Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Islamic Sharia عورت پر بہتان

  • عورت پر بہتان

    Posted by Zohan Malik on March 16, 2025 at 11:05 pm

    السلام علیکم اگر کوئی بندہ کسی عورت پر تہمت لگائے بدکاری کی مثلا اپنے دوستوں سے کہے ادھر ادھر بات کریں کہ اس عورت نے میرے ساتھ بدکاری کی ہے میں نے اس کے ساتھ کی ہے اور پھر کچھ عرصے بعد اسے خیال ائے کہ میں نے غلط کیا ہے اور اگر وہ اپنے گناہ کی توبہ کرنا چاہتا ہے تو کیا وہ گناہ معاف ہو سکتا ہے کیا وہ حقوق العباد میں ائے گا حالانہ کے حقوق العباد کے بارے میں تو پہلے ایسے اتا ہے کہ پہلے اُس سے جا کر معافی مانگنی چاہیے جس کے ساتھ زیادتی کی ہو لیکن تہمت کے اندر اور معاملہ ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اس سے بے خبر ہوتا ہے اگر خبر ہو تو پھر تو الگ بات ہے اگر بے خبر ہو تو تب بھی اس سے معافی مانگنا لازمی ہے اگر اِس ڈر سے بندہ اُس سے معافی نہ مانگ سکے کہ اس کو تکلیف نہ پہنچے اور شرمندہ ہو کہ میں نے اس پر تہمت لگائی تھی تو اس صورتحال میں کیا کرنا چاہیے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ خدا سے معافی مانگی جائے اور اس کے حق میں دعا کی جائے

    Dr. Irfan Shahzad replied 1 week, 6 days ago 2 Members · 1 Reply
  • 1 Reply
  • عورت پر بہتان

    Dr. Irfan Shahzad updated 1 week, 6 days ago 2 Members · 1 Reply
  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar March 18, 2025 at 12:49 pm

    اگر فرد کو علم نہیں ہوا تو اس سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔ جن کے آگے یہ بات کی ہے ان کے سامنے وضاحت کر دینی چاہیے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register