-
وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی کی تفسیر میں اشکال ھے
عرب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت (آپ کی تفسیر میں فوٹ نوٹ سے لیا گیا ) سے پہلے دین حنیفی کے سب پیرو اِسی صورت حال سے دوچار تھے۔ تاریخ کی روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ وہ حرم کی دیواروں سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے اور بڑی حسرت کے ساتھ کہتے تھے: پروردگار، ہم نہیں جانتے کہ تیری عبادت کس طرح کریں، ورنہ اُسی طرح کرتے۔
سر سوال یہ ھے کہ آپ سے سنا ھے کے ۔نبی کریم سے پہلے سے نمازیں پڑھی جا رھی تھی اور روضے رکھے جارھے تھے تو اس آیت کے فوٹ نوٹ پر آپ نے بتایا ھے کہ لوگ پریشان تھے کی اللہ کی عبادت کیسے کی جائے برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں جزاک اللّٰہ
Sponsor Ask Ghamidi