-
سود
محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ایک عملی کاروباری معاملے میں آپ سے شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔ معاملہ یہ ہے کہ بعض اوقات کسٹمر کو اصل میں نقد رقم (Cash) کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن چونکہ کیش ادھار دینا سود ہے، اس لیے ہم کیش ادھار دینے کے بجائے موٹرسائیکل کے ذریعے یہ معاملہ کرتے ہیں۔
صورت نمبر 1:
کسٹمر آتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے کیش چاہیے۔ میں یا تو پہلے سے موجود موٹرسائیکل اسے قسطوں پر فروخت کر دیتا ہوں، یا اگر موٹرسائیکل موجود نہ ہو تو میں وہ موٹرسائیکل مارکیٹ سے نقد خرید کر اپنے قبضے میں لے کر پھر کسٹمر کو ادھار/قسطوں پر فروخت کرتا ہوں۔
اس کے بعد کسٹمر وہی موٹرسائیکل فوراً کسی دوسری دکان پر نقد میں بیچ دیتا ہے اور کیش حاصل کر لیتا ہے، پھر مجھے ماہانہ اقساط ادا کرتا رہتا ہے۔
سوال:
کیا یہ طریقہ شرعاً جائز ہے یا یہ سود کی ایک عملی شکل (حیلہ) بن جاتی ہے؟
صورت نمبر 2:
اگر کوئی کسٹمر اپنا موٹرسائیکل مجھے صرف اس لیے نقد میں بیچ دے کہ اسے فوری پیسوں کی ضرورت ہے، پھر کسٹمر اسی موٹرسائیکل کو مجھ سے قسطوں پر واپس خرید لے اسی وقت
سوال:
کیا یہ صورت شرعاً جائز ہے یا اس میں بھی سود/حیلہ کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے؟
جزاک اللہ خیراً، آپ کی رہنمائی کا منتظر ہوں۔
Sponsor Ask Ghamidi
Sorry, there were no replies found.