-
کلالہ کی تقسیم کے بارے میں غامدی صاحب پر ایک اہم اشکال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب میرا سوال اپ کی تفسیر کے ایک آیت کے متعلق ہے کہ آپ نے سورۃ النساء آیت نمبر 12 جو لفظ “کلالہ” آیا ہے، اس کی اپنے تشریح یہ کی کہ وہاں پہ کوئی شخص کسی کو بھی اپنا وارث بنا سکتا ہے اگر چہ اس کے بھائی زندہ بھی ہوں۔ تو سوال میرا یہ ہے اگر کوئی شخص اپنے بھائی وغیرہ کے ہونے کے باوجود بھی اپنے چاچو یا مامو کو وارث بنا لے تو سورۃ النساء کی آخری آیت، وہاں پہ تو “کلالہ” کا اگر کوئی بھائی ہو یا کوئی بہن ہو یا متعدد بہن بھائی ہوں تو ان کی میراث مقرر کی گئی ہے، تو آپ نے تو مطلقا یہ کہا کہ ” کلالہ”کے اندر کہ جس کو بھی چاہے وہ اپنا وارث بنا سکتا ہے اگرچہ اس کے بھائی بھی موجود ہوں، تو آپ نے یہ شرط نہیں لگائی کہ اگر “کلالہ” جو شخص ہے اگر اس کے بھائی موجود ہوں تو پھر اس کے اندر اس قاعدے کے مطابق میراث تقسیم ہوگی سورۃ النساء کی آخری آیت میں بیان ہوا ہے، اگر یہ صورت نہ ہو یعنی کلالہ کی کوئی بہن بھائی نہ ہو تب باقی رشتے داروں میں وہ کسی کو اپنا وارث بنا سکتا ہے آیت نمبر 12 کے حکم کے تحت تب تو آپ کی بات پر کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا۔ البتہ چونکہ آپ نے یہ شرط نہیں لگائی تو اس اشکال کا آپ کے ہاں کیا جواب ہوگا کہ اگر کوئی شخص مرجائے جائے اور وہ “کلالہ” ہو اور اس کی دو حقیقی بہنیں اور ایک حقیقی بھائی زندہ ہوں اور اس شخص کے تین چاچو بھی زندہ ہوں تو اس نے اپنے ایک چاچو کو وارث بنایا اپنے سارے مال کا، تو آپ کے نزدیک کیا سارا مال چاچوں میں تقسیم ہوگا بھائی بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا یا سورہ النساء کی آخری آیت کے تحت سارا مال بھائی بہنوں کو ملے گا، چاچو محروم ہونگے۔ اگر دوسری صورت درست ہے تو آپ نے جو “البیان” میں مطلقاً کہا کہ وارث بنا سکتا ہے اس کا کیا مطلب ہوگا۔ پس صورت مسئولہ کی تحلیل بھی کرکے دیں
Sponsor Ask Ghamidi
