Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Islam And Family طلاق کے حوالے سے قرآنی معیار

Tagged: ,

  • طلاق کے حوالے سے قرآنی معیار

    Posted by Muhammad Hussnain on December 29, 2025 at 4:15 am

    محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب

    السلام علیکم

    میرا سوال طلاق کے قرآنی طریقے سے متعلق ہے۔ میری اہلیہ بغیر باہمی مشاورت کے والدین کے گھر جا کر بیٹھ گئیں اور بعد میں میرے ہر عمل کی مخالفت کرتی رہیں۔ کسی قسم کی ثالثی یا قرآنی طریقے کے مطابق اصلاح کی کوشش نہیں ہوئی۔

    اسی ذہنی دباؤ اور غصے میں میں نے ایک نجی تحریری پیغام میں یہ الفاظ لکھ دیے:

    “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”

    اس پیغام پر اب ایک سال گزر چکا ہے۔

    میرا سوال یہ ہے کہ: کیا قرآن میں بیان کردہ طریقہ (اصلاح، عدّت اور گواہ) پورا کیے بغیر، محض غصے میں بھیجے گئے ایک تحریری پیغام سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

    اور ایسی صورت میں ایک عام مسلمان کیلئے قرآن کو معیار بنانا درست ہے یا فقہی روایت کو؟

    جزاکم اللہ خیراً

    Muhammad Hussnain replied 1 month, 2 weeks ago 2 Members · 6 Replies
  • 6 Replies
  • طلاق کے حوالے سے قرآنی معیار

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar December 31, 2025 at 5:15 am

    قرآن مجید نے بتایا ہے کہ طلاق دو بار دے کر رجوع کیا جا سکتا ہے تاہم، تیسری بار طلاق دی جائے تو رجوع نہیں ہو سکتا۔ گواہ بنانے کا ذکر عدت کے خاتمے کے وقت کے لیے ہے۔ تاکہ کوئی نزاع پیدا نہ ہو۔ دیکھیے آیت 65: 2

    طلاق اگر اشتعال کی ایسی حالت میں دی گئی کہ ذہن قابو میں نہ ہو تو طلاق واقع نہیں ہوتی، تاہم اس صورت میں اشتعال دور ہوتے ہی آدمی ندامت کا اظہار کرتا ہے۔

    مذکورہ صورت حال میں اگر وقتی ذہنی دباؤ سے طلاق دی گئی ہے تو رجوع کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ کیا یہ پیغام بھیجا گیا کہ ارادہ نہیں تھا اور اشتعال میں طلاق بھیج دی گئی تھی؟

    ایسا نہیں تو طلاق بھیجنے کے بعد آپ اس پر قائم رہیں ہیں تو اب

    ایک طلاق واقع ہو گئی اور عدت کے بعد نکاح ختم ہو چکا ہے۔ اگر مطلقہ راضی نکاح جدید کیا جا سکتا ہے۔

  • Muhammad Hussnain

    Member December 31, 2025 at 9:12 am

    بالکل کوشش کی گئی لیکن اہلیہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ وٹہ سٹہ ہے تو بہت لوگ فیصلہ کرنے والے ہیں

    • Dr. Irfan Shahzad

      Scholar December 31, 2025 at 11:08 pm

      عدت کے دوران میں رجوع مرد کا اختیار ہے۔ مرد رجوع کا اعلان کر دے تو رجوع ہو جات ہے۔ عورت اگر واپسی نہیں چاہتی تواسے خلع لینا ہوگا۔

  • Muhammad Hussnain

    Member December 31, 2025 at 11:25 pm

    رجوع کا اعلان سے کیا مراد ہے ؟؟؟ لیکن میں نے گھر والوں یا سب سے یہی کہا ہے کہ میں نے صرف ڈرانے کیلئے یہ الفاظ کہے تھے ۔۔۔ کیونکہ عجیب قسم کی ضد تھی دوسری طرف اور مجھے بچوں کی فکر تھی کہ معاملہ طوالت نا پکڑے ۔۔۔ جو کہ پکڑ چکا ہے اب

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar December 31, 2025 at 11:27 pm

    یہ کہ آپ اسے واپس بیوی رکھنے کا فیصلہ کریں۔

  • Muhammad Hussnain

    Member January 3, 2026 at 3:46 am

    یقیناً یہی خواہش اور فیصلہ ہے ۔ تین بچے ہیں اور میری کبھی نیت نہیں رہی کے چھوڑ دوں 

    بڑی وجہ بچے ہی ہیں 

    اس معاملے کو تقریباً ایک سال ہوگیا ہے اور وہ اپنے والدین کے گھر ہے ۔۔ اس سے کوئی بلواسطہ رابطہ نہیں ہے بلکہ دوسری طرف سے مکمل رابطہ منقطع ہے

You must be logged in to reply.
Login | Register