Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Sources of Islam God's Law Of Sustenance (Rizq) For Humans

Tagged: ,

  • God's Law Of Sustenance (Rizq) For Humans

    Posted by Juned Khan on February 5, 2026 at 1:09 am

    Allah jise chahta he be hisaab deta he aur jise chahta naap tol ke deta he aesi baate quran me kahi surah me bayaan huyi he kya isme allah ka jabar he kya? Rizak dene ke kya usul he allah ke yaha

    Juned Khan replied 1 month, 3 weeks ago 3 Members · 6 Replies
  • 6 Replies
  • God's Law Of Sustenance (Rizq) For Humans

    Juned Khan updated 1 month, 3 weeks ago 3 Members · 6 Replies
  • Maria Ali

    Member February 6, 2026 at 3:12 am

    قرآن میں یہ بات واضح طور پر بیان ہوئی ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ناپ تول کر دیتا ہے۔ یہ مضمون کئی سورتوں میں آیا ہے، مثلاً سورۂ بقرہ میں کہا گیا ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا کرتا ہے، سورۂ آلِ عمران میں بھی یہی الفاظ آئے ہیں، اور سورۂ شوریٰ میں فرمایا گیا ہے کہ اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق کشادہ کر دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگتے، اس لیے وہ ایک مقرر اندازے سے رزق نازل کرتا ہے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق کا پھیلنا یا محدود ہونا اللہ کے علم، حکمت اور مصلحت کے تحت ہے۔

    اس میں اللہ کا جبر نہیں ہے۔ جبر اس کو کہتے ہیں کہ انسان کو کسی کام پر مجبور کر دیا جائے اور اس کی کوشش، نیت اور انتخاب کی کوئی حیثیت نہ رہے۔ قرآن کا تصور یہ نہیں۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ رزق دینے کا اختیار اللہ کے پاس ہے، لیکن انسان کو عمل، محنت، تدبیر اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ جینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر سب کو یکساں اور کھلا رزق دے دیا جاتا تو آزمائش کا مقصد ہی ختم ہو جاتا، اس لیے رزق کا فرق امتحان کا حصہ ہے۔
    اللہ کے ہاں رزق دینے کے چند اصول قرآن سے سامنے آتے ہیں۔ ایک اصول یہ ہے کہ اللہ سب کو بنیادی رزق مہیا کرتا ہے، مومن اور کافر دونوں کو، جیسا کہ قرآن میں دنیاوی رزق کو عام بتایا گیا ہے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ رزق کمی یا زیادتی کے ساتھ آزمائش ہے، کسی کے لیے شکر کا امتحان اور کسی کے لیے صبر کا۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ انسان کی کوشش کو نظرانداز نہیں کیا جاتا، قرآن کہتا ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ سعی کرتا ہے۔ چوتھا اصول یہ ہے کہ تقویٰ، شکر، انفاق اور انصاف رزق میں برکت کا ذریعہ بنتے ہیں، جبکہ ظلم، نافرمانی اور بخل برکت کو کم کر دیتے ہیں، اگرچہ بظاہر مال زیادہ ہو۔
    لہٰذا قرآن کے مطابق رزق کا نظام نہ اندھا جبر ہے اور نہ بے قاعدہ تقسیم، بلکہ علم، حکمت، امتحان اور عدل پر مبنی ایک ایسا نظام ہے جس میں اللہ مختار بھی ہے اور انسان کو جواب دہ بھی بنایا گیا ہے۔

  • Umer

    Moderator February 6, 2026 at 7:13 am
  • Umer

    Moderator February 6, 2026 at 7:13 am
  • Umer

    Moderator February 6, 2026 at 7:14 am
  • Juned Khan

    Member February 6, 2026 at 7:29 am

    Ji allah amno aman me rakhe

  • Juned Khan

    Member February 6, 2026 at 10:51 am

    Aaaohir kin bato me allah ka mutlaq dakhal he mean hamari birth,death ya????, mean kitni chizo ko consider kar sakte he ya koi usul he jo tadabbur ka mohtaj he?

You must be logged in to reply.
Login | Register