Forums › Forums › Sources of Islam › Quran 3:55 – Domination Of Followers Of Christ Over Jews
-
Quran 3:55 – Domination Of Followers Of Christ Over Jews
Posted by Moazam Hussain on January 12, 2026 at 4:50 amآپ کہتے ہیں کہ اللہ نے حضرت عیسئ سے وعدا کیا ہے کہ تمہارے ماننے والوں کو قیامت تک یہودیوں پر برتری دوں گا۔ وضاحت کر دیں کہ حضرت عیسئ کے سچے ماننے والے کون ہیں۔ کیونکہ اگر ہم مسلمان ماننے والے ہیں تو ہم تو اس وقت مغلوب ہیں۔ اور اگر عیسائی ہیں تو وہ حق پر کیسے ہوئے وہ تو ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں۔ بات واضہع کر دیں۔ شکریہ
Dr. Irfan Shahzad replied 3 weeks, 3 days ago 2 Members · 6 Replies -
6 Replies
-
Quran 3:55 – Domination Of Followers Of Christ Over Jews
-
Dr. Irfan Shahzad
Scholar January 12, 2026 at 10:53 pmقرآن مجید نے حضرت عیسی کی پیروی کرنے والوں کو ان کا متبع مانا ہے چاہے وہ عقیدہ تثلیث رکھتے ہوں۔
درج ذیل آیت میں دیکھیے کہ مسیح علیہ السلام کے تمام متبعین کو ان کا متبع ہی کہا گیا ہے چاہے وہ درست مذہب پر تھے یا دین و عقائد میں بدعات کا شکار ہو گئے تھے یا اخلاقی طور پر فسق کے مرتکب تھے:
ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَیْنٰہُ الْاِنْجِیْلَ وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّرَحْمَۃً وَرَھْبَانِیَّۃَ نِابْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنٰھَا عَلَیْھِمْ اِلَّا ابْتِغَآئَ رِضْوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوْھَا حَقَّ رِعَایَتِھَا فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْھُمْ اَجْرَھُمْ وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ۔ (الحدید ۵۷: ۲۷)
’’پھر اُنھی کے نقش قدم پر ہم نے اپنے اور رسول بھی بھیجے اور عیسیٰ ابن مریم کوبھی اُنھی کے نقش قدم پر بھیجا اور اُسے انجیل عطا کی اور اُس کے پیرووں کے دلوں میں رأفت و رحمت ڈال دی، مگر رہبانیت اُنھوں نے خود ایجاد کر لی۔ ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا۔ یہ بات، البتہ ضرور فرض کی تھی کہ وہ اللہ کی خوشنودی چاہیں۔ سو اُنھوں نے اُس کے حدود، جس طرح کہ چاہیے تھا، ملحوظ نہیں رکھے۔ تاہم اُن میں سے جو لوگ ایمان پر قائم رہے، اُن کا اجر ہم نے اُنھیں عطا فرمایا، مگر اُن میں سے زیادہ نافرمان ہی نکلے۔‘‘
-
Moazam Hussain
Member January 14, 2026 at 7:16 amجی بھائی قران میں پیروکاروں کا ذکر ہے لیکن پیروکار ان کوبولا جاتا ہےجو ان کے نقش قدمپر چلے نہ کہ ان کو اللہ کا بیٹا مان لے۔یہ دونوں الگ باتیں ہیں ان کو اکٹھا نہیں کیا جا سکتا۔
-
Dr. Irfan Shahzad
Scholar January 15, 2026 at 3:08 amیہ موقف آپ نے اپنایا ہے لیکن قرآن کی آیت ملاحظہ کییجیے جس میں عقیدہ تثلیث میں مبتلا پیرکاروں کو بھی پیروکار کہا گیا ہے کیونکہ ان کا اپنا یہی دعوی تھا۔
-
-
Moazam Hussain
Member January 15, 2026 at 3:16 amبھائی میں اپنے موقف کی بات ہی نہیں کر رہا۔ میں اتنا سمجھنا چاھتا ہوں کے اگر اللہ نے ان کے پیروکاروں کو وعدہ کیا ہے تو اصل پیروکار تو ہم ہیں کیوں کہ ہم انبیاء کی سنت کے پیروکار ہیں پھر وہ غالب کیسے آ سکتے ہیں۔
استاذ متحرم کے سامنے میرا سوال رکھیں۔
-
Dr. Irfan Shahzad
Scholar January 15, 2026 at 3:30 amان کے پیرو وہ سب ہیں جو خود کو ان کا پیرو کہتے ہیں۔ یہ بات کہ پیروکار صرف ہی ہیں جو درست دین پر ہوں، یہ موقف درست نہیں۔
قرآن مجید کی آیت آپ کے سامنے ہے جس میں تثلیث کے قائلین کو بھی مسیح کے متبعین میں شامل کیا گیا ہے۔
اس کے بعد سوال باقی نہیں رہتا۔ استاد محترم نے بھی یہی تفسیر کی ہے:
دیکھیے البیان
“اِس سے مراد سیدنا مسیح علیہ السلام کے عام متبعین اور نام لیوا ہیں جو پہلے نصاریٰ اور اب مسیحی کہلاتے ہیں ۔ یہ موقع بشارت کا ہے جس کا تقاضا یہی ہے کہ اِس میں وسعت ہو۔ پھر ’الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ‘ کے الفاظ یہاں ’الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ کے مقابل میں آئے ہیں ، لہٰذا اِن سے مراد منتسبین مسیح ہی ہو سکتے ہیں نہ کہ وہ لوگ جو آپ کے سچے پیرو اور آپ کی ہدایت پر مخلصانہ عمل کرنے والے ہوں۔”
-
-
Dr. Irfan Shahzad
Scholar January 15, 2026 at 3:30 am
Sponsor Ask Ghamidi