-
Sade Zarya
اگر سورۂ نور میں بیان کردہ ملنے جلنے کے آداب صرف سدّ ذرائع کے احکام ہیں، جیسا کہ غامدی صاحب فرماتے ہیں، اور ان کے نزدیک سدّ ذرائع کی خلاف ورزی چھوٹا گناہ ہے، تو پھر سورۂ نور کے آغاز میں “فرضناہا” (ہم نے اسے فرض قرار دیا) کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اگر کوئی چیز فرض ہے، تو کیا اس کی خلاف ورزی چھوٹا گناہ شمار ہوگی یا بڑا گناہ؟
Sponsor Ask Ghamidi
In the last 2081 days, 9,645 registered users have posted 68,884 messages under 20,287 unique topics on Ask Ghamidi.