Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums Islamic Sharia مذی لگنے کی صورت میں نماز کا حکم اور بار بار کپڑا دھونے کی عملی مشکل

Tagged: 

  • مذی لگنے کی صورت میں نماز کا حکم اور بار بار کپڑا دھونے کی عملی مشکل

    Posted by Ali Hassan on March 8, 2026 at 6:44 am

    جناب گامدی صاحب، اگر میں مذی والی جگہ کو کپڑے سے صاف کرتا ہوں، تو پانچ چھے بار(پانچ چھ بار مطلب کہ ایسا کبھی کبھی ہو جاتا ہوگا) دھونے پر ایک بار پانی لگانے سے کپڑا پورا گیلا ہو جاتا ہے، جس سے مجھے سردیوں میں بہت مشکل ہوتی ہے، کیونکہ پانی لگنے سے کپڑا سرد ہو جاتا ہے اور بیماری کا خطرہ ہوتا ہے۔ اور اگر میں نماز پڑھنے کے بعد یہ جانتا ہوں کہ کپڑے نجاست سے پاک نہیں تھے، کیونکہ مجھے پہلے یہ علم نہیں تھا کہ مذی لگنے کی وجہ سے نماز نہیں ہوتی، تو کیا ایسی صورت میں وہ نماز معتبر ہے؟ یا اگر نجاست چھپ کر لگی ہو اور بعد میں پتا چلے، تو شریعت کیا حکم دیتی ہے؟ کیا مجھے پھر سے وہ نماز ادا کرنی ہو گی یا نماز کا اعتبار باقی رہے گا

    Umer replied 3 months, 2 weeks ago 2 Members · 1 Reply
  • 1 Reply
  • مذی لگنے کی صورت میں نماز کا حکم اور بار بار کپڑا دھونے کی عملی مشکل

    Umer updated 3 months, 2 weeks ago 2 Members · 1 Reply
  • Umer

    Moderator March 10, 2026 at 5:24 pm

    جب آپ کو اپنی پینٹ پر مذی نظر آئے تو آپ تھوڑا سا پانی لگا کر اس جگہ کو بھگو دیں اور رگڑ لیں۔ زیادہ پانی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مذی یا منی کے خشک دھبوں کے لیے سفید نشانوں کو کھرچ دینا ہی کافی ہے اور انہیں بھگونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر نماز کے بعد آپ کو ناپاکی کا علم ہو تو اگر ابھی نماز کا وقت باقی ہو تو آپ چاہیں تو نماز دوبارہ پڑھ سکتے ہیں، ورنہ آپ کی نماز درست ہے کیونکہ آپ کو اس کے موجود ہونے کا علم نہیں تھا اور یہ غیر ارادی تھا۔

You must be logged in to reply.
Login | Register