Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions قطع رحمی

  • قطع رحمی

    Posted by WAJID AZEEM on April 1, 2026 at 2:41 am

    السلام علیکم

    زید کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔

    ایک بیٹی مجرم طبیعت کی ہے۔ سترہ سال قبل اغوا کے ایک کیس میں ملوث رہی ہے۔ پولیس اس سے مغوی بچہ برآمد کر چکی ہے۔

    سترہ سال سے چھوٹی موٹی چوریوں میں بھی ملوث رہی ہے۔۔ یہ چوریاں اپنی کی بہنوں کے زیورات کی ہیں جو پچھلے سترہ سالوں میں وہ کرتی رہی ہے۔

    مذکورہ نے کسی اور کے بچے کو لےپالک لیا اور شوہر کے سامنے اسکا صلبی ظاہر کیا۔ شوہر کے سامنے معاملہ واضح ہوا تو اس نے طلاق دے دی۔

    حال ہی میں اس نے اپنی ایک اور بہن کے گھر سے ساٹھ لاکھ مالیت کا سونا بھی چرا لیا ہے۔

    ایک الزام اپنے والد پر بھی لگایا ہے کہ مذکورہ نے اپنے والد کو 25 لاکھ روپے کا سونا دیا اور اس کی واپسی کا تقاضا کر رہی ہے۔ والد اس سونے کی وصولی کا انکاری ہے۔ اور کہتا ہے کہ کوئی سونا اس کے حوالے نہیں کیا گیا۔

    آپ سے سے گزارش ہے کہ ان تمام واقعات کی روشنی میں یہ بتائی کہ کیا شرعی طور پر مذکورہ عورت کی تمام بہنیں بھائی اور والد اور والدہ اس سے مستقل قطع تعلق کر سکتی ہیں؟ یا ان پر وہ وعیدیں لاگو ہوں گی جو قطع رحمی کرنے والے پر لاگو ہوتی ہیں

    واضح رہے کہ یہ عورت اپنے کسی بھی جرم پر شرمندہ نہیں ہے اور چار بچوں کی ماں ہے

    Dr. Irfan Shahzad replied 7 hours, 15 minutes ago 2 Members · 1 Reply
  • 1 Reply
  • قطع رحمی

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar April 1, 2026 at 3:23 am

    مضر شخص سے دوری اختیار کی جا سکتی ہے بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہو جاتی ہے۔

    البتہ جب انھیں کسی کی مدد کی ضرورت ہو تو صلی رحمی کی بنیاد پر اس کی مدد ضرور کرنی چاہیے۔ اس سے قطع تعلقی کا گناہ نہیں ہوگا۔

    یہ ذہن میں رکھیے کہ غلط رحمی کا مطلب یہ نہیں کہ اس شخص سے ملاقات کرنا بھی ضروری سمجھا جائے۔ کسی ناگوار تختہ دار سے دوری اختیار کرنا قطر تعلقی نہیں۔ قطر تعلقی یہ ہے کہ جب کہیں ملاقات ہو تو سلام بھی نہ کیا جایے اور ضرورت درپیش ہو تو تب بھی اس کی مدد نہ کی جائے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register