Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Sources of Islam کلالہ کی تقسیم کے بارے میں غامدی صاحب پر ایک اہم اشکال

Tagged: ,

  • کلالہ کی تقسیم کے بارے میں غامدی صاحب پر ایک اہم اشکال

    Posted by Muhammad Hamayoon on February 24, 2026 at 5:10 am

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب میرا سوال اپ کی تفسیر کے ایک آیت کے متعلق ہے کہ آپ نے سورۃ النساء آیت نمبر 12 جو لفظ “کلالہ” آیا ہے، اس کی اپنے تشریح یہ کی کہ وہاں پہ کوئی شخص کسی کو بھی اپنا وارث بنا سکتا ہے اگر چہ اس کے بھائی زندہ بھی ہوں۔ تو سوال میرا یہ ہے اگر کوئی شخص اپنے بھائی وغیرہ کے ہونے کے باوجود بھی اپنے چاچو یا مامو کو وارث بنا لے تو سورۃ النساء کی آخری آیت، وہاں پہ تو “کلالہ” کا اگر کوئی بھائی ہو یا کوئی بہن ہو یا متعدد بہن بھائی ہوں تو ان کی میراث مقرر کی گئی ہے، تو آپ نے تو مطلقا یہ کہا کہ ” کلالہ”کے اندر کہ جس کو بھی چاہے وہ اپنا وارث بنا سکتا ہے اگرچہ اس کے بھائی بھی موجود ہوں، تو آپ نے یہ شرط نہیں لگائی کہ اگر “کلالہ” جو شخص ہے اگر اس کے بھائی موجود ہوں تو پھر اس کے اندر اس قاعدے کے مطابق میراث تقسیم ہوگی سورۃ النساء کی آخری آیت میں بیان ہوا ہے، اگر یہ صورت نہ ہو یعنی کلالہ کی کوئی بہن بھائی نہ ہو تب باقی رشتے داروں میں وہ کسی کو اپنا وارث بنا سکتا ہے آیت نمبر 12 کے حکم کے تحت تب تو آپ کی بات پر کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا۔ البتہ چونکہ آپ نے یہ شرط نہیں لگائی تو اس اشکال کا آپ کے ہاں کیا جواب ہوگا کہ اگر کوئی شخص مرجائے جائے اور وہ “کلالہ” ہو اور اس کی دو حقیقی بہنیں اور ایک حقیقی بھائی زندہ ہوں اور اس شخص کے تین چاچو بھی زندہ ہوں تو اس نے اپنے ایک چاچو کو وارث بنایا اپنے سارے مال کا، تو آپ کے نزدیک کیا سارا مال چاچوں میں تقسیم ہوگا بھائی بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا یا سورہ النساء کی آخری آیت کے تحت سارا مال بھائی بہنوں کو ملے گا، چاچو محروم ہونگے۔ اگر دوسری صورت درست ہے تو آپ نے جو “البیان” میں مطلقاً کہا کہ وارث بنا سکتا ہے اس کا کیا مطلب ہوگا۔ پس صورت مسئولہ کی تحلیل بھی کرکے دیں

    Umer replied 2 weeks, 2 days ago 3 Members · 7 Replies
  • 7 Replies
  • کلالہ کی تقسیم کے بارے میں غامدی صاحب پر ایک اہم اشکال

    Umer updated 2 weeks, 2 days ago 3 Members · 7 Replies
  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar February 25, 2026 at 10:52 pm

    کلالہ سے مراد مرنے والا نہیں، بلکہ وہ اولاد اور والدین کے علاوہ وہ رشتہ دار ہے جسے بطور وارث نامزد کیا جائے۔

    آیت 176 کے حاشیے میں غامدی صاحب نے وضاحت کی ہے کہ قانون وراثت کے تحت بہن بھائیوں کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے رشتہ دار کو میراث کے صر ف اس حصے کے لیے نامزد کیا جا سکتا ہے جو تقسیم کے بعد بچ رہے۔

    یہ قانون میراث کے تحت ہے۔ البتہ وصیت کرنے کا مطلق اختیار اسے الگ سے حاصل ہے۔ وہ اگر کسی ایک رشتہ دار کے بارے میں سارے ترکے کی وصیت کر جاتا ہے تو سب اسے ملے گا۔

  • Muhammad Hamayoon

    Member February 27, 2026 at 1:00 am

    آپ نے فرمایا کہ وصیت ہر حال میں نافذ ہوگی اور پورے مال بھی نافذ ہوسکتی ہے آپ کے بقول، مطلب اگر کوئی بھی شخص اپنی اولاد کو محروم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے؟ یعنی اپنی اولاد کی موجودگی میں کسی اپنے کسی بھائی کو یا کسی اور رشتے دار کو وصیت کرکے پورے مال کا وارث بنا سکتا ہے؟۔ آپ کے کہنے کے مطابق پھر اللہ کا مقرر کردہ تقسیم نافذ العمل نہیں ہوگا۔ اگر یہ بات اس طرح ہے کہ کوئی بھی شخص وصیت کے ذریعے چاہے اسکی اولاد ہو یا نہ ہو کسی کو بھی بطور وصیت وارث بنا سکتا ہے۔ تو قرآن نے کلالہ کا حکم الگ سے کیوں ذکر کیا،؟ چونکہ وصیت تو کلالہ تو بھی کرسکتا تھا، بس کلالہ اگر کسی کو وارث بنا سکتا ہے وصیت کے ذریعے، تو سوال یہ ہے قرآن مجید نے دو الگ الگ جگہوں میں اہتمام کے ساتھ بطور خاص وارث بنانے کا حکم کلالہ ساتھ کیوں ذکر کیا۔؟ اور دوسرا سوال یہ کہ باقی فقہاء فرماتے ہیں وصیت ایک تہائی سے زائد میں نافذ نہیں ہوگی۔ جس حدیث سے وہ استدلال کرتے ہیں کیا آپ لوگ اس حدیث کو نہیں مانتے یا پھر کس وجہ سے آپ لوگ اس کے قائل ہیں کہ پورے مال میں وصیت درست ہے؟۔ اور اس حدیث کا کیا محمل ہوگا آپ لوگوں کے ہاں “لا وصیۃ لوارث” کہ وارث کے حق میں وصیت درست نہیں۔

    یعنی اگر آپ لوگوں کی بات کو لیا جائے تو کوئی بھی شخص کسی محروم کرسکتا ہے وصیت کے ذریعے اور وصیت بھی پورے مال میں نافذ ہوسکتی ہے، تو اس میں لوگوں کے درمیان لڑائیوں اور گنگا فساد نہیں ہوگا؟ اس فساد کو تو روکنے کے لیے قرآن نے بڑے اہتمام کے ساتھ وراثت کے احکام بیان کیے ہیں،؟ یہ تو گویا -معذرت کے ساتھ- معاشرے میں فسادات کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔

    Show quoted text

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar March 3, 2026 at 12:00 am

    قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اپنے قانون وراثت کو اپنی وصیت کہا ہے اور بتایا ہے کہ یہ تب عمل میں لائی جائے گی جب مورث کی وصیت نافذ کر دی جائے اور قرض ادا کر دیا جائے۔ چنانچہ اگر سارا مال قرض میں چلا جائے تب بھی قانون میراث پر عمل نہ ہوگا اور اسی طرح وصیت میں تمام جائدار تقسیم کر دی جائے گی تو بھی قانون میراث پر عمل کی ضرورت نہیں رہے گی۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالی نے من بعد وصیۃ کے الفاظ لائیے ہیں اور اس پر کوئی قید نہیں لگائی۔ اس لیے اس پر کوئی قید نہیں لگ سکتی۔

    حدیث میں ایک تہائی وصیت کا مشورہ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن ابی وقاص کو دیا تھا جو تمام جائیداد خدا کی راہ میں دینا چاہتے تھے۔ یہ مشورہ تھا نہ کوئی کوئی قانونی بیان۔

    مورث کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی وصیت میں کسی کو نقصان نہ پہنچائے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے عدل سے کام لے۔

    دوسری حدیث کہ وارثوں کے لیے وصیت نہیں ہے، یہ ان کے قانونی حصوں کے بارے میں ہے۔ اس میں اب کوئی دوسری وصیت نہیں ہو سکتی۔ البتہ ان کی کوئی انفرادی ضرورت یا خدمت متقاضی ہو تو ان کے لیے وصیت کی جا سکتی ہے۔

    جس مورث کو خدشہ ہو کہ اس کے ورثا اس کی وصیت پر فساد مچائیں گے وہ قانون میراث پر چھوڑ دے۔

    ایک شخص کو اگر اختیار ہے کہ اپنی زںدگی میں اپنی تمام جائیداد کی وصیت کر دے تو یہ اختیار اس کی وصیت میں کیسے ساقط ہو سکتا ہے جب کہ خدا نے اسے ساقط نہیں کیا۔

  • Muhammad Hamayoon

    Member March 10, 2026 at 6:17 am

    بھائی بہت بہت خوب بہت خوب بھائی اچھا جواب دیا اپ نے الحمدللہ، بھائی پوچھنا یہ تھا کہ اگر کوئی بندہ اپ لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہے فکر فراہی کے ساتھ تو ان کی پھر کیا ترتیب ہوگی اپ لوگوں کے پاس امریکہ چلا ائے یا پاکستان میں اپ لوگوں کے سینٹر ہیں تو کوئی اپ لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہے تو اس کی کیا ترتیب ہو سکتی ہے۔میں ویسے تو ایک روایتی مفتی ہوں لیکن آپ لوگوں کے دلائل مجھے مضبوط لگے ہیں اس وجہ سے آپ لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں

    • Umer

      Moderator March 12, 2026 at 5:52 pm

      براہِ کرم اس رضاکارانہ فارم کو پُر کریں۔ اگر ضرورت پیش آئی تو ہماری ٹیم آپ سے رابطہ کرے گی۔ یہ زیادہ تر تنظیم کی ضروریات اور مطلوبہ مہارت و تجربے پر منحصر ہے۔

      https://ghamidicenter.com/volunteer/

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar March 11, 2026 at 5:18 am

    @Umer25 please guide him.

    • Muhammad Hamayoon

      Member March 11, 2026 at 6:10 am

      جی سر جواب نہیں دیا آپ نے اللّٰہ تعالیٰ کو خوش رکھے

You must be logged in to reply.
Login | Register