Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions Itmam E Hujjat Of Ahle Kitab

  • Itmam E Hujjat Of Ahle Kitab

    Posted by Raja Haseeb on December 26, 2025 at 11:25 am

    Can you please check in Ibn kathir. That

    Hazrat usman na Spain pa attack aur Hazrat umer na Makraan (Balochistan, Pakistan) pa attack ka hukam dia tha jo letter ki boundaries sa bahir hn

    Dr. Irfan Shahzad replied 2 weeks, 3 days ago 2 Members · 3 Replies
  • 3 Replies
  • Itmam E Hujjat Of Ahle Kitab

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar December 28, 2025 at 10:54 pm

    The caliphs waged the wars belong the prescribed limits due to politicali necessity. Hazrat Umar wanted to stop the wars because he had conqured the lands prescribed by the prophet but he had to go beyond them.

  • Raja Haseeb

    Member December 29, 2025 at 7:31 am

    Any evidence of this claim?

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar December 30, 2025 at 7:30 am

    ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ جنگیں صحابہ نے تب تک جاری رکھیں جب تک وہ ان سرحدوں تک نہ پہنچ گئے جن تک پہنچنے کی بشارت ان کو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ملی تھیں۔ یہ تمام علاقے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں فتح ہو گئے تھے۔ مولانا عمار خان ناصرلکھتے ہیں:

    ’’قادسیہ، مدائن اور جلولاء کے معرکوں کے بعد ہجری میں جنوبی عراق کا علاقہ، جس کو عرب مورخین سواد کے نام سے یاد کرتے ہیں، مسلمانوں کے قبضے میں آ چکا تھا۔ سعد بن ابی وقاص نے مزید پیش قدمی کی اجازت چاہی تو سیدنا عمر نے انھیں اس سے روک دیا۔

    ‘وکتبوا الی عمر بفتح جلولاء وبنزول القعقاع حلوان واستاذنوہ فی اتباعہم فابی وقال لوددت ان بین السواد وبین الجبل سدا لا یخلصون الینا ولا نخلص الیہم حسبنا من الریف السواد انی آثرت سلامۃ المسلمین علی الانفال۔ (تاریخ الامم والملوک ۴/ ۲۸)

    ‘انہوں نے سیدنا عمر کو خط لکھ کر جلولاء کے فتح ہونے کی خبر دی اور بتایا کہ وہ قعقاع حلوان کے مقام پر مقیم ہیں۔ نیز انہوں نے دشمن کا پیچھا کرنے کی اجازت مانگی لیکن سیدنا عمر نے انکار کر دیا اور کہا کہ میری یہ خواہش ہے کہ سواد اور جبل کے علاقے کے درمیان کوئی ایسی رکاوٹ کھڑی ہو جائے جس کو عبور کر کے نہ وہ ہماری طرف آ سکیں اور نہ ہم ان کی طرف جا سکیں۔ ان شاداب خطوں میں سے ہمارے لیے سواد ہی کافی ہے۔ مجھے مال غنیمت کے مقابلے میں مسلمانوں کی سلامتی زیادہ عزیز ہے۔’ “( جہاد ایک مطالعہ،۱۱۸)

    طبری لکھتے ہیں:

    “وقد قال عمر حسبنا لاہل البصرۃ سوادہم والاہواز وددت ان بیننا وبین فارس جبلا من نار لایصلون الینا منہ ولا نصل الیہم کما قال لاہل الکوفۃ وددت ان بینہم وبین الجبل جبلا من نار لایصلون الینا منہ ولا نصل الیہم۔ (تاریخ الامم والملوک ۴/ ۷۹)

    “سیدنا عمر نے کہا: ہم اہل بصرہ کے لیے سواد اور اہواز کا علاقہ کافی ہے۔ کاش ہمارے اور فارس کے علاقے کے درمیان آگ کا کوئی پہاڑ ہوتا۔ نہ وہ ہم تک پہنچ پاتے اور نہ ہم ان تک پہنچ پاتے۔ اسی طرح آپ نے اہل کوفہ کے بارے میں کہا تھا کہ کاش ان کے اور جبل کے علاقے کے مابین آگ کا کوئی پہاڑ ہوتا۔ نہ وہ اس طرف آ سکتے اور نہ ہم ادھر جا سکتے۔” (بحوالہجہاد ایک مطالعہ،۱۲۱)

    فارس کے علاقے میں عام لشکر کشی کی اجازت سیدنا عمر نے احنف بن قیس کی تجویز پر دی۔

    “یا امیر المومنین اخبرک انک نہیتنا عن الانسیاح فی البلاد وامرتنا بالاقتصار علی ما فی ایدینا وان ملک فارس حی بین اظہرہم وانہم لا یزالون یساجلوننا ما دام ملکہم فیہم ولم یجتمع ملکان فاتفقا حتی یخرج احدہما صاحبہ وقد رایت انا لم ناخذ شیئا بعد شیٔ الا بانبعاثہم وان ملکہم ہو الذی یبعثہم ولا یزال ہذا دابہم حتی تاذن لنا فلنسح فی بلادہم حتی نزیلہ عن فارس ونخرجہ من مملکتہ وعز امتہ فہنالک ینقطع رجاء اہل فارس ویضربون جاشا۔ (طبری،تاریخ الامم والملوک۴/ ۸۹)

    “اے امیر المومنین! میں آپ کو اصل بات بتاتا ہوں۔ آپ نے ہمیں مملکت فارس میں دور تک گھسنے سے منع کر رکھا ہے اور ان علاقوں پر اکتفا کرنے کا حکم دیا ہے جو ہمارے قبضے میں ہیں، جبکہ اہل فارس کا بادشاہ زندہ سلامت ان کے مابین موجود ہے اور جب تک وہ رہے گا، اہل فارس ہمارے ساتھ آمادۂ پیکار رہیں گے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک سرزمین میں دو بادشاہ اتفاق سے رہیں۔ ان میں سے ایک کو لازماً دوسرے کو نکالنا پڑے گا۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں اہل فارس کی بغاوتوں ہی کے نتیجے میں ایک کے بعد دوسرے علاقے پر قبضہ کرنا پڑا ہے اور ان تمام بغاوتوں کا سرچشمہ ان کا بادشاہ ہے۔ ان کا وتیرہ یہی رہے گا جب تک کہ آپ ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ ہم ان کی مملکت میں گھس کر ان کے بادشاہ کو وہاں سے ہٹا دیں اور اس کی سلطنت اور سربلندی کی جگہ سے اس کو نکال دیں۔ اس صورت میں اہل فارس کی امیدیں ٹوٹ جائیں گی اور وہ پرسکون ہو جائیں گے۔” (بحوالہ جہاد ایک مطالعہ ،۱۲۳)

You must be logged in to reply.
Login | Register