-
Prophet’S Authority Over Halal And Haram
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ، يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَلَا لُقَطَةُ مُعَاهِدٍ، إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُ فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُ فَلَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ .
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خبردار ! مجھے قرآن کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز بھی دی گئی ہے ۔ عنقریب ایسے ہو گا کہ ایک پیٹ بھرا ( آسودہ حال ) آدمی اپنے تخت یا دیوان پر بیٹھا کہے گا کہ اسی قرآن کو اختیار کر لو ، جو اس میں حلال ہے اسے حلال جانو اور جو اس میں حرام ہے اسے حرام سمجھو ۔ خبردار ! تمہارے لیے پالتو گدھے ، نیش دار درندے اور کسی ذمی ( کافر ) کا گرا پڑا مال اٹھا لینا حلال نہیں ، الا یہ کہ اس کا مالک اس سے بے پروا ہو ۔ اور جو کوئی کسی قوم کے پاس جائے تو ان پر واجب ہے کہ اس کی مہمانی کریں ، اگر وہ اس کی مہمانی نہ کریں تو اسے حق حاصل ہے کہ اپنی مہمانی کے مثل ان سے بذریعہ طاقت حاصل کر لے ۔‘‘
Abu Dawood 4604
Now if what is made haram by prophet is actually haram, (as I’ve understood) is eating and drinking by left hand even with spoon and glass as medium respectively, haram? Because they stopped from it. Etc. what is Ghamidi sahab’s interpretation of this hadith. Please give detailed answer
Sponsor Ask Ghamidi