-
جنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَقَالَ لِيَ: سَلْ، فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ، قَالَ: فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ.
ترجمہ:
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رات گزارتا تھا، اور آپ ﷺ کے وضو کا پانی اور آپ کی ضروریات لے کر حاضر ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: “مانگو!”
میں نے عرض کیا: “میں جنت میں آپ کی رفاقت مانگتا ہوں۔”
آپ ﷺ نے فرمایا: “اس کے علاوہ کچھ اور؟”
میں نے عرض کیا: “بس یہی۔”
تو آپ ﷺ نے فرمایا:“فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ”
“تو اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت کے ذریعے میری مدد کرو۔”📚 صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب فضل السجود والحث عليه، حدیث 489 (بعض ترقیم میں 1094
اس حدیث کا کیا مفہوم ہے اور کن نوافل اور اعمال کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت حاصل ہو سکتی ہے
Sponsor Ask Ghamidi
Sorry, there were no replies found.