Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions کیا عدالتوں میں انگریز کے نظام پر چلنا شرک ہے ؟

  • کیا عدالتوں میں انگریز کے نظام پر چلنا شرک ہے ؟

    Posted by Aejaz Ahmed on April 28, 2026 at 6:18 am

    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عدالتوں میں انگریز کے نظام پر چلنا شرک ہے، بینکوں میں سود کے نظام پر چلنا شرک ہے اور کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مخلوط نظام پر چلنا شرک ہے۔

    برائے مہربانی تفصیل سے بتائیں کہ کیا یہ چیزیں شرک ہیں اور نہیں تو کیوں نہیں ؟

    Dr. Irfan Shahzad replied 20 hours, 53 minutes ago 2 Members · 1 Reply
  • 1 Reply
  • کیا عدالتوں میں انگریز کے نظام پر چلنا شرک ہے ؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar April 29, 2026 at 10:35 pm

    یہ سوال تو انھیں لوگوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ شرک کیسے ہے۔

    شرک کہتے ہیں خدا کی ذات، اس کی تخلیق اور اس کے تدبیر امور میں کسی دوسرے کو شریک سمجھنا۔

    حضرت یوسف بھی مصر کے قانون کے تحت رہتے تھے۔ شرک اسے نہیں کہتے۔

    انگریزی قانون میں بھی مسلمانوں کے دینی اجتماعی معاملات میں فیصلہ شریعت کے مطابق ہی دیا جاتا ہے۔ شریعت سے باہر جو قوانین ہیں، اس میں انگریزی قانون یا دوسرے کسی قانون کو اختیار کرنے میں کوئی پابندی نہیں۔

    البتہ خدا کا حکم ہو اور اسے چھوڑ کر کوئی دوسرا حکم اختیار کیا جائے تو یہ نافرمانی کہلاتا ہے۔

    مسجد نبوی میں نماز اور تعلیم مخلوط ہوا کرتی تھی۔ عورتیں ایک طرف اور مرد دوسری طرف بیٹھ جاتے تھے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register