Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Islamic Sharia Regarding Inheritance Law And The Right To Will (wasiyat)

Tagged: 

  • Regarding Inheritance Law And The Right To Will (wasiyat)

    Posted by Aejaz Ahmed on November 17, 2025 at 2:57 pm

    محترم جاوید غامدی صاحب نے وراثت کے بیان میں فرمایا ہے کہ اگر کسی رشتہ دار کے لئے یا کسی کے لئے بھی اسکی خدمت کی بنیاد پر وصیت کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں خواہ کل مال کا وصیت کردیں۔

    اور دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ اللہ تعالٰی وراثت کا جو فیصلہ کرتا ہے وہ رشتہ داروں سے منفعت کی بنیاد پر کرتا ہے۔ یعنی بیٹی سے منفعت کم تو اسکا بیٹے سے آدھا اور بیٹے سے منفعت زیادہ تو اسے بیٹی سے دوگنا ملتا ہے۔

    میرا سوال یہ ہے کہ دونوں باتوں کی قرآن سے ثبوت دیں کہ خدمت کی بنیاد پر وصیت کرنے کا حکم اور اللہ کے فیصلے میں منفعت کی حکمت کے موجود ہونے کا قرآنی بیان کا ثبوت قرآن س۔ جزاک اللہ

    https://vt.tiktok.com/ZSfe4S4uF/

    Aejaz Ahmed replied 1 month, 3 weeks ago 2 Members · 7 Replies
  • 7 Replies
  • Regarding Inheritance Law And The Right To Will (wasiyat)

    Aejaz Ahmed updated 1 month, 3 weeks ago 2 Members · 7 Replies
  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar November 17, 2025 at 11:58 pm

    وصیت کرنے کی مطلق اجازت وارد ہوئی ہے۔ اس لیے کسی کے لیے کچھ بھی وصیت کی جا سکتی ہے۔

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar November 18, 2025 at 12:00 am

    منفعت کی علت خود قرآن ہی نے قانون وراثت میں بیان کی ہے۔

    بتایا ہے کہ یہ قانون اس لیے بیان ہوا کہ تم اس کا فیصلہ نہیں کرسکتے تھے کہ رشتہ داری کی بنیاد پر کون تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے

    آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا

  • Aejaz Ahmed

    Member November 18, 2025 at 5:13 am

    لوگ کہتے ہیں کہ وصیت صرف ایک تہائی مال کی کی جاسکتی ہے اور وارثوں کے لئے وصیت نہیں کی جاسکتی ہے۔ جبکہ محترم جاوید غامدی صاحب نے فرمایا کہ وصیت کسی کے لئے بھی اور مکمل مال تک کی کی جاسکتی ہے۔

    برائے مہربانی ریفرنس دیدیں

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar November 18, 2025 at 10:46 pm

    اس کی بنیاد ایک حدیث ہے جس میں رسول اللہ نے سعد بن ابی وقاص کو مشورہ دیا تھا کہ ایک تہائی تک کی وصیت کافی ہے۔ وہ زیادہ کرنا چاہتے تھے۔

    سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں ایسا بیمار پڑا کہ موت کے قریب پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، کیا میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: دو تہائی مال کی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: آدھا مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: ایک تہائی کی؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کی وصیت کرو اور ایک تہائی بھی بہت ہے ۱؎، تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج و غریب چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھیریں،

    ترمذی 2116

  • Aejaz Ahmed

    Member November 19, 2025 at 6:36 am

    سر، جزاک اللہ

    پوچھنا یہ تھا کہ پھر محترم جاوید غامدی صاحب نے کل مال اور وہ بھی وارثین سمیت کسی کے حق میں بھی وصیت کرنے والی بات کس ریفرنس پر کی ؟؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar November 19, 2025 at 11:05 pm

    قرآن کی نص کی بنیاد پر۔ قرآن مجید وصیت کرنے میں کوئی شرط یا تحدید عائد نہیں کرتا۔ اس لیے باہر سے اس مطلق حکم کی تحدید نہیں کیا جا سکتی۔

  • Aejaz Ahmed

    Member November 21, 2025 at 4:35 pm

    جزاک اللہ ڈاکٹر صاحب

    آپکی محنت، جذبہ اور علم قابل تعریف ہے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register