Forums › Forums › Islam And Family › Wasiyat
Tagged: Inheritance
-
Wasiyat
Posted by Sulaiman Khan on February 20, 2026 at 7:27 amالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا میں وصیت کرسکتا ہوں کہ میری موت کے بعد میری 2 بیٹیاں میری تمام جائیداد کی وارث ہوں گی؟
Ahsan replied 2 weeks, 1 day ago 2 Members · 3 Replies -
3 Replies
-
Ahsan
Moderator February 20, 2026 at 8:00 amIn short, yes you can. However make sure there is no injustice donento other heirs.
For detailed response Please see
Hope this helps
-
Sulaiman Khan
Member February 20, 2026 at 1:52 pmمیں کہنا چاہ رہا تھا کہ قرآن نے بتایا ہے کہ میت کے مال کی تقسیم کس طرح ہوگی۔ مثال کے طور پر اگر کسی مرد کی دو بیٹیاں ہوں، اس کا والد زندہ ہو، اور ایک بیوی ہو، تو قرآن کے مطابق والد کو حصہ ملے گا، بیوی کو حصہ ملے گا، بیٹیوں کو حصہ ملے گا، اور باقی مال والد کی طرف چلا جائے گا کیونکہ میت کے بیٹے نہیں ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں وصیت کر دوں کہ میری وفات کے بعد میرا سارا مال میری دونوں بیٹیوں کو دے دیا جائے اور کسی اور کو نہ دیا جائے، تو اس میں کیا مسئلہ ہے؟ جناب غامدی صاحب کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن کے لیے وصیت مقرر کی ہے اُن کے بارے میں ہم اپنی وصیت نہیں کر سکتے، سوائے کسی خاص وجہ کے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ میں خاص وجہ کے بغیر کیوں اپنی وصیت نہیں کر سکتا؟ اگر میں آیت کو اس طرح سمجھوں کہ اگر میت نے اپنی اولاد کے حق میں وصیت نہ کی ہو تو اللہ کی تقسیم نافذ ہوگی، اور اگر میں وصیت کر دوں کہ میرا سارا مال میری دونوں بیٹیوں کو ملے اور کسی اور کو نہ ملے تو میری وصیت کیوں نافذ نہیں ہوگی؟
غامدی صاحب کی بات کو سمجھا کر بتائیں کہ خاص وجہ کے بغیر ہم اللہ کی مقرر کردہ تقسیم کے مطابق وصیت کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟ -
Ahsan
Moderator February 20, 2026 at 11:07 pmActually Ghami sb understanding is similar to what you said that the law of inhereitance is applicable in the absence of a will as mentioned in link above. For Ghamidi sb response please see
If you still not satisfied, please register for the live session with Ghamidi sb
Sponsor Ask Ghamidi