Forums › Forums › Islamic Sharia › How To Achieve Jamal O Kamal In Salah
-
How To Achieve Jamal O Kamal In Salah
Posted by Muhammad Talha on September 21, 2023 at 2:17 pmKindly share a detailed thread citing all the sources about how the prophet SAW has advised us to pray and how can one improve, thanks.
Maria Ali replied 1 week, 1 day ago 2 Members · 11 Replies -
11 Replies
-
How To Achieve Jamal O Kamal In Salah
-
Maria Ali
Member January 5, 2026 at 9:02 amKitab-e- muarifat by Molana wahidudin khan.
-
Maria Ali
Member January 5, 2026 at 1:35 pmنبی ﷺ نے نماز کو محض جسمانی حرکات نہیں بنایا بلکہ اسےاللہ کو یاد رکھنے (ذکر) اورانسان کی اندرونی اصلاح کا ذریعہ قرار دیا۔قرآن واضح کرتا ہے:“بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے”(العنکبوت 29:45)اس کا مطلب یہ ہے کہ:سچی نماز انسان کے کردار کو بدلتی ہےاگر نماز کے باوجود برائی کم نہ ہو تو نماز کی روح کمزور ہے2. نبی ﷺ کی نماز کی بنیادی خصوصیاتنبی ﷺ کی نماز میں چند باتیں نمایاں تھیں:اللہ کی عظمت کا شدید احساسعاجزی اور جھکاؤدل کی مکمل توجہآپ ﷺ مشکل حالات میں نماز کی طرف رجوع کرتے تھے، اس لیے کہ:نماز اللہ سے تعلق کو تازہ کرتی ہےاور انسان کو صحیح سمت میں واپس لے آتی ہے3. نماز دین کا محافظ کیسے بنتی ہے؟نماز انسان کو بار بار یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ:اللہ دیکھ رہا ہےاللہ سن رہا ہےاللہ انصاف کرنے والا ہےیہ احساس:شرک سے بچاتا ہےگناہ سے روکتا ہےانسان کو خود احتسابی کی طرف لاتا ہے4. نماز کو بہتر بنانے کا طریقہ(نبی ﷺ کی ہدایت کے مقصد کے مطابق)✅ 1. نماز کو اللہ سے ملاقات سمجھیںنماز یہ احساس پیدا کرے کہ:“میں اللہ کے سامنے کھڑا ہوں، کسی انسان کے سامنے نہیں”یہ احساس ریا اور شرکِ خفی کو کم کرتا ہے۔✅ 2. پڑھے جانے والے الفاظ کا مفہوم سمجھناجب انسان جانتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے:توجہ بڑھتی ہےدل شامل ہوتا ہےنماز زندہ ہو جاتی ہے✅ 3. دل کی حاضری، نہ کہ صرف جسم کی حرکتنبی ﷺ کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے:اللہ جسم نہیں، دل دیکھتا ہےنماز میں دل حاضر ہو تو تھوڑی نماز بھی وزن رکھتی ہے✅ 4. نماز کا اثر نماز کے بعد ظاہر ہونا چاہیےسچی نماز کے بعد:غرور کم ہوتا ہےنرمی اور عاجزی بڑھتی ہےگناہ سے نفرت پیدا ہوتی ہےاگر اثر نہ ہو تو انسان کو طریقہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ترک کرنے کی نہیں۔5. زیادہ شک اور خوف کے بارے میں رہنمائیشرک سے ڈر ایمان کی علامت ہے، لیکن:حد سے زیادہ شک انسان کو تھکا دیتا ہےاللہ نیت دیکھتا ہے، وسوسے نہیںنماز اللہ کے قریب ہونے کا ذریعہ ہے،اللہ سے دوری کا سبب نہیں۔خلاصہنماز دین کی بنیاد ہےنبی ﷺ نے نماز کو ذکر، اصلاح اور تعلقِ الٰہی کا ذریعہ بنایانماز کو بہتر بنانے کا راستہ: سمجھ + توجہ + اخلاصسچی نماز انسان کو شرک، غفلت اور برائی سے بچاتی ہے
-
Maria Ali
Member January 5, 2026 at 1:45 pmطور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے اللہ سے زندہ تعلق کا ذریعہ بنایا۔ آپ ﷺ نے واضح کیا کہ نماز کا اصل مقصد دل کی حاضری، اللہ کی یاد اور انسان کی اخلاقی اصلاح ہے، نہ کہ صرف جسمانی حرکات۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
“نماز اس طرح پڑھو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو” (صحیح بخاری)۔
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نماز کا طریقہ اور اس کی روح دونوں نبی ﷺ کی عملی سنت سے لی جائیں گی۔
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ بندے کو نماز میں اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنی اس کی توجہ ہوتی ہے (سنن ابی داؤد)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نماز میں دل حاضر نہ ہو تو نماز بے فائدہ نہیں ہوتی، لیکن اس کا اثر محدود رہ جاتا ہے۔ اصل مطلوب یہ ہے کہ انسان پوری توجہ کے ساتھ اللہ کے سامنے کھڑا ہو۔
نبی ﷺ کی نماز کی کیفیت یہ تھی کہ آپ آیات پر ٹھہرتے تھے، رحمت کی آیات پر دعا کرتے اور عذاب کی آیات پر اللہ کی پناہ مانگتے تھے (صحیح مسلم)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ایک شعوری عمل ہے، جس میں انسان اللہ کے کلام سے حقیقی تعلق قائم کرتا ہے۔
نبی ﷺ نے نماز اور کردار کے تعلق کو بھی واضح کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس کی نماز اسے برائی سے نہ روکے، اس کی نماز میں کوئی حقیقی اضافہ نہیں ہوتا (مسند احمد)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کا اصل امتحان نماز کے بعد شروع ہوتا ہے، یعنی انسان کی عملی زندگی میں۔
شرک کے بارے میں نبی ﷺ نے خاص طور پر خبردار کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ شرکِ خفی کا خوف ہے، اور وضاحت فرمائی کہ یہ نماز میں لوگوں کے لیے سنورنا یا دکھاوا کرنا ہے (مسند احمد)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں نیت کی درستگی ہی اصل حفاظت ہے۔
نماز کو بہتر بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان نماز سے پہلے چند لمحے رک کر اپنی نیت کو تازہ کرے، یہ شعور رکھے کہ وہ اللہ کے سامنے کھڑا ہے، آہستہ اور سمجھ کر پڑھے، سجدے میں دل سے دعا کرے، اور نماز کے بعد اپنے اعمال کا جائزہ لے۔ اگر نماز کا اثر فوری طور پر نظر نہ آئے تو مایوس ہونے کے بجائے اپنی کیفیت کو بہتر کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے نماز کو ایک زندہ عبادت بنایا جو انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے، برائی سے روکتی ہے اور شرکِ خفی سے محفوظ رکھتی ہے۔ کمزور نماز کو چھوڑنا نہیں بلکہ اسے بہتر بنانا ہی نبی ﷺ کی سنت ہے
-
Maria Ali
Member January 6, 2026 at 3:15 amرسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “الاحسان أن تعبد الله كأنك تراه، فإن لم تكن تراه فإنه يراك”
یعنی: اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو جان لو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔یہ حدیث حدیثِ جبرائیل (Ihsan کے بارے میں نبی ﷺ کی تعلیم) کا وہ حصہ ہے جس میں نبی ﷺ نے عبادت (خاص طور پر اللہ کی یاد و ذکر) کی اصل کیفیت کو سکھایا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان عبادت میں اللہ کی -موجودگی کا شعور پیدا کرے
Sponsor Ask Ghamidi