-
Principle Behind Assigning Meaning To The Arsh Of Allah In Quran
قرآن مجید میں جہاں بھی لفظ عرش آیا ہے، وہاں امام امین احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی صاحب نے اسے بالعموم “حکومت اور ملکیت” کے معنی میں لیا ہے۔ لیکن جب قرآن میں فرشتوں کے “یحملون العرش” (عرش کو اٹھانے والے) ہونے کا ذکر آتا ہے تو اسے عالمِ متشابہات میں شمار کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک جگہ حقیقی عرش کے وجود کو مان لیا گیا ہے تو پھر استویٰ علی العرش کو محض مجازی معنی میں لینا کس طرح قابلِ فہم ہے؟
اس میں اصولی موقف تو تفویض المعنی و الکیفیہ کا ہونا چاہئے!
Sponsor Ask Ghamidi
In the last 2189 days, 9,946 registered users have posted 70,392 messages under 20,903 unique topics on Ask Ghamidi.