-
**سورۃ الانبیاء آیت 46 میں “نَفْحَہ” کا عربی لغوی معنی اور عذاب کی شدت**
سورۃ الانبیاء — آیت 46
وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
ترجمہ:
“اور اگر انہیں آپ کے رب کے عذاب کی ایک ہلکی سی پھونک بھی چھو جائے تو وہ ضرور کہیں گے: ہائے ہماری بدبختی! بے شک ہم ظالم تھے۔”میرا سوال:
سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر 46 میں لفظ “نَفْحَة” استعمال ہوا ہے۔ عربی لسانی اعتبار سے اس کا مطلب ایک ہلکی یا نرم ہوا کے جھونکے کے طور پر بھی آتا ہے۔ اس آیت میں “نَفْحَة” کو کیسے سمجھنا چاہیے؟ اس سے عذاب کی کتنی مقدار مراد ہے؟ کیا آپ اس کی شدت کو کسی مثال، مثلاً آگ کے اثر، کے ذریعے سمجھا سکتے ہیں؟
Sponsor Ask Ghamidi