-
Marriage Between Muslim And Non Muslim
قران کہتا ہے کہ ایک مسلمان مرد غیر مسلم عورت سے شادی کر سکتا ہے غامدی صاحب اس کو اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ چونکہ مرد ایک گھر کا سربراہ ہوتا ہے معاش کے اعتبار سے بھی اور دیگر اعتبار سے بھی تو وہ اپنے گھر پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس طرح سے وہ اس عورت کو توحید کی طرف لے آ سکتا ہے۔
عورت کو یہ اجازت اس لیے نہیں دی گئی کیونکہ وہ گھر پر اس طرح سے اثر انداز نہیں ہوتی اور اس پر ہی مرد اثر انداز ہوتا ہے تو وہ اپنے دین سے اور توحید سے برخاست بھی ہو سکتی ہے۔
میرے دو سوالات ہیں پہلا سوال یہ کہ اگر دین ایک انسان استدلال کی بنیاد پر مان سکتا ہے اور مانتا ہے اور ہمیں قران میں بھی اسی بات کی تعلیم دی گئی ہے تو کیا یہ بات ناگزیر نہیں کہ ایک مرد جو کہ مسلمان ہے وہ ایک غیر مسلم خاتون سے شادی کرتا ہے اور پھر اس پر اثر انداز ہوتا ہے تاکہ وہ عورت مسلمان بنے کیا یہ ایک طرح کی زبردستی نہیں ہے یا پھر ایک طرح کا دھوکہ ۔ اخر یہاں پر دین اس عورت کا امتحان کیوں نہیں لیتا اس لحاظ میں جس لحاظ میں باقیوں کا امتحان لیا جا رہا ہے۔
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر اب ایک مسلمان عورت اپنے عقیدے پر قائم ہے اور وہ استدلال کی بنا پر اپنے دین کو جانتی اور مانتی ہے تو اخر کار دین اس پر اعتماد کیوں نہیں کرتا کیوں دین یہ کہتا ہے کہ نہیں چونکہ وہ اثر انداز نہیں ہے تو وہ اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتی اور کیا ہو کہ اگر وہ عورت اثر انداز ہو یا وہ ایسے غیر مسلم گھرانے میں ہو کہ جہاں پہ وہی اثر انداز ہو یا باہمی اثر اندازی ہو خاوند اور بیوی کے درمیان تو اخر کار یہاں پر کون سا اصول لاگو ہوگا۔
Sponsor Ask Ghamidi