسمانی معذوری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں)، شرعی ذمہ داری (تکلیف) اور دنیاوی آزمائش سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ اگر وہ اس آزمائش کے مکلف نہیں ہیں، تو پھر دنیا میں ان کی تخلیق کی حکمت کیا ہے؟ کیا ان کا وجود بنیادی طور پر ان کے والدین، اہلِ خانہ اور معاشرے کے لیے آزمائش ہے؟ نیز ان کی انفرادی دنیاوی تکلیف کے بارے میں عدلِ الٰہی کا تقاضا کس طرح پورا ہوتا ہے؟

    2۔ ناموافق ماحول میں جواب دہی:

    جو افراد انتہائی غربت، ظلم و ستم سے بھرپور ماحول، یا مجرمانہ معاشرتی پس منظر میں پیدا ہوتے ہیں اور بعد میں انہی حالات کے زیرِ اثر غلط راستہ اختیار کر لیتے ہیں، اگر ان کے حالات، ذہنی و سماجی اثرات، اور صحیح رہنمائی سے محرومی کو ایک معتبر عذر (عذرِ شرعی) مانا جاتا ہے، جس کی بنا پر ان کی سزا میں کمی یا معافی ہو سکتی ہے، تو پھر ان کی دنیاوی آزمائش کو منصفانہ کیسے قرار دیا جائے گا؟

    مزید برآں، ایک ایسے شخص کے درمیان جو انتہائی دشوار، گمراہ کن اور ناموافق ماحول میں پروان چڑھا ہو، اور دوسرے ایسے شخص کے درمیان جسے نیکی اور ہدایت کے لیے سازگار ماحول میسر آیا ہو، عدلِ الٰہی کس طرح کامل انصاف قائم کرتا ہے؟

    براہِ کرم قرآنِ کریم کی تعلیمات، خصوصاً ابتلاء، انسانی اختیار (Free Will)، اور عدلِ الٰہی کے اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔

    Dr. Irfan Shahzad replied 4 hours, 11 minutes ago 2 Members · 2 Replies
  • 2 Replies
  • اسلام میں آزمائش کا تصور: معذور بچے اور ناموافق حالات میں عدلِ الٰہی

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar July 29, 2026 at 11:01 pm

    ایسے معذور افراد دوسرے لوگوں کی آزمایش ہوتے ہیں۔ ہر نفس جس نے کوئی تکلیف اٹھائی خدا اسے اس کی تکلیف کا صلہ قیامت کے دن دے گا اور وہ صلہ اتنا زیادہ ہوگا کہ وہ خوش ہو جائے گا کہ چند دن کی تکلیف کے بدلے اسے ابدی نعمتیں میسر آئیں۔

    قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ ہر شخص کو جو بھی میسر آیا اسی کے لحاظ سے اس کا حساب ہوگا۔

    برے حالات میں پلنے والوں کے ضمیر بھی مردہ نہیں ہو جاتے۔ وہ جو برائی دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں، وہ اپنے ساتھ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ چاننچہ انھیں سمجھنا چاہیے کہ وہ دوسروں کو بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

    تاہم، کسی کے پاس کوئی معقول عذر ہوگا تو خدا اس کے لحاظ سے اس کی سزا میں کمی بھی کر سکتا ہے اور معاف بھی کر سکتا ہے۔

    جو اچھے حالات میں پلا بڑھا اس کی ذمہ داری زیادہ ہو جاتی ہے کہ وہ کوئی برا کام نہ کرے ورنہ اس کا حساب اس وجہ سے زیادہ سخت ہوتا کہ اس کے ماحول نے اسے برائی میں مبتلا کرنے میں اپنا اثر نہیں دکھایا تھا۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar July 29, 2026 at 11:03 pm

    وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

    تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا، لیکن اُس نے یہ اِس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو (مائدہ 5: 48)

You must be logged in to reply.
Login | Register