Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions سود

  • Posted by Muhammad Tahir on February 12, 2026 at 8:45 pm

    محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    میں ایک عملی کاروباری معاملے میں آپ سے شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔ معاملہ یہ ہے کہ بعض اوقات کسٹمر کو اصل میں نقد رقم (Cash) کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن چونکہ کیش ادھار دینا سود ہے، اس لیے ہم کیش ادھار دینے کے بجائے موٹرسائیکل کے ذریعے یہ معاملہ کرتے ہیں۔

    صورت نمبر 1:

    کسٹمر آتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے کیش چاہیے۔ میں یا تو پہلے سے موجود موٹرسائیکل اسے قسطوں پر فروخت کر دیتا ہوں، یا اگر موٹرسائیکل موجود نہ ہو تو میں وہ موٹرسائیکل مارکیٹ سے نقد خرید کر اپنے قبضے میں لے کر پھر کسٹمر کو ادھار/قسطوں پر فروخت کرتا ہوں۔

    اس کے بعد کسٹمر وہی موٹرسائیکل فوراً کسی دوسری دکان پر نقد میں بیچ دیتا ہے اور کیش حاصل کر لیتا ہے، پھر مجھے ماہانہ اقساط ادا کرتا رہتا ہے۔

    سوال:

    کیا یہ طریقہ شرعاً جائز ہے یا یہ سود کی ایک عملی شکل (حیلہ) بن جاتی ہے؟

    صورت نمبر 2:

    اگر کوئی کسٹمر اپنا موٹرسائیکل مجھے صرف اس لیے نقد میں بیچ دے کہ اسے فوری پیسوں کی ضرورت ہے، پھر کسٹمر اسی موٹرسائیکل کو مجھ سے قسطوں پر واپس خرید لے اسی وقت

    سوال:

    کیا یہ صورت شرعاً جائز ہے یا اس میں بھی سود/حیلہ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے؟

    جزاک اللہ خیراً، آپ کی رہنمائی کا منتظر ہوں۔

    Muhammad Tahir replied 18 minutes ago 1 Member · 0 Replies
  • 0 Replies

Sorry, there were no replies found.

You must be logged in to reply.
Login | Register