Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Epistemology And Philosophy Surah Ahzab Verse 72-73 Explanation

Tagged: 

  • Surah Ahzab Verse 72-73 Explanation

    Posted by Sarah Siddiqui on January 24, 2026 at 5:22 am

    اسلام وعلیکم، جاوید سر سے اس سوال پر جواب کی منتظر ہوں۔
    سورۃ الاحزاب، آیت 72–73ترجمہ:“ہم نے یہ امانت آسمانوں پر، زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کی، تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔ بے شک وہ بڑا ظالم اور بڑا جاہل تھا۔(یہ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں، اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے، اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی توبہ قبول کرے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔”
    سوال: یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان جب قالب میں ڈھالا بھی نہیں گیا تھا تب بھی اس کی فطرت میں یہ تینوں چیزوں کا امکان موجود تھا یعنی منافقت، شرک یا مومن ہو جانا، گو کہ ان کا ابھی ظہور نہیں ہوا تھا، اور یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کی روح قالب ملنے سے پہلے ہی مرد اور عورت کی صنف رکھتی تھی؟ کیونکہ اللہ نے یہاں صرف انسان کہہ کر بات کرنے کے بجائے مرد و عورت کو الگ الگ بیان کیا ہے۔
    سارہ صدّیقی

    Dr. Irfan Shahzad replied 5 months, 2 weeks ago 2 Members · 3 Replies
  • 3 Replies
  • Surah Ahzab Verse 72-73 Explanation

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar January 26, 2026 at 5:25 am

    یہ ماضی کے ایک واقعہ کا حوالہ دے کر، حال میں موجود انسانوں کے کفر و انکار پر اس کا اطلاق کیا ہے۔

    انکار حق ہی کے نتائج ہیں کہ انسان کفر بھی کرتا ہے اور شرک اور منافقت بھی۔

  • Sarah Siddiqui

    Member January 27, 2026 at 2:29 pm

    سوال کا دوسرا حصہ کہ کیا انسان کی روح مرد وعورت کی صنف پہلے سے رکھتی تھی، اس پر بھی برائے مہربانی روشنی ڈالیں

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar January 27, 2026 at 10:49 pm

    انسان کی روح کا کوئی تصور دین میں نہیں ہے۔ انسان میں انسانی شخصیت خدا کے “امر” سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ امر خدا کا حکم ہے۔ مرد اور عورت ہونا جسم کی خصوصیت ہے۔

    عہد الست میں خدا شعور انسانی سے مخاطب ہوا تھا۔ اس وقت انھیں مردوں اور عورتوں کی صورت میں سامنے کھڑا کیا گیا یا محض ان کی شخصیت کو مخاطب کیا گیا اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

You must be logged in to reply.
Login | Register