-
Folding Hands After Ruku
کیا جب رکوع کے بعد کھڑے ہوتے ہیں اس وقت ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو سکتے ہیں
Sponsor Ask Ghamidi
In the last 2036 days, 9,403 registered users have posted 67,878 messages under 19,906 unique topics on Ask Ghamidi.
A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn
Forums › Forums › General Discussions › Folding Hands After Ruku
کیا جب رکوع کے بعد کھڑے ہوتے ہیں اس وقت ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو سکتے ہیں
جاوید احمد غامدی صاحب کی کتاب میزان میں نماز کے طریقے کو سنتِ متواتر کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک نماز کی ہیئت اور ترتیب وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے عملی تواتر کے ساتھ منتقل ہوئی ہے۔ اس میں قیام، رکوع، رکوع کے بعد قومہ، سجدہ اور جلسہ سب اپنی مخصوص صورت کے ساتھ ہیں۔
غامدی صاحب کی تحقیق کے مطابق قیام کی حالت میں ہاتھ باندھنا نماز کا لازمی جزو نہیں بلکہ ایک مستحب ہیئت ہے جو قیام کی حالت میں اختیار کی جاتی ہے۔ رکوع کے بعد جب آدمی سیدھا کھڑا ہوتا ہے تو وہ دراصل قومہ کی حالت ہے، اور اس میں اصل چیز اعتدال کے ساتھ سیدھا کھڑا ہونا ہے، نہ کہ ہاتھ باندھنا۔ سنت کے معروف اور متوارث طریقے کے مطابق رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑ کر سیدھا کھڑا ہوا جاتا ہے، پھر سجدے میں جایا جاتا ہے۔
اس لیے غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کے مطابق رکوع کے بعد ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا سنت سے ثابت نہیں، اور جو طریقہ امت میں تواتر کے ساتھ چلا آ رہا ہے وہ یہی ہے کہ اس موقع پر ہاتھ چھوڑے جاتے ہیں۔ تاہم چونکہ ہاتھ باندھنا یا چھوڑنا بذاتِ خود نماز کے ارکان میں سے نہیں بلکہ ہیئت کا معاملہ ہے، اس لیے اگر کوئی شخص لاعلمی میں ہاتھ باندھ لے تو نماز باطل نہیں ہوگی، البتہ بہتر اور مسنون طریقہ یہی ہے کہ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑ کر اعتدال کے ساتھ کھڑا رہا جائے۔
Version 1.0
by Muhammad Faisal Haroon
Code of Conduct
Terms of Use | Privacy Policy
Copyright © 2020 Al-Mawrid U.S.
All Rights Reserved.