قرآن اور حدیث کے مطابق قیامت کا معاملہ ایک مرحلہ وار سلسلہ ہے۔ انسان کے لیے اس کو سمجھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ دنیا کے خاتمے سے لے کر حشر تک چند بڑے مراحل ہوں گے۔
سب سے پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ قیامت اچانک آئے گی جبکہ لوگ اپنی عام زندگی گزار رہے ہوں گے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ لوگ تجارت کر رہے ہوں گے، باتیں کر رہے ہوں گے اور اپنی دنیاوی مصروفیات میں ہوں گے کہ اچانک قیامت کی گھڑی آ جائے گی۔ اس وقت کسی کو سنبھلنے یا وصیت کرنے تک کی مہلت نہیں ملے گی۔
پھر فرشتہ اسرافیل صور پھونکیں گے۔ اس کو پہلا صور کہا جاتا ہے۔ اس صور کے ساتھ ہی کائنات کا نظام ٹوٹنا شروع ہو جائے گا۔ قرآن کے مطابق زمین ہلائی جائے گی، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑنے لگیں گے، سمندر بھڑک اٹھیں گے، ستارے ٹوٹ جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا۔ اسی وقت زمین اور آسمان کا موجودہ نظام ختم ہونا شروع ہو جائے گا اور تقریباً تمام جاندار ختم ہو جائیں گے۔
پھر ایک مدت گزرے گی جس کا صحیح علم صرف اللہ کو ہے۔ اس وقفے کے بعد اسرافیل دوبارہ صور پھونکیں گے۔ اسے دوسرا صور کہا جاتا ہے۔ اس صور کے بعد تمام انسان دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ قرآن میں ہے کہ لوگ اپنی قبروں سے نکل کر کھڑے ہو جائیں گے۔
اس مرحلے پر انسانوں کو قبروں سے نکالا جائے گا۔ زمین سے تمام مردے زندہ ہو کر نکلیں گے۔ اسی کو بعث بعد الموت کہا جاتا ہے۔ پھر اللہ ایک نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کرے گا۔ قرآن میں آیا ہے کہ اس دن زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی بدل دیے جائیں گے۔ یعنی جو دنیا ہم دیکھتے ہیں وہ اسی حالت میں نہیں رہے گی۔
اس نئی زمین پر تمام انسان جمع کیے جائیں گے۔ یہی میدانِ حشر یا روزِ محشر ہے۔ حدیثوں میں بتایا گیا ہے کہ لوگ ننگے پاؤں اور بغیر کسی ظاہری شان و شوکت کے جمع ہوں گے اور سورج بہت قریب ہوگا۔ ہر انسان اپنے اعمال کے مطابق گھبراہٹ اور انتظار کی حالت میں ہوگا۔
پھر حساب و کتاب کا مرحلہ آئے گا۔ لوگوں کے اعمال نامے دیے جائیں گے، نیکی اور بدی کا وزن ہوگا اور انبیاء اور نیک لوگ شفاعت کریں گے۔ اس کے بعد اللہ کے فیصلے کے مطابق کچھ لوگ جنت میں جائیں گے اور کچھ جہنم میں۔
اس طرح ترتیب یہ بنتی ہے کہ پہلے دنیا میں اچانک قیامت کی گھڑی آئے گی اور پہلا صور پھونکا جائے گا جس سے کائنات تباہ ہو جائے گی۔ پھر ایک وقفہ ہوگا جس کے بعد دوسرا صور پھونکا جائے گا۔ اس کے بعد انسان قبروں سے زندہ ہو کر نکلیں گے، نئی زمین پر جمع ہوں گے اور وہاں میدانِ حشر میں حساب و کتاب ہوگا۔
آپ کا یہ سوال کہ دنیا تباہ ہونے کے بعد حشر کہاں ہوگا، اس کا جواب یہی ہے کہ اللہ اسی زمین کو بدل کر ایک نئی شکل دے گا اور اسی بدلی ہوئی زمین پر تمام انسان جمع کیے جائیں گے۔ قرآن کی آیت ہے کہ اس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی۔
اس موضوع کو اگر آپ مزید تفصیل اور ایک تصوراتی انداز میں سمجھنا چاہیں تو ریحان احمد یوسفی کی کتاب “جب زندگی شروع ہوگی” بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ وہ معروف مصنف ابو یحییٰ سے وابستہ ہیں۔ ان کے چار یا پانچ ناول ہیں اور ان کا پہلا ناول “جب زندگی شروع ہوگی” قیامت سے لے کر جنت تک کے مراحل کی ایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ اس میں کوشش کی گئی ہے کہ پورا منظر قرآن اور حدیث کی روشنی میں بیان کیا جائے۔ اگر آپ کو اس موضوع میں دلچسپی ہو تو یہ ناول کافی دلچسپ اور فکر انگیز محسوس ہوتے ہیں۔