Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions **سورۃ الانبیاء آیت 46 میں “نَفْحَہ” کا عربی لغوی معنی اور عذاب کی شدت**

  • **سورۃ الانبیاء آیت 46 میں “نَفْحَہ” کا عربی لغوی معنی اور عذاب کی شدت**

    Posted by Fiza kanwal on August 22, 2026 at 1:23 am

    سورۃ الانبیاء — آیت 46

    وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ

    ترجمہ:
    “اور اگر انہیں آپ کے رب کے عذاب کی ایک ہلکی سی پھونک بھی چھو جائے تو وہ ضرور کہیں گے: ہائے ہماری بدبختی! بے شک ہم ظالم تھے۔”

    میرا سوال:

    سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر 46 میں لفظ “نَفْحَة” استعمال ہوا ہے۔ عربی لسانی اعتبار سے اس کا مطلب ایک ہلکی یا نرم ہوا کے جھونکے کے طور پر بھی آتا ہے۔ اس آیت میں “نَفْحَة” کو کیسے سمجھنا چاہیے؟ اس سے عذاب کی کتنی مقدار مراد ہے؟ کیا آپ اس کی شدت کو کسی مثال، مثلاً آگ کے اثر، کے ذریعے سمجھا سکتے ہیں؟

    Dr. Irfan Shahzad replied 2 days, 21 hours ago 2 Members · 3 Replies
  • 3 Replies
  • **سورۃ الانبیاء آیت 46 میں “نَفْحَہ” کا عربی لغوی معنی اور عذاب کی شدت**

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar August 24, 2026 at 1:04 am

    اردو میں اسے آگ کا بھبھوکا بھی کہتے ہیں۔ کسی جگہ آگ لگی ہو تو وہاں سے گرم ہوا کے جھونکے آتے ہیں۔ یہ وہی چیز ہے۔ یہ چونکہ دوزخ کی آگ ہوگی تو اس کی شدت بھی بے اندازہ ہے۔

  • Fiza kanwal

    Member August 24, 2026 at 2:37 am

    sir kyaa Allah pak ye keh ry jesy aag lgi ho or hwaa k jhonkay ary hon hmary pass jissy hum urdu me tapsh kehty han hum wo b ni berdasht kskty kya

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar August 24, 2026 at 9:01 am

    جی ہاں

You must be logged in to reply.
Login | Register