Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Sources of Islam Story Of Adam And Eve- Fruit Tree And Claims Of Iblees- Tafsir Ghamidi

Tagged: 

  • Story Of Adam And Eve- Fruit Tree And Claims Of Iblees- Tafsir Ghamidi

    Posted by Mehmood ul Hassan Aalami on December 8, 2025 at 12:30 pm

    ”شجرۃ الخلد“ اور شیطانی دعووں کی تفسیرِ غامدی

    (چند سوالات کے تناظر میں)

    از قلم: محمود الحسن عالمی

    استاد محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب اپنی تفسیر القرآن”البیان“ ، سورہ البقرہ ، آیت نمبر 35 ، حاشیہ نمبر:87 کی تشریح میں فرماتے ہیں:

    ””سورۂ طہ (۲۰) کی آیت ۱۲۰ میں اِسے ’شَجَرَۃُ الْخُلْد‘ کہا گیا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ لفظ ’اَلشَّجَرَۃَ‘ یہاں مجازی مفہوم میں ہے۔ ’شَجَرَۃُ الْخُلْد‘ کے لفظ سے جو معنی ظاہر ہوتے ہیں اور اِس درخت کا پھل کھانے کے جو اثرات قرآن کے دوسرے مقامات پر بیان ہوئے ہیں، دونوں اِس بات کی طرف صاف اشارہ کرتے ہیں کہ اِس سے مراد وہی شجرۂ تناسل ہے جس کا پھل کھانے کے باعث انسان اِس دنیا میں اپنے آپ کو باقی رکھے ہوئے ہے، لیکن آج بھی دنیا میں اُس کے لیے سب سے بڑی آزمایش اگر کوئی ہے تو یہی درخت ہے۔ سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۲۷سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان سب سے بڑھ کر اِسی کو فتنے کا ذریعہ بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے لباس قرار دیا اور اُنھیں اجازت دی کہ وہ یہ لباس پہن کر اِس درخت کا پھل کھائیں، لیکن شیطان ہمیشہ اُنھیں اِس لباس کے بغیر ہی اِس کا پھل کھانے کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔““

    پس اِس تعبیر و تفسیر سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں:

    (1) زیر بحث ،البقرہ ، آیت 35 کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

    ۔”اور ہم نے کہا: اے آدم، تم اور تمھاری بیوی، دونوں اِس باغ میں رہو۔ “

    یعنی آیت سے ثابت ہوا کہ باغ میں آدم و حوا علیہم السلام کو میاں بیوی کی حیثیت سے بسایا گیا تھا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مابین ازدواجی تعلق استوار تھا اور اس کی بے جا مناہی نہ صرف خلافِ فطرت معلوم ہوتی ہے بلکہ قرآن و حدیث میں سرے سے اس کی کوئی نص موجود نہیں کہ جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ روزے کی حالت کی طرح ایک غیر معمولی اور خصوصی مناہی خداوند کی جانب سے تھی۔یعنی یہ کسی علمی بنیاد سے محروم ایک خیالی مفروضہ ہے کہ باغ میں آدم و حوا علیھم السلام میاں بیوی ہونے کے باوجود حکم خداوندی سے ازدواجی تعلق کی مناہی میں تھے۔

    2۔شجرہ تناسل کی تعبیر اس لیے بھی صحیح معلوم نہیں ہوتی ہے کیونکہ بقول غامدی صاحب کے شیطان نے جن دعووں سے بہکایا تھا وہ اپنی اصل میں حقیقی اور سچے تھے۔(حوالہ نمبر 1 ملاحظہ فرمائیں)۔جس طرح کے قرآن کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بنیادی طور پر چار دعوے کیے:

    1۔یہ ہمیشگی کا درخت کا پھل ہے اور تم اس کے کھانے سے ہمیشہ زندہ رہو گے۔

    2۔اس کے کھانے کے بعد تم کو ہمیشہ کی بادشاہی مل گئی جس پر کھبی زوال نہ آئے گا۔

    3۔ اس کے کھانے کے بعد تم فرشتے بن جاؤں گئے۔

    4۔ میں ابلیس تمہارا خیر خواہ ہوں۔

    حالانکہ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ چاروں دعوے جھوٹے ثابت ہوئے،کیونکہ :

    1۔ نہ ہی آدم فرشتے بنے ،

    2۔ نہ ہی اس کے کھانے کے بعد انھیں ہمیشگی کی بادشاہی ملی کہ الٹا زمین کی مشقت والی زندگی میں بھیج دیے گئے،

    3۔نہ ہی انھیں ہمیشگی کی زندگی ملی بلکہ اپنی دنیاوی زندگی گزارنے کے بعد طبی موت”Medical Death” کا ذائقہ چکھنا پڑا،

    4۔نہ ہی ابلیس آدم کا خیر خواہ نکلا۔

    پھر سب سے اہم یہ کہ قرآن نے خود ہی ہمیں بتا دیا ہے کہ یہ چاروں دعوے اپنی اصل میں فریبی یعنی جھوٹے تھے ملاحظہ فرمائیں، سورہ الاعراف ، آیت 22:

    ”اِس طرح فریب دے کر اُس نے دونوں کو رفتہ رفتہ مائل کر لیا۔“

    پس عملی تصدیقات کے ساتھ ساتھ قرآن کی تصدیق کے بعد بھی استاد غامدی صاحب کا یہ فرمانا کہ شیطان کے یہ تینوں دعوے اپنی اصل میں سچے تھے (1) ، بندہ ناچیز کے طالب علمانہ فہم رائے کے مطابق ، ایک درست رائے نہیں ہے۔

    دوسری گزارش یہ کہ نہ صرف یہ کہ یہ دعوے سچے نہیں تھے بلکہ یہ شجرہ تناسل کی تعبیر سے متعلق بھی نہیں ہوتے دیکھائی دیتے:

    1۔سورہ الاعراف، آیت 20 کے مطابق پہلے دعوے میں شیطان نے یہ لالچ دیا کہ خدا نے تمہیں ازدواجی تعلق سے اس لیے روکا ہے کہ کہی تم فرشتے نہ بن جاؤں۔ غور فرمائیے کہ یہ ازدواجی تعلق اور فرشتہ بن جانے کا کیا کوئی براہ راست تعلق بنتا ہے ؟؟؟

    2۔سورہ الاعراف، آیت 20 کے ہی مطابق دوسرے دعوے میں ابلیس نے یہ لالچ دیا تھا کہ خدا نے تمہیں ازدواجی تعلق سے اس لیے روکا ہے کہ کہی تم ہمیشہ کی زندگی حاصل نہ کر پاوں۔ غور فرمائیے کہ ازدواجی تعلق اور ہمیشہ کی زندگی میں کا بھی آپس میں کیا براہ راست تعلق ہے ؟؟؟

    اس ضمن میں استاد غامدی صاحب فرماتے ہے کہ یہ آدم کو آدم کی جسمانی بقاء کا لالچ نہیں دیا گیا تھا بلکہ احساسی بقاء کا لالچ تھا۔(ملاحظہ فرمائیں: حوالہ نمبر: 1 )

    یعنی نسل کی صورت میں آدم کو زندہ رہنے کا احساس۔ لیکن اگر باغور ملاحظہ فرمائیں کہ قرآن نے اس کے لیے جو لفظ استعمال کیا ہے وہ ہے : ”الۡخٰلِدِيۡنَ“۔ عرض لفظ” الخالدین“ کا اگر اِس آیت میں معنی ”نسل آدم کے ذریعے آدم کی احساسی بقاء“ ہے تو قرآن میں دیگر کس مقام پر یہ لفظ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے ؟؟؟

    اگر دیگر مقامات پر یہ لفظ آنے کے باوجود “احساسی بقاء “ کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا ہے تو پس ہمیں سمجھ جانا چاہیے کہ یہاں پر اس آیت میں اگر اس لفظ سے مراد صرف اس کی ”احساسی بقاء“ مراد لی جائے تو یہ محض ایک خیالی مفروضہ یا ادبی رنگ بازی ہے جس کی بنیاد قرآن و صحیح حدیثی مصادر میں کہی نہیں ملتی۔

    3۔ سورہ طہ کی آیت: 120 کے مطابق تیسرے دعوے میں ابلیس نے یہ لالچ دیا تھا کہ خدا نے تمہیں ازدواجی تعلق سے اس لیے روکا ہے کہ کہی تم لازوال بادشاہی حاصل نہ کرو۔ غور فرمائیے کہ ازدواجی تعلق اور ہمیشہ کی بادشاہی کا بھی آپس میں کیا براہ راست تعلق بنتا ہے ؟؟؟ اگر محترم استاد غامدی صاحب اس بادشاہی سے مراد ذریت آدم کی بادشاہی لیتے ہیں تو اس پر بھی سابقہ نقطہء کی طرح یہی بصد احترام عرض ہے کہ یہ محض ایک خیالی مفروضہ یا ادبی رنگ بازی ہے جس کی بنیاد قرآن و صحیح حدیثی مصادر میں کہی نہیں ملتی۔

    پس اس سلسلے میں استاد غامدی صاحب کے استاد امام امین احسن اصلاحی اور ان کے ہم فکر متقدمین و مفسرین کرام کی درج ذیل رائے صحیح ، معتدل اور متوازن معلوم ہوتی ہے۔ جن کی اس مسئلے میں یہ رائے ہے کہ :

    ”وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ: شجرہ پر الف لام داخل ہے جس سے یہ بات تو واضح ہے کہ جہاں تک آدم اور حوا علیہما السلام کا تعلق ہے، ان کو یہ درخت تعین اور تخصیص کے ساتھ بتا دیا گیا تھا۔ رہا یہ سوال کہ یہ درخت کس چیز کا تھا؟ تو اس سوال کا جواب نہ تو قرآن مجید نے دیا ہے اور نہ کسی صحیح حدیث ہی میں اس کا جواب موجود ہے اس وجہ سے اس کو معلوم کرنے کی کوشش ایک لاحاصل کوشش ہے۔ ہمارے نزدیک اس بارے میں صحیح مسلک امام ابن جریر کا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ “ہم تعین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ درخت کس چیز کا تھا کیونکہ اس کے تعین کے لئے کوئی دلیل نہ تو ہمیں قرآن ہی میں ملتی ہے اور نہ حدیث ہی میں، پھر آخر کوئی شخص کوئی بات کہے تو کس سند پر”۔ ہمارے نزدیک اس درخت کو معلوم کرنے کی چنداں ضرورت بھی نہیں ہے۔ اصل چیز جو یہاں قرآن مجید بتانی چاہتا ہے وہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح فرشتوں اور جنات کی وفاداری اور اطاعت کا امتحان آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دے کر لیا اسی طرح آدم علیہ السلام کی اطاعت و وفاداری کا امتحان ان کے لئے جنت کے درختوں میں سے ایک درخت کو حرام ٹھہرا کر لیا۔ نعمتوں سے بھری ہوئی اس جنت میں صرف ایک درخت ایسا تھا جس سے فائدہ اٹھانے سے حضرت آدم علیہ السلام کو روکا گیا تھا۔ لیکن انسان کی فطرت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ جس چیز سے وہ روک دیا جاتا ہے اسی کا وہ زیادہ حریص بن جایا کرتا ہے۔ چنانچہ ابلیس نے آدم علیہ السلام کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور ان کو یہ سمجھانا شروع کر دیا کہ زندگی جاوداں اور ملک لازوال کا راز اگر مضمر ہے تو بس اسی درخت کے پھلوں میں ہے جس سے ان کو محروم کر دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آدم علیہ السلام شیطان کے اس چکمے میں آگئے اور اس درخت کا پھل کھا بیٹھے۔“

    اقتباس از:” تفسیر امین احسن اصلاحی ، تدبر القرآن ، آیت نمبر 35“

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حوالہ نمبر:1:

    فی تفسیر سورہ الاعراف، آیت نمبر 20، حاشیہ نمبر 309:

    ”شیطان کی اِس بات میں، اگر غور کیجیے تو اتنی سچائی بھی ہے کہ یہ اُسی درخت کا پھل ہے جس کے کھانے سے دنیا میں انسان کی زندگی کا تسلسل قائم ہے۔ “

    حوالہ نمبر:2:

    فی تفسیر سورہ طہ ، آیت نمبر 120 , حاشیہ نمبر: 146

    شیطان کی یہ بات، اگر غور کیجیے تو ایسی غلط بھی نہیں تھی، اِس لیے کہ یہ اِسی درخت کا پھل ہے، جس کے کھانے سے انسان کی زندگی کا تسلسل دنیا میں قائم ہے

    ★★★

    نوٹ: ”یہ سوالات دین کے ایک ادنی طالب علم کی جانب سے پوری نیک نیتی اور حصول علم کے مقصد کے تحت استاد محترم جناب غامدی صاحب کی بارگاہ فکر میں پیش کیے جا رہے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ استاد غامدی صاحب کے فیضان علم کا یہ ہی کرشمہ ہے کہ خاکسار اِس نہج و اسلوب میں آج کسی دینی فکر و تعبیر پر تنقید کرنے کے قابل ہوا ہے۔ لہذا بندہ ناچیز و طالب علم کی تنقید کو ہرگز کسی بے ادبی یا گستاخی پر محمول نہ کیا جائے۔ واللہ! استاد غامدی صاحب کے لیے میرے دل میں وہی حیثیت و رتبہ ہے جو افلاطون سقراط کے لیے، رومی شمس تبریزی کے لیے، اور استاد غامدی اپنے استاد امام اصلاحی کے لیے رکھتے ہیں۔“

    Mehmood ul Hassan Aalami replied 2 months, 1 week ago 3 Members · 14 Replies
  • 14 Replies
  • Story Of Adam And Eve- Fruit Tree And Claims Of Iblees- Tafsir Ghamidi

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar December 8, 2025 at 11:53 pm

    آپ اس فکر سے کسی درجے میں واقف ہیں تو یہ علم ہوگا کہ ہمارے ہاں سوال کرنے، اختلاف کرنے اور اپنے اختلاف پر قائم رہنے میں بھی کوئی حرج نہیں رکھا گیا۔

    اس لیے محض سوال یا اختلاف کو بے ادبی پر محمول نہیں کیا جاتا۔ البتہ الفاظ کا چناؤ طالب علمانہ ہونا ضروری ہے۔ آپ کی تحریر میں ” ادبی رنگ بازی” کے الفاظ البتہ بے ادبی کا پہلو رکھتے ہیں۔

    استاد محترم ایسی حرکتیں نہیں کرتے۔

    آپ کے سوال کا جواب بہرحال آپ کو دیا جائے گا۔

    شکریہ

  • Mehmood ul Hassan Aalami

    Member December 9, 2025 at 12:33 am

    محترم!
    ادبی رنگ بازی سے مراد وہ خیال یا فکر ہے جو اپنے ظاہر میں نہایت پرکشش، حسین اور متاثر کن دکھائی دے، لیکن اس کی باطنی روح یا اصل حقیقت محض تخیل پر مبنی ہو۔یوں سمجھئے کہ جیسے داستان، افسانہ یا ناول کے افکار و خیالات—جو ظاہری طور پر انتہائی اثر انگیز، سبق آموز اور فکری رچاؤ سے بھرپور ہوتے ہیں،لیکن ان کی بنیاد میں موجود کہانی، کردار اور پلاٹ حقیقت نہیں بلکہ تخیل کی تخلیق ہوتے ہیں۔لہٰذا “ادبی رنگ بازی” کا لفظ صرف منفی تنقید کے طور پر نہیں بلکہ اپنے سیاق و سباق کے اعتبار سے ایک مثبت اور حقیقت پسندانہ اعتراف کے طور پر استعمال بھی ہوتا ہے—المختصر کسی فکر کے ظاہری حسن و جمال کو تسلیم کرتے ہوئے،اس کی باطنی، حقیقی بنیاد پر عدم اعتماد یا اس کے خیالی پن کی طرف اشارہ کرنا۔اس کے باوجود بھی اگر آپ اِس لفط کو سوءِ ادب یا دل آزاری کے طور پر شمار کرتے ہیں، تو میں تہہ دل سے معذورت خواہ ہوں اور اس ” لفظ“ سے رجوع کرتا ہوں۔
    جزاک اللہ خیراً کثیرا۔

  • Muhammad Naeem Khan

    Member December 10, 2025 at 12:05 pm

    محترم آپ کا پہلا مقدمہ ہی باطل ہے آپ لکھتے ہیں: جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مابین ازدواجی تعلق استوار تھا


    پہلے تو اس مقدمہ کو ثابت کریں پھر انشااللہ آپ کی دوسری باتوں کا جواب دیتا ہوں ۔ یاد رہے آپ نے قرآن اور حدیث سے اس کی نص دینی ہے۔

    شکریہ۔

  • Mehmood ul Hassan Aalami

    Member December 10, 2025 at 7:35 pm

    محترم!

    سیدنا آدم و حوا علیہما السلام کے میاں بیوی ہونے پر قرآن میں کئی نصوص قطعیہ موجود ہیں۔اِس ضمن میں تقاضائے اختصار کے پیش نظر صرف ایک آیت پیش خدمت ہے،ملاحظہ فرمائیے:

    “اور ہم نے کہا: اے آدم، تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں رہو، پھر جہاں سے چاہو، فراغت کے ساتھ کھاؤ، لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ حد سے گزرنے والوں میں شمار ہو جاؤ گے۔”

    حوالہ: مترجم: استاد محترم جاوید احمد غامدی، البیان — سورۃ البقرہ، آیت 35

    پس میاں بیوی میں ازدواجی تعلق کا ہونا عین فطری اور معمولی ہے۔اِس تعلق کی بھی قرآن میں کئی نصوص قطعیہ موجود ہیں۔ درج ذیل میں تقاضائے اختصار کے پیش نظر صرف ایک آیت رقم کی جارہی ہے:

    “روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا تمھارے لیے جائز قرار دیا گیا ہے۔ وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے لباس ہو… پھر اب (رات کے وقت) اُن سے تعلق رکھو اور جو کچھ خدا نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے، اُس کی طلب کرو…”

    حوالہ:
    ترجمہ: استاد محترم جاوید احمد غامدی البیان — سورۃ البقرہ، آیت 187

    پس ایک غیر فطری اور غیر معمولی حکم خداوندی یعنی (سیدنا آدم کو ان کی زوجہ حوا علیہ السلام سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کی مناہی) پر آپ کو قرآنی نص قطعی دینے کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ایک غیر فطری اور غیر معمولی حکم خداوندی پر آپ یقین فرماتے ہیں میں نہیں۔

    خصوصاً اِس صورت حال میں کہ جب قرآن و احادیث صحیحہ کی نصوص قطعیہ میاں بیوی میں ازدواجی تعلق کو پاکیزہ ،عبادت اور باعث ثواب بتاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن نے رمضان کے ماہ میں بھی مکمل مناہی کی بجائے صرف دن کے وقت (روزے کی حالت میں) ازدواجی تعلق کی مناہی کی ہے کیونکہ مکمل مناہی غیر فطری اور خدا کی عمومی سنتوں کے مخالف ہے۔نیز ساری ملت اسلامیہ تو اک طرف ساری انسانیت کا اس بات پر اجماع ہے کہ میاں بیوی کے تعلق کا دوسرا نام ہی ہے ازدواجی تعلق قائم کرنا۔

    والسلام علیکم و رحمہ اللہ!

  • Muhammad Naeem Khan

    Member December 11, 2025 at 1:30 am

    میرے بھائ بہت معذرت کے ساتھ آپ میرے سوال کو نہیں سمجھے ۔ میرا سوال بہت سادہ تھا کہ کہیں قرآن یا حدیث میں اس کا ذکر ملتا ہے کہ آدم و حوا کے درمیان ازدواجی تعلق قائم تھا؟ آپ نے ایک قیاس پر اپنی بات رکھی ہے کہ کیونکہ وہ میاں بیوی تھے اس لئے ان کے درمیان ازدواجی تعلق ایک فطری عمل ہے۔

    ابھی میں آپ کے سوال کا جواب نہیں دے رہا بس یہ بات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ جو تحریر آپ نے لکھی ہے اس میں اس مخصوص جملے کا سورس کیا ہے

    صرف یہ کہہ دینا کہ کیونکہ وہ دونوں میاں بیوی تھے اس لئے ازدواجی تعلق قائم کرنا ایک فطری عمل ہے میری اس بات کا جواب نہیں ہے جتنی بھی معلومات ہمیں قرآن یا حدیث سے ملتی ہیں کیا اس میں اس کا بیان ہے؟ بس یہ سادہ سا سوال ہے۔ آپ کے مقدمے کی پوری عمارت اس پر قائم ہے۔ آپ یہ بات اتنے اعتماد سے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ تعلق قائم تھا۔ میں آگے جا کر یہ ثابت کروں گا کہ یہ تعلق نہیں تھا۔ اس کو قرآن بلکل صاف لفظوں میں بیان کرتا ہے جسے آپ ادبی رنگبازی سے تعبیر کرتے ہیں۔ شکریہ

    • Mehmood ul Hassan Aalami

      Member December 11, 2025 at 9:47 am

      برادر محترم!آپ فرما رہے ہیں کہ :// میں یہ ثابت کروں گا کہ یہ تعلق نہیں تھا۔ اس کو قرآن بلکل صاف لفظوں میں بیان کرتا ہے۔ //
      میرے ناقص علم کی حد تک قرآن میں ازدواجی تعلق کی مناہی پر بالکل صاف لفظوں میں کوئی نص نہیں۔اگر آپ بالکل صاف لفظوں والی قرآنی نصوص قطعیہ بیان فرما دئے تو اس کے بعد قرآن کے آگئے تو سر خم تسلیم ہے ۔۔۔ کہ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ” یعنی “ہم نے سنا اور اطاعت کی” ۔۔۔ اور میں اِس صورت میں آپ کا تہہ دل سے مشکور ہوں گا۔
      والسلام۔

  • Muhammad Naeem Khan

    Member December 11, 2025 at 11:19 am

    میرے بھائ، اس بات کو ایک طرف رکھ دیں کہ میں کیا ثابت کرونگا ۔ ہوسکتا ہے میں اس دعوی میں ناکام ہوجاوں اور آپ سرخرو ہوجاہیں۔ ابھی تو میرا اتنا سادہ سا سوال تھا کہ جو دعوی آپ کر رہے ہیں اس کی دلیل کیا ہے؟ کیا آپ کا قیاس، کوئ قران کی قطعی نص یا کسی حدیث کا حوالہ؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ کیونکہ ادم اور حوا میاں بیوی تھے اس لئے ان میں ازدواجی تعلق تھا۔ یہی تو میرا سوال تھا کہ کیا یہ آپ کا قیاس ہے؟ کیا اللہ نے یہ بات آپ کو بتائ؟ کیا رسول نے یہ خبر ہمیں دی؟ آپ کو یہ بات کیسے معلوم ہوئ۔ اتنا آسان سا سوال ہی تو پوچھ رہا ہوں میرے بھائ ۔ شکریہ

  • Mehmood ul Hassan Aalami

    Member December 12, 2025 at 9:43 pm

    میرے بھائی! اب بات ناکامی یا سرخروئی کی نہیں رہی اب بات قرآن کی ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں قرآن کے بالکل صاف لفظوں میں اس بات کو ثابت کروں گا۔

    جب آپ کے پاس قرآن کے صاف الفاظ (نص) کی قوت و حمیت موجود ہے تو اسے پورے اعتماد کے ساتھ پیش فرمائیے تاکہ بندہء عاصی اپنی لاعلمی دور کرتے ہوئے کلام اللہ کے آگئے سرخم تسلیم ہو۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رہی میرے دعویٰ کی دلائل کی تو پیش خدمت ہے کہ میرے طالب علمانہ فہم کے مطابق میرے دعوے کی بنیاد درج ذیل چند قرآنی تفہیمات ، عقل ومنطق کے معقولات ، فطرت کے معمولات اور بلواسطہ شواہد پر ہے۔

    ۱۔ قرآنی تفہیمات کی روشنی میں:

    قرآن کے سیدنا آدم و حوا علیھما السلام کے باہمی رشتے کو محض ہم نشینی یا رفاقت نہیں بلکہ ازدواجی تعلق کے طور پر بیان کیا ہے۔ سب سے بنیادی اور قطعی قرآنی لفظ “زوج” ہے۔ اللہ خداوند کریم سیدنا آدم و حوا علیھما السلام کو آزمائشی باغ میں رہائش و اسکونت کا اجازت نامہ دیتے ہوئے فرماتا ہے:

    > وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ(البقرۃ: 35)

    اور ہم نے کہا: اے آدم، تم اور تمھاری زوجہ، دونوں اِس باغ میں رہو۔

    عربی زبان میں “زوج” ایسا لفظ نہیں جو محض ساتھی یا دوست کے لیے آتا ہو، بلکہ یہ قانونی و فطری ازدواجی رشتے پر دلالت کرتا ہے۔ قرآن میں جہاں بھی “زوج” کا اطلاق انسان پر ہوا ہے، وہاں اس کے اندر ازدواجی حقوق و فرائض ضمناً شامل رہے ہیں، الا یہ کہ کسی خاص قرینے سے استثناء ثابت ہو، جو یہاں موجود نہیں۔

    اسی طرح سورۂ اعراف میں ہے:

    > لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا(الاعراف: 189)

    وہ اس کے پاس سکون حاصل کرے

    یہ “سکون” محض ذہنی یا نفسیاتی انس نہیں بلکہ قرآن کے اسلوب میں زوجین کے مابین جسمانی، نفسیاتی اور فطری سکون کا جامع مفہوم رکھتا ہے، جیسا کہ یہی تعبیر بعد کے انسانی نکاحوں کے لیے بھی استعمال ہوئی ہے (الروم: 21)۔

    لہٰذا قرآنی اسلوب خود اس بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ جنت کے اس آزمائشی باغ میں بھی ازدواجی تعلق اپنی اصل فطرت کے ساتھ موجود تھا۔

    ۲۔ منطق اور عقلِ سلیم کے معقولات:

    عقلِ سلیم یہ سوال اٹھاتی ہے کہ اگر آدم و حوا علیھما السلام میاں بیوی تھے، تو آزمائشی باغ میں ازدواجی تعلق سے انکار کی معقول وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

    منطقی طور پر تین ہی امکانات ہیں:

    1. یا تو ازدواجی تعلق بذاتِ خود کوئی اخلاقی یا فطری قباحت رکھتا ہے

    2. یا جنت کا ماحول انسانی فطرت کے خلاف تھا

    3. یا پھر آزمائش کے دور میں انسانی جبلّت معطل کر دی گئی تھی

    یہ تینوں مفروضے عقل کے نزدیک ناقابلِ قبول ہیں۔

    ازدواجی تعلق اگر بذاتِ خود معیوب ہوتا تو زمین پر آ کر حلال قرار دینا ایک اخلاقی تضاد بن جاتا۔

    اگر جنت انسانی فطرت کے خلاف تھی تو پھر “فطرتِ انسانی” کا خالق خود اپنی تخلیق سے متصادم ٹھہرتا ہے، جو محال ہے۔

    اور اگر جبلّت کو معطل مانا جائے تو یہ انسان کو فرشتہ ماننے کے مترادف ہو گا، حالانکہ آدم علیہ السلام کو ابتدا ہی سے بشر قرار دیا گیا، نہ کہ ملک۔

    پس عقلِ سلیم یہی کہتی ہے کہ باغِ آزمائشی میں بھی ازدواجی تعلق اپنی اصل میں موجود تھا۔

    ۳۔ فطرت کے معمولات کے تناظر میں:

    اسلامی تصورِ فطرت کے مطابق انسان کی جبلّتیں کوئی حادثاتی یا بعد کی پیداوار نہیں بلکہ تخلیق کے وقت سے اس کی ذات میں ودیعت کی گئی ہیں۔

    بھوک، پیاس، نیند، انس، محبت اور ازدواجی میلان—یہ سب انسان کے وجود کا حصہ ہیں۔

    اگر یہ کہا جائے کہ جنت میں آدم و حوا علیھما السلام کو ازدواجی تعلق کی اجازت نہیں تھی، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ:

    یا تو فطرت نامکمل تھی

    یا فطرت کو وقتی طور پر غیر فطری بنا دیا گیا

    جبکہ قرآن انسان کو “احسنِ تقویم” کہتا ہے، اور احسن تقویم میں جبلّتوں کا اعتدال کے ساتھ وجود ضروری ہے، نہ کہ ان کا انکار۔مزید یہ کہ قرآن نے کہیں یہ نہیں کہا کہ ازدواجی تعلق زمین پر آ کر پہلی مرتبہ مشروع ہوا۔

    ۴۔ بالواسطہ شواہد اور اجماعی فہم:

    کئی اسلامی تفاسیر، سلف کے بیانات اور امت کا عمومی فہم اس بات پر متفق ہے کہ آدم و حوا علیھما السلام حقیقی میاں بیوی تھے، نہ کہ محض علامتی جوڑا۔

    اگر ایسا کوئی غیر معمولی حکم ہوتا—یعنی نکاح ہو مگر ازدواجی تعلق ممنوع ہو—تو قرآن یا سنت میں اس کی صراحت ضرور آتی، کیونکہ یہ ایک خلافِ معمول حکم ہوتا۔جبکہ یہاں خاموشی دراصل اصلِ اباحت پر دلیل ہے۔

    مزید برآں، زمین پر انسانی نسل کے آغاز کو براہِ راست انہی دونوں سے جوڑا گیا، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ازدواجی نظام ابتدا ہی سے ایک مکمل، فطری اور حقیقی نظام تھا، نہ کہ بعد میں ایجاد شدہ۔

  • Muhammad Naeem Khan

    Member December 14, 2025 at 6:30 am

    میرا خیال تھا کہ آپ میری گزارشات پر غور کریں گے اور قرآن و حدیث سے کوئ دلیل لے کر آئیں گے جہاں آپ یہ بات بتانے کی کوشش کریں گے کہ ان کے درمیان ازدواجی تعلق قائم تھا۔ زوج ہونا ایک بات ہے لیکن ازدواجی تعلق قائم ہونا ایک بات۔ یہ دونوں الگ الگ باتیں ہیں جن کے نہ سمجھنے سے آپ نے ایک
    باطل نظریہ قائم کیا اور اس پر ایک پوری عمارت قائم کی۔

    آدم و حوا انسانیت کا پہلا جوڑا تھے جس سے انسانیت کا آغاز ہوا تھا۔ اس وقت تو آپ اس دور میں اپنے تجربہ ، مشاہدہ، معاشرہ کا عرف ، اپنے ماں باپ ، بزرگوں ، انبیا اور رسولوں کی تعلیمات اور مستند تاریخ سے یہ بات اطمینان سے بیان کر رہے ہیں کہ کیوں کہ زوج تھے تو ازدواجی تعلق بھی قائم تھا۔ آپ کو معلوم ہے یہ تعلق کیسے قائم کیا جاتا ہےلیکن اپنے آپ کو اس دور میں لے جائیں جہاں اس جوڑے میں اللہ نے انسانی شعور پھونکا اور ان کو انسان ہونے کا شرف بخشا۔ یہ جوڑا ایک کورا کاغذ تھا جس میں وہ تمام داعیات تو تھے لیکن ان کا علم نہیں تھا۔ اور ہوتا بھی کیسے کیوں کہ ابھی تو انسانیت کا آغاز ہوا تھا ابھی تو نہ تجربہ ہوا نہ مشاہدہ ابھی تو علم کے بہت سے مراحل طے کرنے تھے۔ انسان سعی و خطا کے عمل سے گزرتا ہے اور اپنے علم کو بڑھاتا ہے۔

    اللہ نے اس جوڑے کو تعلیم دینے کے لئے عملی تعلیم کا طریقہ اپنایا اور یہی اس وقت کی بہترین حکمت عملی بھی تھی۔ اور کیوں نہ ہوتی بہتریں حکمت عملی ، اس وقت نہ تو کوئ زبان ایجاد ہوئ تھی اور نہ ہی لفظ معنی میں ڈھلے تھے۔
    ایسا نہیں تھا کہ انسان یہ باتیں نہ سیکھ پاتا لیکن اس میں بہت سے مراحل سے گزرتا اگر اللہ ان کا ہاتھ نہ پکڑتا۔ اس ئے یہ اللہ کا کرم اور اس کی نوازش تھی کہ انسانیت کے بلکل اغاز سے ہی اللہ نے اس کو شیطان کی شر سے متنبہ کرنے اور اس کو عملی تعلیم دینے کے لئے اللہ نے اس جوڑے کو برگزیدہ کیااور انہیں انانیت اور جنس کی تعلیم دی جہاں سے شیطان اج تک حملہ وار ہوتا ہے ان ہی دو راستوں سے انسان کو اللہ کی راہ سے بھٹکاتا ہے۔

    پہلے مرحلے میں ملائکہ اور جنات کی اطاعت کے امتحان کے بعد جب ملائکہ اس امتحان میں کامیاب ہوئے اور شیطان کا یہ چیلنج اللہ نے قبول کیا کہ وہ یہ ثابت کرے گا کہ انسان اس بات کا حقدار نہیں تھا جو اس کو دیا گیا ہےاور انسان کا ازلی دشمن قرار پایاتو باغ میں رکھنے کے فورا بعد اس عملی تعلیم کی بھی ضرورت تھی کہ کس طرح شیطان اس جنسی داعیے سے انسان کو بھٹکاتا ہے۔ آدم کوئ معمولی انسان نہیں تھے بلکہ پہلے انسان اور پہلے نبی تھے۔

    ایسے باغ میں رکھا جہاں ان کی ضرورت کا سامان میسر تھا جہاں نہ ان کو لباس کی ، نہ بھوک ، نہ پیاس کی ، نہ سردی ، نہ گرمی کی کوئ تکلیف تھی ۔ انسان کے اندر جو داعیات رکھے گئے ہیں ان میں اپنی بقا کا داعیا سب سے قوی ہے۔ سب سے پہلے اس کو بھوک پیاس کی تکلیف ستاتی ہے،جنس کا داعیا اس کی فوری توجہ کا مرکز نہیں ہوتا۔ اس کی طرف اس کو متوجہ کرنا پڑتا ہےلیکن وہاں کون ان کو متوجہ کرتا، کون ان کو سیکھاتا کون ان کو تعلیم دیتا۔ وہاں نہ تو معاشرہ وجود میں آیا ہے، نہ ماں باپ ہیں نہ اس کو دوسروں کا تجربہ اور مشاہدہ ہوا ہے اس لئے شیطان نے اس طرف ان کو متوجہ کیا اور آہستہ آہستہ اس عمل کی ترغیب دی۔ کیونکہ یہ انسان کا ایسا محرک ہے جس میں بڑے سے بڑا نیک و پاکباز انسان بھی پھسل جاتا ہے اور اج تک پھسل رہا ہے۔

    اگر فرض کریں کہ یہ کوئ پھل کا درخت تھا تو اس کا محرک کیا تھا؟ انسان کا وہ کیا محرک تھا جس نے اس عمل کی طرف اس کو اکسایا۔ ایسا کون سا عمل تھا جس سے ان کی شرمگائیں ان پر کھل گئیں۔ یہ بات ان کو معلوم ہوگئی کہ یہ عظو صرف رفائے حاجت کے لئے نہیں بلکہ کسی اور کام کے لئے بھی کام آتے ہیں اس لئے شرمگاہوں کا کھل جانے کی آیت قرآن سے قطعی دلیل ہے کہ ان کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہیں تھا۔ یہ عمل پہلی بار انہوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر کیا ورنہ شرمگائیں تو پہلے ہی کھلی ہوئ تھیں۔ سب سے بڑی بات کہ شرمگاہوں کے کھلنے کے بعد انسان میں جو شرم کا احساس اللہ نے رکھا ہے اس بات کے کھل جاتے ہی انہوں نے پتوں سے اس کو ڈھانکنا شروع کیا ورنہ کسی پھل کے کھانے سے کون سی شرمگاہیں کھلتی ہیں۔

    اوپر جو آپ نے پہلی پوسٹ میں اعتراضات اٹھائے ہیں وہ بھی بہت بودے اعتراضات ہیں اس لئے مختصراپنی بات یہاں بیان کردی۔ مجھے معلوم ہے کہ اپ نے ان دلائل کے بعد بھی نہیں ماننا لیکن ہمارا کام صرف اپنی بات اچھے انداز میں بیان کرنا ہے نہ کہ کسی کو اپنی بات پر لازمی قائل کرنا۔ یہ بات انبیا اور رسولوں کو بھی کہہ دی گئ تھی کہ اپ کا کام صرف بات پہنچادینا ہے۔ اپ کے زیادہ تر اعتراضات قیاسات پر ہیں بلکل ویسے ہی جیسے الحاد کے ماننے والے کرتے ہیں۔

  • Mehmood ul Hassan Aalami

    Member December 14, 2025 at 10:47 am

    محترم!

    میرا بھی خیال تھا کہ آپ میری گزارش پر غور فرمائے گے جو میں پچھلے دو پیغامات میں دہرا چکا ہوں لیکن ابھی تک آپ نے اس کا جواب ارشاد نہیں فرمایا۔پھر اس امید کے ساتھ دہرا رہا ہوں کہ شاید آپ جواب ارشاد فرما دیں:آپ نے پچھلے پیغام میں فرمایا تھا کہ

    :// میں یہ ثابت کروں گا کہ یہ تعلق نہیں تھا۔ اس کو قرآن بلکل صاف لفظوں میں بیان کرتا ہے۔ //

    ابھی تک آپ نے صاف الفاظ والی ان قرآنی نصوص قطعیہ کو نہیں پیش کیا۔جبکہ میں کہہ رہا ہوں کہ پیش فرمائیے تاکہ قرآن الفرقان بن کر ہمارے مابین علمی اختلاف کو ختم کرئے۔

  • Muhammad Naeem Khan

    Member December 14, 2025 at 11:20 am

    میرے بھائ اس سے اندازہ لگائیں کے آپ کسی کا جواب کتنے غور سے پڑھتے ہیں۔ میرے خیال میں اس کے بعد کسی اور جواب کی گنجائش باقی نہیں بچتی ۔ سلامت رہیں

  • Mehmood ul Hassan Aalami

    Member December 14, 2025 at 12:39 pm

    البتہ افسوس ہے میرے بھائی! کہ آپ میری نیت پر حملہ وارد ہورہے ہیں کہ بقول آپ کے ”میں نے نہیں ماننا۔“ یہ فتویٰ کھبی کسی نبی نے بھی جاری نہیں کیا جب تک اسے خدا نے وحی کے ذریعے آگاہ نہیں کیا۔ 

    پھر آپ نے فرمایا کہ میرے اعتراضات ویسے ہی قیاسی ہے جیسے ملحدین کے۔ یعنی آپ اپنے مسلمان بھائی کو ملحدین کے ساتھ بلواسطہ تشبیہ دئے رہے ہیں۔ یہ میرے لیے بہت دکھ کی بات ہے میرے بھائی ! کہ صرف علمی اختلاف کی جسارت پر آپ نیت پر حملہ وارد ہوگئے ہیں جبکہ نہ تو آپ غیب کا علم جانے والے صاحب وحی ہے اور نہ ہی دلوں کا حال جاننے والے خدا۔
    پس مخلصانہ گذارش یہ ہے کہ اپنے اس رویے پر غور فرمائے۔
    خداوند مجھ گناہ گار کو ہدایت دے اور آپ پر سلامتی ہو ۔
     

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar December 16, 2025 at 2:34 am

    یہ بات کہ وہ پھل شجرہ تناسل تھا، اس کا قرینہ اس سے پیدا ہوا ہے کہ ان کی شرم گاہیں ان پر کھل گئیں۔ بدت کا لفظ استعمال ہوا ہے نہ کہ ظھررت، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرم گاہوں کی وہ صلاحیت ان پر کھل گئی جو اس سے پہلے ان پر عیاں نہ تھی اگرچہ وہ اس کا خیال رکھتے تھے جیسے نو بالغ رکھتے ہین مگر حقیقت تب واضح ہوتی ہے جب وہ جنسی عمل کر لیتے ہیں۔

    یہ استعارہ اس قرینے کی بنیاد پر جنسی عمل کے لیے متیعین ہو جاتا ہے۔

    شیطان نے انھیں جو کہا وہ چھوٹ اور فریب تھا۔ انھیں یہ یقین دلایا کہ یہ عمل کرنے سے وہ ہمیشگی کی زندگی پائیں گے فرشتے بن جائیں گے۔ آدم سادہ تھے، ان چالاکیوں کو نہیں سمجھتے تھے اس لیے اس کے دھوکے میں آ گئے۔

    غامدی صاحب نے یہ نہیں کہا کہ شیطان نے جھوٹ نہیں کہا، البتہ یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ انتی سچائی تو نکلتی ہے اس کی بات سے انسان کی بقا اسی عمل سے قائم ہے۔

    آدم و حوا کو جوڑا بنا دیا گیا تھا، مگر ازدواجی تعلق قائم کرنے سے روک دیا تھا کیونکہ اس کام کی شروعات زمین پر ہونا تھی۔ جس باغ میں انھیں رکھا گیا تھا وہ ان کا تربیتی دور تھا۔

    میاں بیوی قرار دینے سے ازدواجی تعلق کا قائم ہونا لازم نہیں آتا۔

    • Mehmood ul Hassan Aalami

      Member December 22, 2025 at 8:17 pm

      ،جزاکم اللہ خیرا کثیرا

      ڈاکٹر عرفان شہزاد صاحب !

      سلامت رہیں ۔

You must be logged in to reply.
Login | Register