-
اسلام میں آزمائش کا تصور: معذور بچے اور ناموافق حالات میں عدلِ الٰہی
سوال کی تفصیل:
محترم علماء کرام،
اسلام میں زندگی کو آزمائش (ابتلاء/آزمائش)، انسانی تنوع، جواب دہی، اور عدلِ الٰہی کے تصور کے حوالے سے میرا ایک بنیادی سوال ہے۔
1۔ شدید معذور بچوں کی تخلیق کی حکمت:
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ افراد جو عقل، شعور یا ضروری جسمانی صلاحیتوں سے محروم ہوں (مثلاً وہ بچے جو شدید ذہنی یا جسمانی معذوری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں)، شرعی ذمہ داری (تکلیف) اور دنیاوی آزمائش سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ اگر وہ اس آزمائش کے مکلف نہیں ہیں، تو پھر دنیا میں ان کی تخلیق کی حکمت کیا ہے؟ کیا ان کا وجود بنیادی طور پر ان کے والدین، اہلِ خانہ اور معاشرے کے لیے آزمائش ہے؟ نیز ان کی انفرادی دنیاوی تکلیف کے بارے میں عدلِ الٰہی کا تقاضا کس طرح پورا ہوتا ہے؟
2۔ ناموافق ماحول میں جواب دہی:
جو افراد انتہائی غربت، ظلم و ستم سے بھرپور ماحول، یا مجرمانہ معاشرتی پس منظر میں پیدا ہوتے ہیں اور بعد میں انہی حالات کے زیرِ اثر غلط راستہ اختیار کر لیتے ہیں، اگر ان کے حالات، ذہنی و سماجی اثرات، اور صحیح رہنمائی سے محرومی کو ایک معتبر عذر (عذرِ شرعی) مانا جاتا ہے، جس کی بنا پر ان کی سزا میں کمی یا معافی ہو سکتی ہے، تو پھر ان کی دنیاوی آزمائش کو منصفانہ کیسے قرار دیا جائے گا؟
مزید برآں، ایک ایسے شخص کے درمیان جو انتہائی دشوار، گمراہ کن اور ناموافق ماحول میں پروان چڑھا ہو، اور دوسرے ایسے شخص کے درمیان جسے نیکی اور ہدایت کے لیے سازگار ماحول میسر آیا ہو، عدلِ الٰہی کس طرح کامل انصاف قائم کرتا ہے؟
براہِ کرم قرآنِ کریم کی تعلیمات، خصوصاً ابتلاء، انسانی اختیار (Free Will)، اور عدلِ الٰہی کے اصولوں کی روشنی میں اس مسئلے کی تفصیلی وضاحت فرمائیں۔
Sponsor Ask Ghamidi