Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Sources of Islam Origin And Sunnah Status Of Brisk Walking In Sai Between Safa And Marwah

Tagged: , , ,

  • Origin And Sunnah Status Of Brisk Walking In Sai Between Safa And Marwah

    Posted by Saddamhusen Saiyed on October 30, 2025 at 11:02 pm

    Assalāmu ‘alaykum,

    My question is regarding the sa‘i between Ṣafā and Marwah.

    Why do pilgrims performing Ḥajj or ‘Umrah walk briskly (or run) between the two hills? I’m aware that a popular explanation connects this to the story of Hājar and Ismā‘īl, but since Ghamidi sahab has clarified that this story is not authentic and that Ṣafā and Marwah were actually the qurbangāh (sacrifice site) around which Ismā‘īl was made to pass ,I’m trying to understand the reason for this particular manner of walking.

    Also, as we know, certain practices are classified as Sunnah So my question is:

    Was this brisk walking or running between Ṣafā and Marwah also institutionalized by the Prophet (sws) as part of the Sunnah?

    If yes, what is its significance or reasoning?

    And if not, when and how did this practice become part of the Ḥajj and ‘Umrah rites?

    Dr. Irfan Shahzad replied 3 months, 1 week ago 2 Members · 1 Reply
  • 1 Reply
  • Origin And Sunnah Status Of Brisk Walking In Sai Between Safa And Marwah

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar October 31, 2025 at 7:38 am

    See Dr Amir Gazdar’s article on this topic

    ….

    صفا ومروہ کی سعی کے کچھ حصے میں تیز دوڑنے کا حکم

    سوال: صفا ومروہ کے طواف کے دواران میں ایک حصے میں لوگ تیز دوڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اِس کی کیا وجہ ہے اور اِس کا حکم دین میں کہاں وارد ہوا ہے؟

    سائل: سعید اکبر

    جواب: قدیم زمانے میں صفا ومروہ کی پہاڑیاں اور اِن کے مابین کا پورا حصہ، جہاں سعی کی جاتی ہے، کھلے آسمان تلے ہوا کرتا تھا۔ اُس عہد میں نہ اِن پہاڑیوں کے اوپر کوئی عمارت تعمیر ہوئی تھی اور نہ اِن کے مابین کوئی عمارت موجود تھی۔ حجاج ومعتمرین اُس زمانے میں کھلے آسمان تلے اِن پہاڑیوں پر چڑھتے اور پھر اِن سے اُتر کر طواف کے یہ پھیرے لگاتے تھے۔ علاوہ ازیں صفا سے اتر کر مروہ کی طرف آگے بڑھتے ہوئے کچھ فاصلے پر راستے میں ایک حصہ نشیبی زمین کا ہوا کرتا تھا، جو مروہ کی طرف جانے اور وہاں سے واپس صفا کی طرف آتے ہوئے راستے میں پڑتا تھا۔ پہاڑوں کے درمیان بارش کے پانی کا بہاؤ یہاں سے ہوا کرتا تھا۔ یہاں ڈھلان اور ریت والی نرم زمین ہوا کرتی تھی۔ چنانچہ سعی کرنے والا جب یہاں پہنچتا تو اُس کے لیے عام چال چلنا مشکل ہوجاتا۔ اِس نشیبی حصے میں اُس کو بہرصورت تیز ہی دوڑنا پڑتا تھا۔ رسالت مآب ﷺ کے عہد میں بھی یہی صورتِ حال تھی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر اِس طواف میں رسول اللہ ﷺ جب صفا سے اُترتے تو معمول کی چال چلتے، یہاں تک کہ جب آپ کے قدم اِس نشیبی وادی کے ڈھلان میں اترنے لگتے تو آپ تیز دوڑتے، یہاں تک کہ اِس نشیبی وادی سے نکل جاتے ۔ (دیکھیے: مسند احمد، رقم ۱۵۱۷۲)

    جب کہ آج کے زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ صفا ومروہ کی پہاڑیاں اور اِن کے مابین کے طواف کی پوری جگہ مسجد حرام کی نئی عمارت سے متصل باقاعدہ ایک عمارت کے تحت آگئی ہے، بلکہ سعی کی پوری جگہ پر کم وبیش سیدھا اور جدید طرز کا پختہ فرش بنادیا گیا ہے، تا کہ حجاج ومعتمرین کے لیے سعی کرتے ہوئے دھوپ، گرمی اور گرد وغبار سے بچا کر سہولت اور آسانی پیدا کی جائے۔ اِس عمارت میں قدیم زمانے کی نشیبی وادی کے آغاز اور انتہا کی نشان دہی کے لیے ماضی قریب میں دونوں جگہوں پر سبز رنگ کے ستوں اور سبز رنگ ہی کے قمقمے لگائے گئے تھے، جب کہ آج کل اِس پورے حصے کی چھت میں سبز رنگ کے طویل قمقمے لگادیے گئے ہیں، تا کہ لوگ یہ جان سکیں کہ صفا ومروہ کے ما بین یہ حصہ تھا، جہاں عہدِ قدیم میں ڈھلان اور نشیبی زمین ہونے کی وجہ سے لوگ یہاں ذرا تیز دوڑتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہاں اِسی وجہ سے دوڑے تھے۔

    غرض یہ کہ یہ بات تو بالکل قطعی ہے کہ صفا ومروہ کی دونوں پہاڑیاں من جملہ شعائر اللہ ہیں، جیسا کہ قرآن مجید نے صراحت کی ہے۔ اِسی طرح یہ بھی شریعت میں ایک یقینی بات ہے کہ اِن دونوں کے مابین سعی کرنا مناسکِ حج وعمرہ میں ایک سنت ثابتہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تا ہم اِن کے مابین کا وہ حصہ جو ماضی میں ڈھلان پر واقع تھا، اُس کا اِس صورت میں نشیبی ہونا ’شعیرہ‘ کی نوعیت کی کوئی چیز نہیں تھی، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے عہدِ جدید میں یہاں عمارت تعمیر کر کے اُس حصے کے نشیب اور ڈھلان کو ختم کر دیا ہے۔ اِس کا ڈھلان میں ہونا اور باقی رہنا دین میں ’شعیرہ‘ کی نوعیت کی کوئی تعبدی چیز ہوتی تو بالبداہت واضح ہے کہ مسلمان ایسی تبدیلی کرنے کے قطعاً مجاز نہ تھے، بلکہ جدید طرز کے فرش میں بھی، اُن کو چاہیے تھا کہ اِس ڈھلان کو باقی رکھتے، تا کہ آج بھی عہدِ قدیم کی طرح سعی کرنے والوں کے قدم یہاں آپ سے آپ تیز دوڑتے رہیں۔

    ہمارے علما بالعموم اِس عمل کو مردوں کے لیے آج بھی اِس بنا پر پسندیدہ قرار دیتے ہیں کہ بعض صحابہ نے روایتوں میں اپنا یہ مشاہدہ بیان کیا ہے کہ اِس نشیبی مقام پر اُنھوں نے نبی ﷺ کو تیز دوڑتے ہوئے دیکھا تھا، ورنہ مسلمانوں کے لیے اِس کا باقاعدہ کوئی حکم قرآن وسنت اور رسالت مآب ﷺ کے ارشادات میں کہیں وارد نہیں ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی عالم وفقیہ نے اِس عمل کو کبھی لازم قرار نہیں دیا ہے۔ علاوہ ازیں علما نے تیز دوڑنے کے اِس عمل سے عورتوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے، جس کا بھی نبی ﷺ کی نسبت سے کوئی ماخذ راقم ِسطور کو نہیں مل سکا کہ جس سے واضح ہو کہ آپ نے اپنے سفرِ حج میں موجود صحابیات کے لیے صراحت کی تھی کہ وہ اِس عمل سے مستثنیٰ ہیں، جب کہ یہ واقعہ ہے کہ ایک طرف ہمارے علما بالعموم سعی کی اِس پوری سنت کی اساس سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کے عمل کو قرار دیتے ہیں، دوسری طرف اِس نشیبی حصے کی جو تفصیل اوپر بیان ہوئی ہے، اُس کو جاننے کے بعد کوئی شخص یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ اُس زمانے میں مرد حضرات تو اِس ڈھلان پر عام چلا نہیں چل سکتے تھے، لیکن عورتیں بآسانی معمولی کی چال پر سعی میں یہ نشیبی حصہ طے کرلیتی تھیں۔

    لہٰذا روایتی نقطۂ نظر پر یہاں بعض سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اِس مقام پر اِس طرح تیز دوڑنا نبی ﷺ کے عمل کی بنا پر دین میں کوئی مشروع عمل ہے اور عورتیں اِس حکم سے مستثنیٰ رکھی گئی ہیں تو اِس تشریع اور استثنا کی صراحت خود رسالت مآب نے کیوں نہیں فرمائی، جب کہ حجۃ الوداع میں آپ کے ساتھ مردوں کے علاوہ عورتیں بھی بڑی تعداد میں شریکِ سفر تھیں؟

    دوسرے یہ کہ سعی کی مشروعیت کی بنیاد اگر سیدہ ہاجرہ کا عمل تھا اور اُس زمانے میں بھی یہ نشیبی مقام، ظاہر ہے کہ موجود تھا تو اب مسلمان عورتوں کے لیے اِسی مقام پر تیز دوڑنے کی ممانعت حج وعمرہ کی شریعت کے کس حکم کی بنیاد پر ہوئی ہے؟

    اِس تفصیل کی روشنی میں عرض ہے کہ راقمِ حروف نے اِس مسئلہ پر اب تک جو تحقیق و تدبر کیا ہے، اُس کے مطابق د ایک بات تو یہ سمجھنی چاہیے کہ عہدِ قدیم میں مسعیٰ کا جو حصہ ڈھلان میں تھا، اُس کو ڈھلان میں دینِ اسلام کی کسی شریعت نے نہیں رکھا تھا اور نہ اِس نشیب کو باقی رکھنے کا دین نے کہیں کوئی حکم دیا گیا ہے۔ اِس مقام پر یہ ایک طبعی اور اتفاقی چیز تھی۔

    دوسرے یہ کہ اِس مقام پر تیز دوڑنے کے عمل کو نبی ﷺ نے دین کی حیثیت سے حکم دے کر مسلمانوں میں جاری کیا ہو اور عورتوں کو اِس سے روکا ہو؛ اِس بات کا بھی حدیث وسنت میں کہیں کوئی ماخذ موجود نہیں ہے۔

    لہٰذا جاننا چاہیے کہ اِس مقام پر تیز دوڑنا سعی کرنے والوں کے لیے ایک اتفاقی چیز اور مجبوری تھی، اِس لیے کہ ایسی ڈھلان جہاں کہیں بھی راستے میں آجائے، یہ واقعہ ہے کہ ہر شخص، خواہ مرد ہو یا مرد، وہاں نہ چاہتے ہوئے بھی تیز دوڑنے ہی پر مجبور ہوگا۔ اسلامی شریعت میں اِس مقام پر تیز دوڑنے کا کوئی آسمانی حکم نازل نہیں ہوا ہے۔

    اِس تناظر میں دیکھیے تو رسول اللہ ﷺ کو اِس مقام پر تیز دوڑتے ہوئے جن لوگوں نے دیکھا ہے، اُن کی روایت بیانِ واقعہ ہے، نہ کہ بیان شریعت۔ حجۃ الوداع کے سفر کی وہ روایتیں جن میں بعض صحابہ نے اِس پورے سفر کی روداد بیان کی ہے، اُن کو تدبر کی نگاہ سے دیکھیے تو واضح ہوجاتا ہے کہ وہ جس طرح حج وعمرہ کے مشروع مناسک واعمال پر رسول اللہ ﷺ کا اُسوہ نقل کر رہے ہیں، بعض فقہی مسائل میں لوگوں کے سوالات پر آپ کے ارشادات روایت کر رہے ہیں، اِسی طرح اِنھی روایتوں میں دین وشریعت سے قطع نظر، عام واقعات کا ذکر بھی جگہ جگہ پر آگیا ہے، جیسے مثال کے طور پر آپ کس سواری پر سوار تھے، راستے میں آپ نے کس کس مقام پر پڑاؤ ڈالا، مکہ مکرمہ میں داخل ہو کر آپ نے پہلے کس جگہ پر قیام فرمایا اور کس موقع پر زمزم کا پانی نوش فرمایا وغیرہ۔

    روایت ومشاہدے کے طور پر بیان ہونے والی ہر چیز دین وشریعت کا حصہ نہیں ہوا کرتی، بلکہ بہت سی چیزیں بیانِ واقعہ کے طور پر نقل کی جاتی ہیں۔ تاہم جو چیز دین کا حصہ ہوتی ہے، وہ قرآن وسنت میں لازمًا موجود ہوتی اور دین میں قطعیت سے ثابت ہوتی ہے اور وہ اپنے ثبوت کے لیے اخبارِ آحاد کی محتاج نہیں ہوتی۔

    المجیب: عامر گزدر

You must be logged in to reply.
Login | Register