Forums › Forums › Islamic Sharia › Shikari Kutta Ka Murdar
Tagged: Dietary
-
Shikari Kutta Ka Murdar
Posted by Raja Haseeb on August 28, 2025 at 3:22 pmKia shakiri kutta ka murdar halal ha agar wo completly mar gayya ho
Umer replied 1 day, 14 hours ago 2 Members · 1 Reply -
1 Reply
-
Shikari Kutta Ka Murdar
-
Umer
Moderator August 30, 2025 at 4:01 amسدھایا ہوا جانور اگر شکار کو پھاڑ دے تو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی ہے کہ اُس کا حکم بھی یہی ہے۔ اِس طرح کا شکار اگر زندہ نہ بھی ملے تو اُسے ’میتۃ‘نہیں سمجھنا چاہیے۔ =6=ارشاد فرمایا ہے :
یَسْئَلُوْنَکَ، مَاذَآ اُحِلَّ لَھُمْ؟ قُلْ: اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ، وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ، تُعَلِّمُوْنَھُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ، فَکُلُوْا مِمَّآ اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ، اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ.(المائدہ ۵: ۴)’’وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لیے کیا چیز حلال ٹھیرائی گئی ہے؟ کہہ دو، تمام پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال ہیں اور شکاری جانوروں میں سے جن کو تم نے شکار پر دوڑانے کے لیے سدھا لیا ہے، جنھیں تم اُس علم میں سے کچھ سکھا کر سدھاتے ہو جو اللہ نے تمھیں سکھایا ہے، (اُن کا کیا ہوا شکار بھی حلال ہے)۔ اِس لیے جو وہ تمھارے لیے روک رکھیں، اُس میں سے کھاؤ اور (جانور کو شکار پر چھوڑنے سے پہلے) اُس پر اللہ کا نام لے لیا کرو =7= اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔‘‘(Quran 5:4)
مائدہ کی یہ آیت جس سیاق میں آئی ہے، اُس سے واضح ہے کہ اِس سے اوپر کی آیت میں درندے کے پھاڑے ہوئے جانور کو چونکہ صرف اُس صورت میں جائز قرار دیا ہے جب اُس کو زندہ حالت میں ذبح کر لیا جائے، اِس لیے یہ سوال اُس کے بارے میں پیدا ہوا کہ سدھایا ہوا جانور اگر شکار کو پھاڑ دے اور شکار ذبح کی نوبت آنے سے پہلے ہی دم توڑ دے تو اُس کا حکم کیا ہو گا؟ اِس سوال کا جواب اِس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ اِس طرح کے جانور کا اُسے پھاڑنا ہی اُس کا تذکیہ ہے، لہٰذا اُسے ذبح کیے بغیر کھایا جا سکتا ہے۔ تاہم اِس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اُسے اپنے مالک کے لیے روک رکھے۔ اُس میں سے اُس نے اگر کچھ کھا لیا ہے تو اُس کا کیا ہوا شکار جائز نہ رہے گا،اِس لیے کہ یہ اب اُس کا شکار نہیں ہے،جس نے اُسے اللہ کا نام لے کرچھوڑا تھا۔ آیت میں یہ شرط ’مِمَّآ اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ‘ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ اِس معاملے میں درندے اور پرندے کے شکار کے درمیان فرق کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ معلوم ہے کہ اِس حد تک تربیت جس طرح درندے قبول کر لیتے ہیں ،باز ،عقاب اور شاہین بھی قبول کر لیتے ہیں۔
(Excerpt from Meezan: Javed Ahmed Ghamidi)
Sponsor Ask Ghamidi