اسلام علیکم
فقہی اعتبار سے کلاسیکی اسلامی فقہ میں “اہلِ کتاب” کا اطلاق بنیادی طور پر یہود و نصاریٰ پر کیا گیا ہے، جیسا کہ قرآن میں براہِ راست انہی دو گروہوں کا ذکر موجود ہے، اور بعض فقہاء نے مجوس کو بھی اسی حکم میں شامل کیا ہے، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ان کے ساتھ اہلِ کتاب جیسا معاملہ کیا گیا۔
روایتی فقہی موقف یہ ہے کہ “اہلِ کتاب” ایک قانونی اصطلاح ہے جس کے ساتھ مخصوص احکام وابستہ ہیں، جیسے نکاح اور ذبیحہ کے مسائل۔ چونکہ قرآن نے صراحتاً یہود و نصاریٰ کا ذکر کیا ہے، اس لیے فقہاء نے دائرہ کو انہی تک محدود رکھا۔ اس بنا پر ہندو، بدھ یا دیگر قدیم مذاہب کو فقہی معنی میں اہلِ کتاب قرار نہیں دیا گیا۔
البتہ جس زاویے کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے وہ اصولی اور تفسیری نوعیت کا ہے، نہ کہ براہِ راست فقہی۔ قرآن کی آیت “وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ” سے یہ اصول اخذ کیا گیا کہ ہر قوم میں کسی نہ کسی درجے میں ہدایت پہنچی۔ اسی بنیاد پر Muhammad Hamidullah نے اپنی کتاب Introduction to Islam میں یہ امکان بیان کیا کہ قدیم مذاہب کسی اصل وحی کی بگڑی ہوئی شکل ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی و نظری امکان ہے، قطعی دعویٰ نہیں۔
اسی طرح Abul Kalam Azad نے اپنی تفسیر Tarjuman al-Qur’an میں ویدوں میں توحیدی عناصر کی نشان دہی کی اور یہ رائے دی کہ برصغیر کی مذہبی روایت کا کوئی نہ کوئی تعلق ابتدائی وحی سے ہو سکتا ہے۔ ان کا مقصد ہندو مت کو فقہی طور پر اہلِ کتاب قرار دینا نہیں تھا بلکہ یہ دکھانا تھا کہ قرآن کا تصورِ ہدایت آفاقی ہے۔
اسی فکری تسلسل میں Fazlur Rahman نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن کے پیغام کو تاریخی تناظر اور بین المذاہب مکالمے کے ساتھ سمجھا جائے، تاکہ ہم وحی کی آفاقیت کو محدود قومیت کے دائرے میں قید نہ کریں۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ایک چیز “فقہی درجہ بندی” ہے جو عملی احکام کے لیے ہوتی ہے، اور دوسری چیز “کلامی یا تفسیری امکان” ہے جو یہ مانتا ہے کہ تاریخِ انسانیت میں مختلف اقوام تک کسی نہ کسی درجے میں الہامی رہنمائی پہنچی ہوگی۔ پہلے دائرے میں جمہور فقہاء نے اہلِ کتاب کو محدود رکھا ہے، جبکہ دوسرے دائرے میں جدید مفکرین نے وسعت کی بات کی ہے۔
چنانچہ تحقیقی طور پر یہ کہنا درست ہے کہ قرآن کی رو سے ہر قوم تک ہدایت پہنچی، اور ممکن ہے کہ قدیم مذاہب کی جڑ میں کوئی اصل وحی ہو۔ لیکن فقہی اصطلاح “اہلِ کتاب” کو وسیع کر دینا ایک الگ اور زیادہ پیچیدہ مسئلہ ہے جس پر کلاسیکی اجماع موجود ہے اور جدید آراء اس سے مختلف ہو سکتی ہیں۔