-
Story Of Adam And Eve- Fruit Tree And Claims Of Iblees- Tafsir Ghamidi
”شجرۃ الخلد“ اور شیطانی دعووں کی تفسیرِ غامدی
(چند سوالات کے تناظر میں)
از قلم: محمود الحسن عالمی
استاد محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب اپنی تفسیر القرآن”البیان“ ، سورہ البقرہ ، آیت نمبر 35 ، حاشیہ نمبر:87 کی تشریح میں فرماتے ہیں:
””سورۂ طہ (۲۰) کی آیت ۱۲۰ میں اِسے ’شَجَرَۃُ الْخُلْد‘ کہا گیا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ لفظ ’اَلشَّجَرَۃَ‘ یہاں مجازی مفہوم میں ہے۔ ’شَجَرَۃُ الْخُلْد‘ کے لفظ سے جو معنی ظاہر ہوتے ہیں اور اِس درخت کا پھل کھانے کے جو اثرات قرآن کے دوسرے مقامات پر بیان ہوئے ہیں، دونوں اِس بات کی طرف صاف اشارہ کرتے ہیں کہ اِس سے مراد وہی شجرۂ تناسل ہے جس کا پھل کھانے کے باعث انسان اِس دنیا میں اپنے آپ کو باقی رکھے ہوئے ہے، لیکن آج بھی دنیا میں اُس کے لیے سب سے بڑی آزمایش اگر کوئی ہے تو یہی درخت ہے۔ سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۲۷سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان سب سے بڑھ کر اِسی کو فتنے کا ذریعہ بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے لباس قرار دیا اور اُنھیں اجازت دی کہ وہ یہ لباس پہن کر اِس درخت کا پھل کھائیں، لیکن شیطان ہمیشہ اُنھیں اِس لباس کے بغیر ہی اِس کا پھل کھانے کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔““
پس اِس تعبیر و تفسیر سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں:
(1) زیر بحث ،البقرہ ، آیت 35 کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
۔”اور ہم نے کہا: اے آدم، تم اور تمھاری بیوی، دونوں اِس باغ میں رہو۔ “
یعنی آیت سے ثابت ہوا کہ باغ میں آدم و حوا علیہم السلام کو میاں بیوی کی حیثیت سے بسایا گیا تھا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مابین ازدواجی تعلق استوار تھا اور اس کی بے جا مناہی نہ صرف خلافِ فطرت معلوم ہوتی ہے بلکہ قرآن و حدیث میں سرے سے اس کی کوئی نص موجود نہیں کہ جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ روزے کی حالت کی طرح ایک غیر معمولی اور خصوصی مناہی خداوند کی جانب سے تھی۔یعنی یہ کسی علمی بنیاد سے محروم ایک خیالی مفروضہ ہے کہ باغ میں آدم و حوا علیھم السلام میاں بیوی ہونے کے باوجود حکم خداوندی سے ازدواجی تعلق کی مناہی میں تھے۔
2۔شجرہ تناسل کی تعبیر اس لیے بھی صحیح معلوم نہیں ہوتی ہے کیونکہ بقول غامدی صاحب کے شیطان نے جن دعووں سے بہکایا تھا وہ اپنی اصل میں حقیقی اور سچے تھے۔(حوالہ نمبر 1 ملاحظہ فرمائیں)۔جس طرح کے قرآن کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بنیادی طور پر چار دعوے کیے:
1۔یہ ہمیشگی کا درخت کا پھل ہے اور تم اس کے کھانے سے ہمیشہ زندہ رہو گے۔
2۔اس کے کھانے کے بعد تم کو ہمیشہ کی بادشاہی مل گئی جس پر کھبی زوال نہ آئے گا۔
3۔ اس کے کھانے کے بعد تم فرشتے بن جاؤں گئے۔
4۔ میں ابلیس تمہارا خیر خواہ ہوں۔
حالانکہ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ چاروں دعوے جھوٹے ثابت ہوئے،کیونکہ :
1۔ نہ ہی آدم فرشتے بنے ،
2۔ نہ ہی اس کے کھانے کے بعد انھیں ہمیشگی کی بادشاہی ملی کہ الٹا زمین کی مشقت والی زندگی میں بھیج دیے گئے،
3۔نہ ہی انھیں ہمیشگی کی زندگی ملی بلکہ اپنی دنیاوی زندگی گزارنے کے بعد طبی موت”Medical Death” کا ذائقہ چکھنا پڑا،
4۔نہ ہی ابلیس آدم کا خیر خواہ نکلا۔
پھر سب سے اہم یہ کہ قرآن نے خود ہی ہمیں بتا دیا ہے کہ یہ چاروں دعوے اپنی اصل میں فریبی یعنی جھوٹے تھے ملاحظہ فرمائیں، سورہ الاعراف ، آیت 22:
”اِس طرح فریب دے کر اُس نے دونوں کو رفتہ رفتہ مائل کر لیا۔“
پس عملی تصدیقات کے ساتھ ساتھ قرآن کی تصدیق کے بعد بھی استاد غامدی صاحب کا یہ فرمانا کہ شیطان کے یہ تینوں دعوے اپنی اصل میں سچے تھے (1) ، بندہ ناچیز کے طالب علمانہ فہم رائے کے مطابق ، ایک درست رائے نہیں ہے۔
دوسری گزارش یہ کہ نہ صرف یہ کہ یہ دعوے سچے نہیں تھے بلکہ یہ شجرہ تناسل کی تعبیر سے متعلق بھی نہیں ہوتے دیکھائی دیتے:
1۔سورہ الاعراف، آیت 20 کے مطابق پہلے دعوے میں شیطان نے یہ لالچ دیا کہ خدا نے تمہیں ازدواجی تعلق سے اس لیے روکا ہے کہ کہی تم فرشتے نہ بن جاؤں۔ غور فرمائیے کہ یہ ازدواجی تعلق اور فرشتہ بن جانے کا کیا کوئی براہ راست تعلق بنتا ہے ؟؟؟
2۔سورہ الاعراف، آیت 20 کے ہی مطابق دوسرے دعوے میں ابلیس نے یہ لالچ دیا تھا کہ خدا نے تمہیں ازدواجی تعلق سے اس لیے روکا ہے کہ کہی تم ہمیشہ کی زندگی حاصل نہ کر پاوں۔ غور فرمائیے کہ ازدواجی تعلق اور ہمیشہ کی زندگی میں کا بھی آپس میں کیا براہ راست تعلق ہے ؟؟؟
اس ضمن میں استاد غامدی صاحب فرماتے ہے کہ یہ آدم کو آدم کی جسمانی بقاء کا لالچ نہیں دیا گیا تھا بلکہ احساسی بقاء کا لالچ تھا۔(ملاحظہ فرمائیں: حوالہ نمبر: 1 )
یعنی نسل کی صورت میں آدم کو زندہ رہنے کا احساس۔ لیکن اگر باغور ملاحظہ فرمائیں کہ قرآن نے اس کے لیے جو لفظ استعمال کیا ہے وہ ہے : ”الۡخٰلِدِيۡنَ“۔ عرض لفظ” الخالدین“ کا اگر اِس آیت میں معنی ”نسل آدم کے ذریعے آدم کی احساسی بقاء“ ہے تو قرآن میں دیگر کس مقام پر یہ لفظ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے ؟؟؟
اگر دیگر مقامات پر یہ لفظ آنے کے باوجود “احساسی بقاء “ کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا ہے تو پس ہمیں سمجھ جانا چاہیے کہ یہاں پر اس آیت میں اگر اس لفظ سے مراد صرف اس کی ”احساسی بقاء“ مراد لی جائے تو یہ محض ایک خیالی مفروضہ یا ادبی رنگ بازی ہے جس کی بنیاد قرآن و صحیح حدیثی مصادر میں کہی نہیں ملتی۔
3۔ سورہ طہ کی آیت: 120 کے مطابق تیسرے دعوے میں ابلیس نے یہ لالچ دیا تھا کہ خدا نے تمہیں ازدواجی تعلق سے اس لیے روکا ہے کہ کہی تم لازوال بادشاہی حاصل نہ کرو۔ غور فرمائیے کہ ازدواجی تعلق اور ہمیشہ کی بادشاہی کا بھی آپس میں کیا براہ راست تعلق بنتا ہے ؟؟؟ اگر محترم استاد غامدی صاحب اس بادشاہی سے مراد ذریت آدم کی بادشاہی لیتے ہیں تو اس پر بھی سابقہ نقطہء کی طرح یہی بصد احترام عرض ہے کہ یہ محض ایک خیالی مفروضہ یا ادبی رنگ بازی ہے جس کی بنیاد قرآن و صحیح حدیثی مصادر میں کہی نہیں ملتی۔
پس اس سلسلے میں استاد غامدی صاحب کے استاد امام امین احسن اصلاحی اور ان کے ہم فکر متقدمین و مفسرین کرام کی درج ذیل رائے صحیح ، معتدل اور متوازن معلوم ہوتی ہے۔ جن کی اس مسئلے میں یہ رائے ہے کہ :
”وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ: شجرہ پر الف لام داخل ہے جس سے یہ بات تو واضح ہے کہ جہاں تک آدم اور حوا علیہما السلام کا تعلق ہے، ان کو یہ درخت تعین اور تخصیص کے ساتھ بتا دیا گیا تھا۔ رہا یہ سوال کہ یہ درخت کس چیز کا تھا؟ تو اس سوال کا جواب نہ تو قرآن مجید نے دیا ہے اور نہ کسی صحیح حدیث ہی میں اس کا جواب موجود ہے اس وجہ سے اس کو معلوم کرنے کی کوشش ایک لاحاصل کوشش ہے۔ ہمارے نزدیک اس بارے میں صحیح مسلک امام ابن جریر کا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ “ہم تعین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ درخت کس چیز کا تھا کیونکہ اس کے تعین کے لئے کوئی دلیل نہ تو ہمیں قرآن ہی میں ملتی ہے اور نہ حدیث ہی میں، پھر آخر کوئی شخص کوئی بات کہے تو کس سند پر”۔ ہمارے نزدیک اس درخت کو معلوم کرنے کی چنداں ضرورت بھی نہیں ہے۔ اصل چیز جو یہاں قرآن مجید بتانی چاہتا ہے وہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح فرشتوں اور جنات کی وفاداری اور اطاعت کا امتحان آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دے کر لیا اسی طرح آدم علیہ السلام کی اطاعت و وفاداری کا امتحان ان کے لئے جنت کے درختوں میں سے ایک درخت کو حرام ٹھہرا کر لیا۔ نعمتوں سے بھری ہوئی اس جنت میں صرف ایک درخت ایسا تھا جس سے فائدہ اٹھانے سے حضرت آدم علیہ السلام کو روکا گیا تھا۔ لیکن انسان کی فطرت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ جس چیز سے وہ روک دیا جاتا ہے اسی کا وہ زیادہ حریص بن جایا کرتا ہے۔ چنانچہ ابلیس نے آدم علیہ السلام کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور ان کو یہ سمجھانا شروع کر دیا کہ زندگی جاوداں اور ملک لازوال کا راز اگر مضمر ہے تو بس اسی درخت کے پھلوں میں ہے جس سے ان کو محروم کر دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آدم علیہ السلام شیطان کے اس چکمے میں آگئے اور اس درخت کا پھل کھا بیٹھے۔“
اقتباس از:” تفسیر امین احسن اصلاحی ، تدبر القرآن ، آیت نمبر 35“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ نمبر:1:
فی تفسیر سورہ الاعراف، آیت نمبر 20، حاشیہ نمبر 309:
”شیطان کی اِس بات میں، اگر غور کیجیے تو اتنی سچائی بھی ہے کہ یہ اُسی درخت کا پھل ہے جس کے کھانے سے دنیا میں انسان کی زندگی کا تسلسل قائم ہے۔ “
حوالہ نمبر:2:
فی تفسیر سورہ طہ ، آیت نمبر 120 , حاشیہ نمبر: 146
شیطان کی یہ بات، اگر غور کیجیے تو ایسی غلط بھی نہیں تھی، اِس لیے کہ یہ اِسی درخت کا پھل ہے، جس کے کھانے سے انسان کی زندگی کا تسلسل دنیا میں قائم ہے
★★★
نوٹ: ”یہ سوالات دین کے ایک ادنی طالب علم کی جانب سے پوری نیک نیتی اور حصول علم کے مقصد کے تحت استاد محترم جناب غامدی صاحب کی بارگاہ فکر میں پیش کیے جا رہے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ استاد غامدی صاحب کے فیضان علم کا یہ ہی کرشمہ ہے کہ خاکسار اِس نہج و اسلوب میں آج کسی دینی فکر و تعبیر پر تنقید کرنے کے قابل ہوا ہے۔ لہذا بندہ ناچیز و طالب علم کی تنقید کو ہرگز کسی بے ادبی یا گستاخی پر محمول نہ کیا جائے۔ واللہ! استاد غامدی صاحب کے لیے میرے دل میں وہی حیثیت و رتبہ ہے جو افلاطون سقراط کے لیے، رومی شمس تبریزی کے لیے، اور استاد غامدی اپنے استاد امام اصلاحی کے لیے رکھتے ہیں۔“
Sponsor Ask Ghamidi