Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Islamic Sharia Extra Ruku And Sujud In The Prayers For Solar And Lunar Eclipses

Tagged: ,

  • Extra Ruku And Sujud In The Prayers For Solar And Lunar Eclipses

    Posted by Muhammad Ikrama on November 5, 2025 at 9:47 am

    نماز کسوف و خسوف میں ہر رکعت میں دو رکوع اور چار سجدے ہیں! کیا یہ نماز سنت سے ثابت ہے یا اخبار احاد سے؟

    اگر اخبار سے ثابت ہے تو کیا یہ نماز کی معروف ہیئت کی تبدیلی نہیں؟ تو کیا یہ حدیث سے “عمل” میں اضافہ نہیں؟

    Dr. Irfan Shahzad replied 3 months, 3 weeks ago 3 Members · 8 Replies
  • 8 Replies
  • Extra Ruku And Sujud In The Prayers For Solar And Lunar Eclipses

    Dr. Irfan Shahzad updated 3 months, 3 weeks ago 3 Members · 8 Replies
  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar November 5, 2025 at 11:30 pm

    نوافل میں رسول اللہ نے بہت سے تنوعات برتے ہیں۔ یہ بھی ان میں سے ہے۔

    مثلا تہجد کی نماز میں آپ کئی رکعات مسلسل بغیر قعدے کے پڑھتے اور آخری رکعت میں قعدہ کرتے۔

  • Muhammad Ikrama

    Member November 6, 2025 at 5:57 am

    کیا اس تطوع کا دائرہ آج بھی کھلا ہے؟

    • Dr. Irfan Shahzad

      Scholar November 6, 2025 at 10:18 pm

      جی ہاں۔ آپ جتنے چاہیں اور جب چاہیں نوافل پڑھیں۔ زکوۃ کے علاوہ اضافی صدقہ کریں، نفل روزے رکھیں۔

  • Umer

    Moderator November 6, 2025 at 11:04 am

    This might also be helpful. Please watch from 00:53 onward:
    https://youtu.be/LYL5fuqOdxg?si=Aox6ftue1KQzldZU&t=53

  • Umer

    Moderator November 6, 2025 at 11:05 am

    Please also refer to the video below from 1:15:28 to 1:15:52

    https://youtu.be/46IywEVt9eQ?t=4528

  • Muhammad Ikrama

    Member November 8, 2025 at 8:06 pm

    جی بہتر!

    لیکن بات پھر یہی آ گئی کہ سند رسول اللہ ص سے دی جا رہی ہے! اس “اضافی” عمل کی؛ تو عملاً تو استاذ بھی احادیث سے “اعمال” میں اضافے کے قائل ہیں- چاہے وہ اضافہ جات نفل نماز میں ہی کیوں نہ ہوں۔

  • Muhammad Ikrama

    Member November 10, 2025 at 8:24 am

    جس طرح نماز کسوف و نماز خسوف کا تعلق بہر کیف دین سے ہے ہی! اسی طرح کوئی شخص نئے مہینے کی نماز نکال لے!

    مثال کے طور پر مہینہ شروع ہونے سے پہے ایک نماز – “بطور نفل”

    تو کیا اس کو بدعت نہیں کہا جائے گا؟

    کوئی شخص ہر چاند گرہن پر نماز پڑھے تو اس کو بدعتی نہیں کہا جائے گا!

    لیکن نئی مستقل نماز پر بدعت کا فتویٰ تو بہر کیف سب ہی لگاتے ہیں!

    کیا کوئی عید میلاد کی نماز نکالے اور اس میں 5 5 سجدے کرے! اور لوگ اس کو پڑھنا بھی شروع ہو جائیں! اور نماز کسوف کی طرح یہ بھی مستقل چیز بن جائے!

    اس کو کیسے علاحدہ کریں گے!

    یہ بھی اسی تنوع کے اندر آئے گا؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar November 11, 2025 at 11:55 pm

    بطور تطوع دین پر عمل کرنا دین کا مسلمہ اصول ہے۔

    وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ

    اس اصول کے اطلاقات ہیں جن کی بعض صورتیں اخبار احاد میں بیان ہوئی ہیں۔ یعنی اخبار احاد سے یہ اصول اخذ نہیں ہوا، ان میں اس کے اطلاقات بیان ہوئے ہیں۔

    نوافل آپ کسی وقت بھی پڑھ سکتے ہیں۔ رسول اللہ نے چاند گرہن اور سورج گرہن کے وقت نفل پڑھے، آپ مثلا زلزلہ آنے پر پڑھ سکتے ہیں یہ بھی خدا کی نشانی ہے۔

    بدعت کوئی عمل تب بنتا ہے جب آپ اس سے دین میں شمار کرتے ہیں اور وہ اصلا دین میں نہیں ہوتا۔ مثلا آپ اپنے لیے ایک موقع یا وقت مقرر کر کے کوئی نفل نماز پڑھتے ہیں۔ انفرادی عمل کے لحاظ سے اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اسے دین قرار دیں گے تو بدعت بنے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ باقی لوگ بھی اسے دین کا حکم یا ہدایت سمجھ کر کریں۔ دین کا حکم نفل پڑھنے کا ہے۔ اپنے طور پر وقت مقرر کرنے کی پابندی کا حکم دین کا نہیں۔

You must be logged in to reply.
Login | Register