Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Sources of Islam رسول اللہ کی عدالت ؟

Tagged: 

  • رسول اللہ کی عدالت ؟

    Posted by Aejaz Ahmed on February 5, 2026 at 1:15 am

    محترم جاوید غامدی صاحب نے فرمایا کہ وہ نبی جو اپنی قوم کی طرف اللہ کی عدالت بن کر آئے اسے قرآن اللہ کا رسول کہتا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ اس مفہوم کی قرآن کی دو تین آیات بتائیں جس میں یہ بات کی گئی ہو۔

    Umer replied 1 month, 3 weeks ago 3 Members · 5 Replies
  • 5 Replies
  • رسول اللہ کی عدالت ؟

    Umer updated 1 month, 3 weeks ago 3 Members · 5 Replies
  • Maria Ali

    Member February 5, 2026 at 7:17 am

    قرآن میں یہ مفہوم مختلف مقامات پر آیا ہے کہ رسول اپنی قوم پر اللہ کی حجت اور فیصلے کی صورت بن کر آتے ہیں، یعنی ان کے آنے کے بعد قوم کے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہتا اور پھر اللہ کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے۔
    سورۂ نساء آیت 165 میں فرمایا گیا ہے کہ رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے سامنے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ رسول کا آنا خود اللہ کی عدالت کے قائم ہو جانے کے مترادف ہے۔
    سورۂ الاسراء آیت 15 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم کسی قوم کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک ایک رسول نہ بھیج دیں۔ اس سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ رسول کی بعثت کے بعد ہی اللہ کے فیصلے کا مرحلہ آتا ہے، اس سے پہلے نہیں۔
    سورۂ القصص آیت 59 میں ارشاد ہے کہ تمہارا رب بستیوں کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک ان کی طرف ایک رسول نہ بھیج دے جو ان پر ہماری آیات پڑھ کر سنا دے۔ یہ آیت بھی اسی حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ رسول قوم پر اللہ کی طرف سے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔
    اسی مفہوم کو سورۂ الانعام آیت 130 میں بھی بیان کیا گیا ہے جہاں جن و انس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو اللہ کی آیات سناتے اور اس دن سے خبردار کرتے تھے۔ یہ سوال دراصل اتمامِ حجت اور اللہ کی عدالت کے قیام کی علامت ہے۔
    ان تمام آیات سے مجموعی طور پر یہ قرآنی تصور واضح ہوتا ہے کہ رسول اپنی قوم کے لیے اللہ کی حجت اور اللہ کے فیصلے کا ذریعہ بن کر آتے ہیں، اور ان کے بعد کسی عذر کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

  • Aejaz Ahmed

    Member February 5, 2026 at 8:34 am

    آپ کی پیش کردہ آیات سے یہ بات تو واضح ہو گئی کہ رسول اپنی قوم کے لیے اللہ کی حجت اور اللہ کے فیصلے کا ذریعہ بن کر آتے ہیں، اور ان کے بعد کسی عذر کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔

    مگر میرا سوال رسول کے عدالت بننے سے متعلق تھا یعنی قرآن میں یہ کہاں لکھا ہے کہ رسولوں کو بھیجنے کے بعد اللہ تعالٰی انکے منکرین کو اس دنیا میں لازما عذاب دیتا ہے ؟

  • Maria Ali

    Member February 5, 2026 at 12:25 pm

    قرآن میں واقعی یہ تصور موجود ہے کہ رسول اپنی مخاطَب قوم کے لیے اللہ کی عدالت بن کر آتا ہے اور اس کے انکار کے بعد اسی دنیا میں فیصلہ کن انجام سامنے آتا ہے۔ یہ کوئی ضمنی یا اتفاقی بات نہیں بلکہ قرآن کا ایک مستقل اور منظم قانون ہے جسے مفسرین سنتِ الٰہیہ یا قانونِ اتمامِ حجت کہتے ہیں۔ قومِ نوح، عاد، ثمود، قومِ لوط، قومِ شعیب اور فرعون کی قوم کی مثالیں قرآن میں محض تاریخی واقعات کے طور پر نہیں بلکہ ایک اصول کے تحت بیان ہوئی ہیں۔ سورۂ ہود، سورۂ الاعراف اور سورۂ الشعراء میں بار بار یہی ترتیب دہرائی گئی ہے کہ پہلے رسول آیا، اس نے حق پوری طرح واضح کیا، پھر قوم نے اجتماعی انکار کیا اور اس کے بعد اللہ کا فیصلہ دنیا میں نافذ ہوا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعات ایک جاری قانون کی نمائندگی کرتے ہیں۔سورۂ الشعراء میں ہر رسول کی دعوت کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ اکثر لوگ ایمان نہ لائے، اور اس کے فوراً بعد عذاب کا ذکر آتا ہے۔ یہی ترتیب سورۂ ہود میں بھی دکھائی دیتی ہے جہاں رسول کے اس اعلان کے بعد کہ پیغام پوری طرح پہنچا دیا گیا ہے، مہلت ختم ہو جاتی ہے اور عذاب آ جاتا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل آیت 58 میں بھی ایک اصولی بات کہی گئی ہے کہ کوئی بستی ایسی نہیں جس پر قیامت سے پہلے ہلاکت یا سخت عذاب نہ آئے، جو سابقہ رسولوں کے واقعات کے ساتھ مل کر اس قانون کو واضح کرتی ہے۔اس قانون کی ایک اہم جہت یہ ہے کہ عذاب کی صورت ایمان لانے والوں کی تعداد اور حیثیت کے مطابق بدلتی رہی ہے۔ جہاں ایمان لانے والے بہت کم اور کمزور تھے، وہاں اللہ تعالیٰ نے براہِ راست عذاب کے ذریعے فیصلہ فرمایا، جیسے قومِ نوح اور قومِ لوط کے معاملے میں ہوا۔ اور جہاں ایمان لانے والے ایک قابلِ لحاظ جماعت بن گئے، وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ انہی کے ہاتھوں نافذ کرایا۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں فرعون اور اس کی قوم پر رسول موجود تھا، نشانیاں دکھائی گئیں، انکار ہوا اور پھر دنیا ہی میں غرق کر کے فیصلہ سنا دیا گیا۔یہی سنت آخری رسول حضرت محمد ﷺ کے ساتھ بھی پوری ہوئی۔ مکہ کے دور میں اہلِ ایمان کمزور اقلیت تھے، اس لیے براہِ راست عذاب نہیں آیا، لیکن جب مدینہ میں اہلِ ایمان ایک امت اور قوت بن گئے تو جزیرۂ عرب میں اللہ کا فیصلہ انہی کے ذریعے نافذ ہوا، اور شرک کا غلبہ ختم کر دیا گیا۔ البتہ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ یہ قانون براہِ راست مخاطَب اقوام کے لیے تھا، یعنی وہ اقوام جن کے پاس رسول بنفسِ نفیس موجود تھا، اسی لیے بعد کی امتوں پر اجتماعی عذابِ استیصال نہیں آیا اور ان کا حساب آخرت پر مؤخر کر دیا گیا۔یوں قرآن کی مجموعی تعلیم یہ بنتی ہے کہ رسول محض پیغام پہنچانے والے نہیں بلکہ اپنی مخاطَب قوم کے لیے اللہ کی عدالت، اللہ کی حجت اور اللہ کے فیصلے کا ذریعہ ہوتے ہیں، اور ان کے انکار کے بعد دنیا ہی میں کسی نہ کسی صورت فیصلہ کن انجام ظاہر ہو جاتا ہے، جیسا کہ قومِ نوح سے لے کر آخری رسول ﷺ تک مسلسل دکھایا گیا ہے۔

  • Aejaz Ahmed

    Member February 6, 2026 at 3:12 am

    ان آیات سے تو صرف یہ بات واضح ہورہی ہے کہ رسولوں کے منکرین آخرت میں کوئی عذر پیش نہیں کرسکیں گے۔ 

    دنیا میں ان کو لازما عذاب دیا جائیگا ایسا کہاں لکھا ہے ؟

    • Umer

      Moderator February 6, 2026 at 9:08 am

      Quran 10:45-54 is very clear in this regard.

      All of this is discussed in detail in the Itmam-e-Hujjat episodes (specially Episode 73) of Response of 23 Questions Series.

      Discussion 67008

You must be logged in to reply.
Login | Register