خود نوروز میں بذاتِ خود شرک یا فحاشی لازمی طور پر شامل نہیں ہوتی۔لیکن حکم طریقۂ منانے پر آتا ہے۔اگر اسے صرف ثقافتی/موسمی خوشی کے طور پر منایا جائے،نہ کسی غیر اللہ کی تعظیم ہو،نہ مذہبی عقائد یا رسومات شامل ہوں،اور نہ ہی فحاشی، بے پردگی یا گناہ کے کام ہوں،تو اسے شرک یا vulgarity نہیں کہا جائے گا۔البتہ اگر اس میںغیر اسلامی عقائد،آگ یا کسی علامت کو تقدس دینا،یا فحش سرگرمیاں شامل ہو جائیں،تو پھر یہ ناجائز ہو جاتا ہے۔یعنی اصل معیار نیت اور عمل ہے، صرف نام نہیں۔