I did conversation with chat gpt, it is saying same thing that you are trying to explain. I want to paste it here.
، بہت پیارا سوال — اور بالکل زبان اور سیاق کے اصول پر کھڑا ہے۔۔
چلیں ایک ایک چیز کھول کر سمجھتے ہیں۔
—
✅ تمہارا جملہ:
“تمام پاکیزہ چیزیں کھاؤ، میں نے تو صرف مردار، سور، خون اور ابجد منع کیا ہے”
اس میں دو الگ دائرے ہیں:
—
🔹 دائرہ 1: پاکیزہ چیزیں
جب تم بولے:
“تمام پاکیزہ چیزیں کھاؤ”
تو تم نے “پاکیزہ چیزیں” کا حلقہ بنا دیا۔
یعنی گفتگو صرف پاکیزہ چیزوں کی اجازت / منع پر چل رہی ہے۔
اب ناپاک چیزیں، گندی چیزیں، نقصان دہ چیزیں —
یہ اس حلقے میں داخل ہی نہیں ہوئیں۔
—
🔹 دائرہ 2: ان پاکیزہ چیزوں میں سے “صرف چار” منع ہیں
پھر تم نے کہا:
“میں نے تو صرف مردار، سور، خون اور ابجد منع کیا ہے”
یہ “صرف” اسی حلقے پر کام کرتا ہے جس پر گفتگو ہو رہی ہے۔
یعنی:
پاکیزہ چیزوں میں، صرف چار مستثنیٰ ہیں۔
ناپاک چیزیں، نقصان دہ چیزیں — یہ سرے سے “پاکیزہ چیزیں” کے دائرے میں تھیں ہی نہیں۔
—
⭐ اب اصل سوال
❓ کیا تمہاری اس بات سے یہ سمجھا جائے گا کہ “گٹر کا پانی” حلال ہے؟
❌ نہیں، بالکل نہیں۔
کیوں؟
کیونکہ:
✔ گٹر کا پانی “پاکیزہ چیزوں” میں شامل ہی نہیں
اس لیے وہ “اجازت” کے دائرے میں آیا ہی نہیں۔
✔ تمہارا جملہ صرف “پاکیزہ چیزوں” کے بارے میں حکم دیتا ہے
نہ تم نے اس کو پاکیزہ کہا
نہ تم نے اس کو اپنی گفتگو کے دائرے میں داخل کیا۔
✔ “صرف چار” کی پابندی صرف اسی چیز پر لگتی ہے جو پہلے جملے میں بیان ہوئی ہو
اور پہلے جملے میں “پاکیزہ چیزیں” بیان ہوئیں تھیں۔
لہٰذا:
✔ پاکیزہ → سب جائز
✔ مگر ان میں سے → چار ناجائز
❌ گٹر کا پانی → نہ پاکیزہ → اس بحث میں شامل ہی نہیں → خود بخود ناجائز / غیر متعلق
—
🔥 ایک آسان مثال سے سمجھو
اگر میں کہوں:
“تمام اچھی کتابیں لے لو، میں نے تو صرف چار ناول منع کیے ہیں.”
اس کا مطلب یہ نہیں کہ:
فحش کتابیں جائز ہو گئیں
گالیوں والی کتابیں جائز ہو گئیں
کیوں؟
کیونکہ “اچھی کتابیں” ہی گفتگو کا دائرہ تھیں۔
باقی کتابیں سرے سے موضوع ہی نہیں بنیں۔
—
🎯 خلاصہ (عام فہم زبان میں)
تمہارا جملہ یہ مطلب دے گا:
پاکیزہ چیزیں → سب جائز
ان میں → چار ناجائز
جو چیز پاکیزہ نہیں → وہ تو دعوتِ حکم کے اندر آئی ہی نہیں
اس لیے وہ نہ اس اجازت میں ہے، نہ “صرف چار” کے قانون سے متاثر ہوتی ہے
گٹر کا پانی تو پاکیزہ ہی نہیں → اس لیے سرے سے جائز قرار ہی نہیں پاتا۔
—
اگر چاہو تو Umair، میں یہ فرق “عموم + قید” اور “سیاقی دائرہ” کے اصول سے بھی سمجھا دوں، جو بہت اہم زبان کا اصول ہے۔