سورۂ عصر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾یہ چار صفات دراصل نجات اور کامیابی کا معیار بیان کرتی ہیں، نہ کہ دین کے تمام عملی احکام کی مکمل فہرست۔وضاحت کے طور پر:ایمان سے مراد اللہ، رسول، آخرت اور وحی پر شعوری یقین ہے۔عملِ صالح سے مراد ایمان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا درست طرزِ عمل ہے، جس میں عبادات، اخلاق اور معاملات سب شامل ہیں۔تواصی بالحق کا مطلب حق کو پہچاننا، خود اس پر قائم رہنا اور دوسروں کو اس کی نصیحت کرنا ہے۔تواصی بالصبر کا مطلب حق کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات میں ثابت قدم رہنے کی تلقین ہے۔یہ چاروں چیزیں اسلام کی روح اور بنیاد ہیں۔ دین کے عملی احکام جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، عدل اور حقوق العباد سب عملِ صالح کے دائرے میں شامل ہو جاتے ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ جو شخص سچا ایمان رکھتا ہو، اس ایمان کے مطابق نیک عمل کرتا ہو، حق کو پہچانتا اور اس کی دعوت دیتا ہو، اور حق کی راہ میں استقامت اختیار کرتا ہو، وہ قرآن کے مطابق خسارے سے بچنے والوں میں شامل ہے۔ یہی ایک کامل مومن مسلمان کا قرآنی معیار ہے، نہ کہ صرف ظاہری شناخت۔2) “وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ” کا ترجمہ — کیا صبر صرف حق پر ثابت قدمی ہے؟غامدی صاحب نے اس کا ترجمہ “اور حق پر ثابت قدمی کی نصیحت کی” کیا ہے۔ یہ ترجمہ لغوی کے بجائے مفہومی اور تفسیری ہے، اور سیاق و سباق کے لحاظ سے بالکل درست ہے۔قرآن میں صبر کا مفہوم صرف غم برداشت کرنا یا خاموش رہنا نہیں، بلکہ اس میں یہ معانی شامل ہیں:حق پر ڈٹے رہناآزمائش میں دین پر قائم رہنامخالفت اور تکلیف کے باوجود پیچھے نہ ہٹنانفس کی خواہشات پر قابو رکھناچونکہ سورۂ عصر میں پہلے ہی حق کا ذکر آ چکا ہے، اس لیے یہاں صبر سے مراد حق کو قبول کرنے کے بعد اس پر استقامت ہے۔ اسی بنا پر “حق پر ثابت قدمی” کا ترجمہ قرآنی سیاق کے عین مطابق ہے۔سورۂ عصر دینِ اسلام کا جامع خلاصہ ہے۔ یہ چار صفات انسان کو ہر بڑے خسارے سے بچانے کے لیے کافی معیار فراہم کرتی ہیں۔ یہ صفات دین کے تمام عملی تقاضوں کو اپنے اندر سمو لیتی ہیں۔ صبر کا مطلب محض برداشت نہیں بلکہ حق پر استقامت اختیار کرنا ہے۔