Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Sources of Islam Understanding Of Word "Innama" In 7:33 And 2:173 For Haram Things

  • Understanding Of Word "Innama" In 7:33 And 2:173 For Haram Things

    Posted by Umair Zafar on December 5, 2025 at 8:22 pm

    غامدی صاحب سورہ اعراف کا اکثر بتاتے ہیں کہ وہاں صرف یہ 5 چیزیں حرام قرار دی گئی ہیں۔وہاں “انما” کا لفظ استعمال ہوا ہے۔یعنی صرف یہ پانچ چیزیں حرام ہیں۔

    لیکن یہی لفظ سورہ بقرہ 173 میں بھی استعمال ہوا ہے کہ اس نے تم پر صرف مردار،خون،سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبیحہ حرام قرار دیا ہے۔یہاں غامدی صاحب انما سے یہ مراد نہیں لیتے کہ اس کے علاؤہ کچھ حرام نہیں بلکہ وہ تاویل کرتے ہیں کہ باقی چیزیں ممنوعات فطرت ہیں۔۔۔۔اس طرح کی کوئی بھی تاویل پھر اعراف میں بھی کی جا سکتی ہے۔

    Umair Zafar replied 3 weeks, 1 day ago 2 Members · 4 Replies
  • 4 Replies
  • Understanding Of Word "Innama" In 7:33 And 2:173 For Haram Things

    Umair Zafar updated 3 weeks, 1 day ago 2 Members · 4 Replies
  • Umer

    Moderator December 8, 2025 at 12:29 am

    Please See:

    Discussion 89127 • Reply 89132

  • Umair Zafar

    Member December 9, 2025 at 12:55 am

    میں نے یہ پورا دیکھا ہے، اور وہاں موجود غامدی صاحب کی ویڈیو دیکھی ہے۔

    لیکن مطمئن نہیں ہوا، وہ کہتے ہیں کہ پیچھے “طیبات” کے کھانے اور خبائث سے اجتناب کا کہا ہے۔ لیکن آگے یہ آیت ہے کہ صرف یہ چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں۔ یہاں یہ جملے اگر ہم اپنی زبان میں بھی استعمال کرے جیسے کہ :

    تیرے لیے طیبات حلال ہیں اور خبائث حرام ہیں۔ تیرے لیے صرف یہ چار چیزیں حرام ہیں

    تو کوئی بھی اردو سمجھنے والا متکلم کا منشاء یہ سمجھے گا کہ پیچھے جن خبائث سے اجتناب کا کہا ہے وہ صرف چار ہیں جن کا آگے ذکر ہے۔یہ بہت عام بات ہے۔ ۔اب یہ جو آیت ہے یہاں بھی صاف طور پر مطلب یہ ہے خبائث صرف چار ہیں۔

    یا یہ مطلب بنتا ہے کہ یہ چار چیزیں اصل میں طیبات تھی لیکن اللہ نے حرام قرار دے دیا۔کیونکہ پیچھے طیبات کا ذکر ہے۔

    جو مطلب غامدی صاحب نکال رہے ہیں اس کی ہماری زبان میں کیا مثال ہے؟

    • Umer

      Moderator December 9, 2025 at 10:44 pm

      Tamam pakeeza cheezain Khao, mainay toh sirf in chaar sai hi Mana Kiya hai.
      (Is main aqal wazeh rehnumai Karti hai kai is main pakeeza cheezon kai siyaaq main baat horahi hai. Yaani in pakeeza cheezon main sai jin main shuba hoo Sakta thaa woh bas chaar hi thii Jo mainay Bata Dii).
      Aam Urdu zaban main bh koe diqqat nhi is jumlay ki saakht samjhnay main.

  • Umair Zafar

    Member December 10, 2025 at 12:16 am

    I did conversation with chat gpt, it is saying same thing that you are trying to explain. I want to paste it here.

    ، بہت پیارا سوال — اور بالکل زبان اور سیاق کے اصول پر کھڑا ہے۔۔

    چلیں ایک ایک چیز کھول کر سمجھتے ہیں۔

    ✅ تمہارا جملہ:

    “تمام پاکیزہ چیزیں کھاؤ، میں نے تو صرف مردار، سور، خون اور ابجد منع کیا ہے”

    اس میں دو الگ دائرے ہیں:

    🔹 دائرہ 1: پاکیزہ چیزیں

    جب تم بولے:

    “تمام پاکیزہ چیزیں کھاؤ”

    تو تم نے “پاکیزہ چیزیں” کا حلقہ بنا دیا۔

    یعنی گفتگو صرف پاکیزہ چیزوں کی اجازت / منع پر چل رہی ہے۔

    اب ناپاک چیزیں، گندی چیزیں، نقصان دہ چیزیں —

    یہ اس حلقے میں داخل ہی نہیں ہوئیں۔

    🔹 دائرہ 2: ان پاکیزہ چیزوں میں سے “صرف چار” منع ہیں

    پھر تم نے کہا:

    “میں نے تو صرف مردار، سور، خون اور ابجد منع کیا ہے”

    یہ “صرف” اسی حلقے پر کام کرتا ہے جس پر گفتگو ہو رہی ہے۔

    یعنی:

    پاکیزہ چیزوں میں، صرف چار مستثنیٰ ہیں۔

    ناپاک چیزیں، نقصان دہ چیزیں — یہ سرے سے “پاکیزہ چیزیں” کے دائرے میں تھیں ہی نہیں۔

    ⭐ اب اصل سوال

    ❓ کیا تمہاری اس بات سے یہ سمجھا جائے گا کہ “گٹر کا پانی” حلال ہے؟

    ❌ نہیں، بالکل نہیں۔

    کیوں؟

    کیونکہ:

    ✔ گٹر کا پانی “پاکیزہ چیزوں” میں شامل ہی نہیں

    اس لیے وہ “اجازت” کے دائرے میں آیا ہی نہیں۔

    ✔ تمہارا جملہ صرف “پاکیزہ چیزوں” کے بارے میں حکم دیتا ہے

    نہ تم نے اس کو پاکیزہ کہا

    نہ تم نے اس کو اپنی گفتگو کے دائرے میں داخل کیا۔

    ✔ “صرف چار” کی پابندی صرف اسی چیز پر لگتی ہے جو پہلے جملے میں بیان ہوئی ہو

    اور پہلے جملے میں “پاکیزہ چیزیں” بیان ہوئیں تھیں۔

    لہٰذا:

    ✔ پاکیزہ → سب جائز

    ✔ مگر ان میں سے → چار ناجائز

    ❌ گٹر کا پانی → نہ پاکیزہ → اس بحث میں شامل ہی نہیں → خود بخود ناجائز / غیر متعلق

    🔥 ایک آسان مثال سے سمجھو

    اگر میں کہوں:

    “تمام اچھی کتابیں لے لو، میں نے تو صرف چار ناول منع کیے ہیں.”

    اس کا مطلب یہ نہیں کہ:

    فحش کتابیں جائز ہو گئیں

    گالیوں والی کتابیں جائز ہو گئیں

    کیوں؟

    کیونکہ “اچھی کتابیں” ہی گفتگو کا دائرہ تھیں۔

    باقی کتابیں سرے سے موضوع ہی نہیں بنیں۔

    🎯 خلاصہ (عام فہم زبان میں)

    تمہارا جملہ یہ مطلب دے گا:

    پاکیزہ چیزیں → سب جائز

    ان میں → چار ناجائز

    جو چیز پاکیزہ نہیں → وہ تو دعوتِ حکم کے اندر آئی ہی نہیں

    اس لیے وہ نہ اس اجازت میں ہے، نہ “صرف چار” کے قانون سے متاثر ہوتی ہے

    گٹر کا پانی تو پاکیزہ ہی نہیں → اس لیے سرے سے جائز قرار ہی نہیں پاتا۔

    اگر چاہو تو Umair، میں یہ فرق “عموم + قید” اور “سیاقی دائرہ” کے اصول سے بھی سمجھا دوں، جو بہت اہم زبان کا اصول ہے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register