Ghamidi Sahab writes:
قرآن کی اِن تصریحات سے یہ تین باتیں بالکل متعین ہو کر سامنے آتی ہیں :
اول یہ کہ ظلم و عدوان کا وجود متحقق بھی ہو تو جہاد اُس وقت تک فرض نہیں ہوتا ،جب تک دشمن کے مقابلے میں مسلمانوں کی حربی قوت ایک خاص حد تک نہ پہنچ جائے ۔ سابقین اولین کے ساتھ دوسرے لوگوں کی شمولیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی میں دو کے مقابلے میں ایک مقرر کر دی تھی ۔ بعد کے زمانوں میں یہ تو متصور نہیں ہو سکتا کہ یہ اِس سے زیادہ ہو سکتی ہے ،لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جہاد و قتال کی اِس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ اپنے اخلاقی وجود کو محکم رکھنے کی کوشش کریں ، بلکہ اپنی حربی قوت بھی اُس درجے تک لازماً بڑھائیں جس کا حکم قرآن نے زمانۂ رسالت کے مسلمانوں کو اُس وقت کی صورت حال کے لحاظ سے دیا تھا:
وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ لَا تَعْلَمُوْنَھُمْ، اَللّٰہُ یَعْلَمُھُمْ، وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ.( الانفال ۸: ۶۰)
’’ تم لوگوں سے جس قدر ہو سکے، اِن کے لیے فوج اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو جس سے اللہ کے دشمنوں پر اور تمھارے اِن دشمنوں پر تمھاری ہیبت رہے اور اِن کے علاوہ دوسروں پر بھی جنھیں تم نہیں جانتے ہو، اللہ اُنھیں جانتا ہے۔(اِس مقصد کے لیے) جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے، وہ تمھیں پورا کر دیا جائے گا اور تمھارے لیے کوئی کمی نہ ہو گی۔‘‘
AND
سورہ کے نظم سے واضح ہے کہ یہ نسبت معرکۂ بدر کے زمانے کی ہے ۔ اِس کے بعد بہت سے نئے لوگ اسلام میں داخل ہوئے جو عزم و بصیرت کے لحاظ سے سابقون الاولون کے ہم پایہ نہیں تھے ۔ اِس کے نتیجے میں مسلمانوں کی تعداد اگرچہ بہت بڑھ گئی ، لیکن ایمان کی قوت اُس درجے پر نہیں رہی جوسابقون الاولون کو حاصل تھا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ اب یہ نسبت ایک اور دو کی ہے ، مسلمانوں کے اگر سو ثابت قدم ہوں گے تو دوسو پر اور ہزار ثابت قدم ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غلبہ پا لیں گے۔
نصرت الٰہی کا یہ ضابطہ قدسیوں کی اُس جماعت کے لیے بیان ہوا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اور براہ راست اللہ کے حکم سے میدان جہاد میں اتری ۔ بعد کے زمانوں میں ، اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی ایمانی حالت کے پیش نظر یہ نسبت کس حد تک کم یا زیادہ ہو سکتی ہے ۔
Please see for details:
https://www.javedahmadghamidi.com/books/5aa6a4315e891e8f44a45788?chapterNo=10&subChapterNo=1&subChsecNo=0&lang=ur
https://www.javedahmadghamidi.com/books/5aa6a4315e891e8f44a45788?chapterNo=10&subChapterNo=2&lang=ur