Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Sources of Islam Can Non-actions Be Categorized As Sunnah Like Murdar, Pork Meat?

Tagged: ,

  • Can Non-actions Be Categorized As Sunnah Like Murdar, Pork Meat?

    Posted by Abdur Rahman on October 23, 2025 at 6:34 am

    السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبركاته

    میرا سوال ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب سے ہے

    آپ نے اپنی پوسٹ میں ایک صاحب کو جواب دیتے ہوئے یہ لکھا ہے :”آخری نکتہ اُنھوں نے یہ اٹھایا ہے کہ شراب کی حرمت سنت کیوں نہیں ہے۔اِس پر عرض ہے کہ سنت عملی چیزوں کا نام ہے۔ عدمِ عمل کو اس میں شامل نہیں کیا جاتا، یعنی سنت وہ کام ہیں جو کر کے دکھائے جاتے ہیں، نہ کہ وہ جو نہیں کیے جاتے۔ شراب نہ پینے کو سنت میں شمار کرنا تکنیکی طور پر درست نہیں۔”

    میرا اس پر سوال ہے کہ پھر غامدی صاحب نے مردار ، خون، سور کا گوشت ، غیراللہ کے نام پر ذبح کئے گئے جانور کی حرمت کو کیوں سنت کی فہرست میں ذکر کیا ہے ـ

    Abdur Rahman replied 5 months ago 3 Members · 14 Replies
  • 14 Replies
  • Can Non-actions Be Categorized As Sunnah Like Murdar, Pork Meat?

    Abdur Rahman updated 5 months ago 3 Members · 14 Replies
  • Muhammad Naeem Khan

    Member October 23, 2025 at 4:40 pm

    غامدی صاحب نے مبادی تدبرسنت میں سنت کے سات اصول بیان کئے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ کون کون سی چیزیں سنت ہوسکتی ہیں اور کون سی نہیں۔

    پہلا یہ کہ وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے دین ہو جیسے رسول اللہ نے تلوار سے جنگ کی، اونٹ کی سواری کی وغیرہ یہ اپنی نوعیت میں دین نہیں ہے۔

    دوسرا یہ کہ سنت کا تعلق تمام تر عملی زندگی سے اس کا علم ، عقیدہ وغیرہ سے کوئ تعلق نہیں ہے۔

    تیسرا اصول یہ ہے کہ عملی زندگی کی وہ چیزیں بھی سنت نہیں ہوسکتی جن کی ابتدا قرآن سے ہوی ہےجیسے چور کے ہاتھ کاٹنا، زانیوں کو کوڑے لگانا وغیرہ جن کی ابتدا

    قرآن سے ہوئ ہےلیکن نماز، روزہ وغیرہ کا ذکر ہمیں قرآن سے ملتا ہے لیکن ان کی ابتدا قرآن سے نہیں ہوی ہے اس لئے یہ سنت کے دائرے میں آتے ہیں۔

    چوتھا اصول یہ کہ سنت پر بطور تطوع عمل کرنے سے بھی وہ کوئ نیا سنت نہیں بن جاتی۔ جیسے نفلی نمازیں، نفلی روزے وغیرہ

    پانچواں اصول یہ ہے کہ جو چیزیں بیان فطرت کے طور پر آئ ہیں وہ بھی سنت نہیں کہلاتیں

    چھٹا اصول یہ ہے کہ وہ چیزیں بھی سنت نہیں ہوسکتیں جو رسول اللہ نے لوگوں کی رہنمائ کے لئے بیان کی ہوں جیسے نماز میں قعدے میں اذکار وغیرہ

    ساتواں اور آخری اصول یہ ہے کہ جس طرح قرآن خبر واحد سے ثابت نہیں ہوتا اس ہی طرح سنت بھی خبر واحد سے ثابت نہیں ہوتی۔

    اس لئے جن چیزوں کی ذکر آپ نے کیا ہے وہ غامدی صاحب کے سنت کے تیسرے اصول کے مطابق سنت قرار پاتے ہیں۔ سورہ البقرہ کی ایت ۱۷۳ کی تفسیر میں غامدی صاحب اس سوال کا جواب دیتے ہیں:

    اِس باب میں شریعت کا موضوع صرف وہ جانور اور اُن کے متعلقات ہیں جن کے طیب یا خبیث ہونے کا فیصلہ تنہا عقل و فطرت کی رہنمائی میں کر لینا انسان کے لیے ممکن نہ تھا۔ سؤر انعام کی قسم کے بہائم میں سے ہے، لیکن وہ درندوں کی طرح گوشت بھی کھاتا ہے۔ پھر اُسے کھانے کا جانورسمجھا جائے یا نہ کھانے کا؟ وہ جانور جنھیں ہم ذبح کر کے کھاتے ہیں، اگر تذکیے کے بغیر مر جائیں تو اُن کا حکم کیا ہونا چاہیے؟ اِنھی جانوروں کا خون کیا اُن کے بول و براز کی طرح نجس ہے یا اُسے حلال و طیب قرار دیا جائے گا؟ یہ اگر اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کر دیے جائیں تو کیا پھر بھی حلال ہی رہیں گے؟ اِن سوالوںکا کوئی واضح اور قطعی جواب چونکہ انسان کے لیے دینا مشکل تھا، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعے سے اُسے بتایا کہ سؤر، خون، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور بھی کھانے کے لیے پاک نہیں ہیں اور انسان کو اُن سے پرہیز کرنا چاہیے۔

    • Abdur Rahman

      Member October 23, 2025 at 10:39 pm

      تیسرے اصول میں تو عملی چیزوں کی بات کی گئی ہے

  • Muhammad Naeem Khan

    Member October 24, 2025 at 1:03 am

    میرے بھای آپ کے خیال میں کھانا پینا بغیر عمل کے تکمیل پاتا ہے اور اس میں کسی عمل کا دخل نہیں ہوتا

    • Abdur Rahman

      Member October 24, 2025 at 1:20 am

      شراب ، سود اور جوے کی حرمت پھر کیوں سنت نہیں ؟ یہ عمل بھی ہیں اور ان کی حرمت قرآن سے پہلے بھی تھی

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar October 24, 2025 at 5:58 am

    مشتبہ حرمتوں کو دین کو فیصلہ دینا تھا وہ اس نے دے کر اسے دین بنا دیا جو سنت کی حیثیت سے جاری ہوگیا۔
    فطری امور میں سنت ان اعمال پر مشتمل ہے جن سے سب کو لا محالہ سابقہ پیش آتا ہے، جیسے ناخن تراشنا، منہ اور ناک کی صفائی، جنابت اور حیض و نفاس کے بعد غسل۔ شراب کا یہ معاملہ نہیں۔ یہ نہ مشتبہ ہے اور نہ ایسی عام کہ ہر ایک کو ہمہ دستیاب ہے جسے نہ پینے کا فیصلہ سب کو کرنا ہے

    ۔ شراب، شیر چیتے کی حرمت کی طرح ایک فطری حرمت ہی ہے، لیکن اس کا ابتلا زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی حرمت کی تاکید کی گئی ہے۔ اسے سنت میں شمار کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

    • Abdur Rahman

      Member October 24, 2025 at 7:06 am

      جزاك الله خيرا محترم کیا کسی چیز کی حرمت کو سنت قرار دینا تکنیکی طور پر درست ہے یعنی کچھ کرنا یہ تو عمل ہے لیکن کچھ نہ کرنا یہ کیسے عمل ہے

  • Muhammad Naeem Khan

    Member October 25, 2025 at 7:49 am

    میرے بھائ آپ لکھتے ہیں:

    شراب ، سود اور جوے کی حرمت پھر کیوں سنت نہیں ؟ یہ عمل بھی ہیں اور ان کی حرمت قرآن سے پہلے بھی تھی

    میرے نزدیک یہاں غلطی چیزوں کو الگ الگ نہ کرنے کی وجہ سے ہورہی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جن حرمتوں کا بیان آپ نے کیا ہے وہ فطری حرمات ہیں۔ اصول یہی ہے کہ جس چیز کی ابتدا جہاں سے ہوگی اس کو اس ہی کیٹیگری میں رکھا جائے گا۔ آپ نے صرف تین چیزوں کا ذکر کیا لیکن فطری محرمات تو اور بھی بہت سے ہیں جیسے جھوٹ نہ بولنا، چوری نہ کرنا، کسی کو ناحق قتل نہ کرنا، بول و براز وغیرہ ۔لیکن یہ تمام چیزیں بھی سنت میں نہیں آتیں۔ ان چیزوں کے بارے میں اگر کسی ایسے شخص سے آپ پوچھیں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ بھی ان کو برا کہے گا کیوں کہ یہ تمام چیزیں انسان کی فطرت میں شامل ہیں۔

    ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جس چیز کی ممانعت ہے اس کا آغاز کہاں سے ہوا ہے فطرت سے یا پیغمبروں کی روایت سے یا قرآن کا حکم ہے

    یہ میرا فہم ہے آپ کو اس سے اختلاف کا حق ہے اور یقینا اس میں غلطی کی گنجائش ہے۔

    ایک گزارش ہے کہ آپ نے عرفان شہزاد صاحب کے جواب میں لکھا:

    جزاك الله خيرا محترم کیا کسی چیز کی حرمت کو سنت قرار دینا تکنیکی طور پر درست ہے یعنی کچھ کرنا یہ تو عمل ہے لیکن کچھ نہ کرنا یہ کیسے عمل ہے

    اس کی کوئ مثال پیش کریں تاکہ آپ کی بات کو سمجھنے میں آسانی ہو شکریہ۔

    • Abdur Rahman

      Member October 25, 2025 at 8:07 am

      ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب نے ایک صاحب کے جواب میں یہ لکھا تھا کہ شراب کی حرمت سنت اس لئے نہیں کیوں کہ سنت کا تعلق عملی چیزوں سے ہے عدم عمل کو اس میں شامل نہیں کیا جاتا ۔

      اسی پر میرا وه سوال تھا جو میں نے اپنی پہلی پوسٹ میں کیا ۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar October 26, 2025 at 5:57 am

    آپ کا سوال درست ہے۔ عدم عمل یا قطع عمل سور کا گوشت نہ کھانے میں بھی ہے۔ اسلیے عدم عمل کا قطع عمل کو سنت میں شمار نہ کرنے کے الفاظ سے بات واضح نہیں ہوتی۔

    بہرحال اسے مزید بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    • Abdur Rahman

      Member October 26, 2025 at 6:15 am

      یعنی ان چیزوں کو سنت کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا ؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar October 26, 2025 at 6:18 am

    خارج کیون کیا جایے گا ؟

    • Abdur Rahman

      Member October 26, 2025 at 8:38 am

      کیوں کہ مردار خون سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کے ذبیحہ کی حرمت عملی چیزیں نہیں ہیں

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar October 26, 2025 at 11:07 pm

    یہ غلط فہمی میری اختیار کردہ تعبیر سے پیدا ہو رہی ہے۔

    اس کے لیے بہتر تعبیر اختیار کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ چیزیں بہرحال سنت ہیں کیونکہ قرآن مجید میں یہ پہلی بار حرام نہیں ہوئیں۔

    • Abdur Rahman

      Member October 27, 2025 at 12:29 am

      محترم میرا اشکال یہ ہے کہ غامدی صاحب نے سنت کے دوسرے اصول میں یہ بیان کیا ہے کہ سنت کا تعلق تمام تر عملی زندگی سے ہے ۔ تو پھر کسی چیز کی حرمت کو سنت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ کسی چیز کی حرمت عمل نہیں بلکہ علم ہے

You must be logged in to reply.
Login | Register