-
بلی کی طہارت، انسانی صحت اور جدید مسائل: دینی و سائنسی تناظر میں ایک تجزیہ
محترم غامدی صاحب، السلام علیکم!میرا سوال بلیوں سے متعلق پائے جانے والے عام مذہبی تصورات اور عملی زندگی کے حقائق سے متعلق ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں بلی ایک پاک جانور ہے اور اس کا جھوٹا پاک ہے۔ اس حوالے سے کچھ علمی و منطقی الجھنیں ہیں جن پر آپ کی رہنمائی درکار ہے:طہارت اور سائنس: اگر کوئی آوارہ بلی چوہے اور زہریلی چھپکلیاں کھاتی ہو اور پھر انہی منہ سے گھر کے برتنوں یا دودھ میں منہ ڈال دے، تو کیا اسے پاک سمجھ کر استعمال کرنا درست ہے؟ جبکہ جدید سائنس یہ ثابت کرتی ہے کہ ایسے جانوروں کے منہ میں خطرناک جراثیم اور بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ کیا اسلام ہمیں عقل اور سائنس کے خلاف جا کر ایسی چیزوں کو استعمال کرنے کا حکم دیتا ہے؟گندگی اور اذیت: اگر بلیاں گھر کے بستروں، صوفوں اور کھانے پینے کی جگہوں پر پیشاب یا غلاظت کریں، جس سے پورے گھر میں تعفن (بدبو) پھیل جائے اور بیماریاں پیدا ہونے کا خدشہ ہو، تو کیا محض “بلی پالنے کے ثواب” کی خاطر اس اذیت کو برداشت کرنا ضروری ہے؟ کیا اسلام ایسی گندگی کو پروموٹ کرتا ہے؟ترجیحات کا تضاد: معاشرے میں کتے کو انتہائی نجس (ناپاک) سمجھا جاتا ہے جبکہ بلی کی ہر گندگی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کیا دین میں صفائی کے اصول جانور کی قسم دیکھ کر بدل جاتے ہیں یا اصل بنیاد “نقصان اور گندگی” ہے؟آوارہ بلیاں: وہ بلیاں جو سدھائی ہوئی نہیں ہیں اور گھر میں آ کر نقصان کرتی ہیں، چیزیں توڑتی ہیں یا غلاظت پھیلاتی ہیں، کیا انہیں گھر سے بھگا دینا یا نکال دینا گناہ ہے؟خلاصہ: کیا بلی کا “پاک” ہونا ایک عمومی درجہ ہے یا یہ ان حالات میں بدل جاتا ہے جب وہ گندی چیزیں کھائے اور گھر میں بیماریاں پھیلانے کا سبب بنے؟ اس معاملے میں دین کی اصل روح اور انسانی صحت و صفائی کے اصولوں کے درمیان کیا توازن ہونا چاہیے؟
Sponsor Ask Ghamidi