Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Sources of Islam اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ کے معنی ؟؟

Tagged: 

  • اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ کے معنی ؟؟

    Posted by Aejaz Ahmed on November 4, 2025 at 1:49 pm

    قرآن میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ :

    *اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآء ؕ۔ النساء 4:34*

    *مرد عورتوں پر نگران ہیں۔*

    یہاں مرد سے مراد کیا ہے ؟ شوہر، بیوی پر نگران ہے؟ نا باپ بیٹی پر نگران ہے نا بھائی بہن پر نگران ہے نا بیٹا ماں پر نگران ہے ؟ اسکے اصل معنی کیا ہیں ؟؟ یا یہ کہ خاندان کا کوئی بھی مرد خاندان کی عورتوں پر نگران ہے ؟

    Afia Khan replied 3 months, 4 weeks ago 2 Members · 1 Reply
  • 1 Reply
  • اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ کے معنی ؟؟

    Afia Khan updated 3 months, 4 weeks ago 2 Members · 1 Reply
  • Afia Khan

    Member November 4, 2025 at 5:27 pm

    Quran: The term قوامون describes the husband’s role as the provider and protector of the family, which includes financial responsibility and proper care۔

    یہ خاندان کی تنظیم کے لیے اللہ نے اپنا قانون بیان فرمایا ہے۔ خاندان کا ادارہ بھی، اگر غور کیجیے تو ایک چھوٹی سی ریاست ہے۔ جس طرح ہر ریاست اپنے قیام و بقا کے لیے ایک سربراہ کا تقاضا کرتی ہے، اُسی طرح یہ ریاست بھی ایک سربراہ کا تقاضا کرتی ہے۔ سربراہی کا مقام اِس ریاست میں مرد کو بھی دیا جا سکتا ہے اور عورت کو بھی۔ قرآن نے بتایا ہے کہ یہ مرد کو دیا گیا ہے۔ آیت میں اِس کے لیے ’قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ‘ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ عربی زبان میں ’قام‘ کے بعد ’علٰی‘ آتا ہے تو اِس میں حفاظت، نگرانی، تولیت اور کفالت کا مضمون پیدا ہو جاتا ہے۔ سربراہی کی حقیقت یہی ہے اور اِس میں یہ سب چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ اپنے اِس فیصلے کے حق میں قرآن نے دو دلیلیں دی ہیں۔ استاذ امام اِن کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

    ’’ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر فضیلت بخشی ہے۔ مرد کو بعض صفات میں عورت پر نمایاں تفوق حاصل ہے جن کی بنا پر وہی سزا وار ہے کہ قوامیت کی ذمہ داری اُسی پر ڈالی جائے۔ مثلاً محافظت و مدافعت کی جو قوت و صلاحیت یا کمانے اور ہاتھ پاؤں مارنے کی جو استعداد و ہمت اُس کے اندر ہے، وہ عورت کے اندر نہیں ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں زیر بحث کلی فضیلت نہیں ہے، بلکہ صرف وہ فضیلت ہے جو مرد کی قوامیت کے استحقاق کو ثابت کرتی ہے۔ بعض دوسرے پہلو عورت کی فضیلت کے بھی ہیں، لیکن اُن کو قوامیت سے تعلق نہیں ہے۔ مثلاً عورت گھر در سنبھالنے اور بچوں کی پرورش و نگہداشت کی جو صلاحیت رکھتی ہے، وہ مرد نہیں رکھتا۔ اِسی وجہ سے قرآن نے یہاں بات ابہام کے انداز میں فرمائی ہے جس سے مرد اور عورت، دونوں کا کسی نہ کسی پہلو سے صاحب فضیلت ہونا نکلتا ہے۔ لیکن قوامیت کے پہلو سے مرد ہی کی فضیلت کا پہلو راجح ہے۔ دوسری یہ کہ مرد نے عورت پر اپنا مال خرچ کیا ہے۔ یعنی بیوی بچوں کی معاشی اور کفالتی ذمہ داری تمام اپنے سر اٹھائی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری مرد نے اتفاقیہ یا تبرعاً نہیں اٹھائی ہے، بلکہ اِس وجہ سے اٹھائی ہے کہ یہ ذمہ داری اُسی کے اٹھانے کی ہے۔ وہی اِس کی صلاحیتیں رکھتا ہے اور وہی اِس کاحق ادا کر سکتا ہے۔‘‘

    (تدبر قرآن ۲/ ۲۹۱

You must be logged in to reply.
Login | Register