Ghamidi sb writes following in his Tafsir
پیغمبرؐ کو آخری ہدایت: ’اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْءٍ‘۔ اوپر آیت ۱۵۳ میں فرمایا تھا کہ
’وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ‘ (اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اس کی پیروی کرو اور مختلف پگ ڈنڈیوں میں نہ بھٹکو کہ خدا کی راہ سے دور جا پڑو، یہ ہے جس کی تمھیں ہدایت فرمائی ہے تاکہ تم خدا کے غضب سے بچو)
ہم نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ اصل ملت ابراہیمؑ کا بیان ہے جو حضرت ابراہیمؑ کی ذریت کی دونوں شاخوں ۔۔۔ بنی اسرائیل اور بنی اسمٰعیل ۔۔۔ کو ودیعت ہوئی لیکن ان دونوں ہی شاخوں نے اس میں بدعتیں پیدا کر کے مختلف پگ ڈنڈیاں نکال لیں۔ عربوں نے شرک و بت پرستی کی راہ اختیار کر لی، یہود و نصاریٰ نے یہودیت و نصرانیت کے شاخسانے کھڑے کر لیے۔ اس طرح اصل شاہراہ گم ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے یہ صراط مستقیم دنیا کے لیے پھر کھولی، اور جیسا کہ اس سورہ کے پچھلے مباحث سے واضح ہوا، اس کے دلائل تفصیل سے بیان فرمائے لیکن مذکورہ تمام گروہوں نے اس واضح حقیقت کی مخالفت اور اپنی اپنی ایجاد کردہ ضلالتوں ہی پر جمے رہنے کے لیے ضد کی۔ اب یہ آخر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی جا رہی ہے کہ جن لوگوں نے اس دین میں، جو اللہ نے ان کو عطا فرمایا تھا، تفرقہ پیدا کیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے تم کو ان سے کچھ سروکار نہیں، تم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اب وہی ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کرتوتیں انجام دے کے آئے ہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ بھی ہے کہ اب پیغمبرؐ کے لیے ان سے اعلان براء ت کا وقت بہت قریب آ رہا ہے۔ چنانچہ سورۂ براء ت میں، جو اس گروپ کی آخری سورہ ہے، یہ اعلان جیسا کہ واضح ہو گا، آ گیا۔ ’مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا الایۃ‘ یہ ’ثُمَّ یُنَبِّءُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ‘ کی وضاحت ہے۔ ان کے اعمال کی خبر دینے سے مقصود ظاہر ہے کہ مجرد ان کو رپورٹ سنانا نہیں ہے بلکہ اس کا لازم یعنی جزا و سزا ہے۔ چنانچہ اس آیت میں واضح فرما دیا کہ جو نیکی لے کر آئے گا وہ اس کا دس گنا صلہ پائے گا اور جو کوئی برائی لے کر آئے گا وہ ٹھیک ٹھیک اپنی برائی کے بقدر سزا پائے گا۔ نہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ کوئی کمی کی جائے گی، نہ برائی کرنے والوں کے ساتھ کوئی زیادتی۔ یہ ملحوظ رہے کہ آیت میں ’اَمْثَالِھَا‘ اور ’َمِثْلُھَا‘ کے جو الفاظ ہیں ان سے مراد ان کا وہ مثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ٹھہرا رکھا ہے۔ وہ مثل مراد نہیں ہے جو دنیا میں سمجھا جاتا یا سمجھا جا سکتا ہے۔ نیز یہاں نیکی کے صلہ کی جو مقدار بنائی ہوئی ہے وہ کم سے کم ہے۔ اس سے اس فضل کی نفی نہیں ہوتی جو دوسرے مقامات میں مذکور ہے۔