-
The Real Meaning Of اياك نعبد In Surah Fatiha
کیا “إِيَّاكَ نَعْبُدُ” کا مطلب یہ ہےی ہم صرف آپ کے غلام/خادم ہیں، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم صرف آپ کی عبادت کرتے ہیں؟
کسی نے مجھ سے پوچھا کہ “إِيَّاكَ نَعْبُدُ” کا مطلب یہ نہیں کہ ہم صرف آپ کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ لفظ “نعبد” کا مطلب ہے غلام ہونا، لہٰذا “إِيَّاكَ نَعْبُدُ” صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم صرف آپ کی خدمت کرتے ہیں۔
اگر یہ درست ہے، تو پھر زیادہ تر تراجم میں “إِيَّاكَ نَعْبُدُ” کا ترجمہ کیوں “ہم صرف آپ کی عبادت کرتے ہیں” کیا گیا ہے، نہ کہ “ہہم صرف آپ کی ہی غلامی کریں گے؟
اور میں نے یہی سوال چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا، کیا یہ جواب درست ہے یا غلط؟
جواب چیت ج پتہ۔ :جی ہاں، لفظ نعبد کی لغوی معنی ہے ‘خدمت کرنا’ یا ‘غلام ہونا’، اور جب انسان کے لیے کہا جائے تو یہ عام خدمت جیسا ہوتا ہے۔ لیکن جب قرآن میں اللہ کے لیے کہا جائے، جیسے ‘إِيَّاكَ نَعْبُدُ’، تو یہ خدمت اللہ کے لیے مخصوص روحانی تعلق کا اظہار ہے کیونکہ اللہ کسی کی ضرورت نہیں رکھتا۔ اس لیے یہ خدمت، جب محبت، اطاعت اور فرمانبرداری کے ساتھ پیش کی جائے، عبادت کہلاتی ہے۔”
Sponsor Ask Ghamidi