Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions اسلام امراء کو سہولت اور غریب کو سزا دیتا ہے

  • اسلام امراء کو سہولت اور غریب کو سزا دیتا ہے

    Posted by Dr Firasat Khan on February 24, 2026 at 12:41 am

    سلام

    اسلام امراء کو ان کی دولت کئ بنیاد پر سہولت فراہم کرتا ہے اور غریب کو سزا دیتا ہے۔

    امیر روزے کے بدلے فدیہ دیے سکتا ہے۔ غریب کو روزہ ہی رکھنا ہے۔ امیر روزے کا کفارہ 60 لوگوں کو کھانا کھلا کر جرمانہ ادا کرتا ہے۔

    غریب کو 60 مسلسل روزے رکھنے کی سزا ہے۔

    برائے مہربانی سوال سادہ ہے۔

    کیا یہ کھلا تضاد اور غیر متوازن قوانیں نہیں ہیں؟

    Dr Firasat Khan replied 1 week, 1 day ago 2 Members · 6 Replies
  • 6 Replies
  • اسلام امراء کو سہولت اور غریب کو سزا دیتا ہے

    Dr Firasat Khan updated 1 week, 1 day ago 2 Members · 6 Replies
  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar February 24, 2026 at 1:18 am

    یہ غلط فہمی ہے۔

    دین کا اصول ہے کہ کسی کو اس کی استطاعت سے بڑھ کو ذمہ داری نہیں دی جاتی۔

    روزے کا فدیہ صرف اس صورت میں دیا جاتا ہے جب روزہ نہ رکھنے کی استطاعت مستقل طور پر ختم ہو جائے جیسے ناتواں بوڑھا یا کوئی مستقل مرض جس کسی وجہ سے روزہ رکھنا مشکل ہو جائے۔

    اگر ایسی کوئی وجہ نہیں تو امیر ہو یا غریب سب کو روزے ہی رکھنے ہین۔

    غریب روزہ نہ رکھ سکے اور اس کے پاس فدیہ دینے کی رقم نہ ہو تو وہ نہ روزے رکھے گا اور نہ فدیہ دے گا۔

    • Dr Firasat Khan

      Member February 24, 2026 at 7:31 am

      جواب کا شکریہ۔

      اپ نے غریب کو جو استثناء دی ہے ، کئا قرآن سے ثابت ہے۔

      قرآن تو ایسا کوئی استثناء بیان نہیں کرتا۔ اور یہی اصول پھر کفارےپر بھی لاگو ہو گا۔

      اپ نے جو مستقل استطاعت کی بات کی ہے، کیا وہ بھی قرآن سے ثابت ہے؟

      شکریہ

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar February 25, 2026 at 11:59 pm

    قران کی یہ آیت ہر تعلیم یافتہ مسلمان کے علم میں ہے کہ خدا کسی کو اس کی استطاعت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں دیتا۔

    لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا۔

    یہ تو دین کا مسلمہ اصول ہے۔

    شریعت کا کوئی بھی حکم بغیر استطاعت کے لاگو نہیں ہوتا۔

  • Dr Firasat Khan

    Member February 27, 2026 at 1:10 pm

    شکریہ

    تو اس اصول کے تحت روزے کا کفارہ ادا نہ کرنے کی صورت میں بھی کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح حج میں دم نہ دینے کی استطاعت پر بھی گناہ نہیں ہوگا۔

    کیا میں صحیح سمجھا ہوں۔

    نوازش

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar March 2, 2026 at 11:46 pm

    جی ہاں۔ جب کوئی حکم واجب ہی نہیں ہوتا تو گناہ کیوں ہوگا۔
    درج ذیل حدیث دیکھیے:
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے آزاد کر سکو؟ انہوں نے کہا نہیں۔ دریافت فرمایا، کیا متواتر دو مہینے تم روزے رکھ سکتے ہو؟ کہا کہ نہیں، دریافت فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ عرض کیا کہ اس کے لیے بھی میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جا اور صدقہ کر۔ انہوں نے پوچھا کہ اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ ان دونوں میدان کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اسے لے جا اور اپنے گھر والوں کو کھلا دے (بخاری، 6711)

  • Dr Firasat Khan

    Member March 7, 2026 at 1:47 am

    سلام

    تشریح کا بہت بہت شکریہ۔

    جزاک اللہ

You must be logged in to reply.
Login | Register