Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions ختمِ نبوت کے منکر کے پیچھے نماز کا حکم کیا ہے؟ ❓

  • ختمِ نبوت کے منکر کے پیچھے نماز کا حکم کیا ہے؟ ❓

    Posted by Ali Hassan on April 12, 2026 at 5:11 am

    “اگر کوئی شخص ختم نبوت کے عقیدے کے خلاف نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، اور اسے کفر قرار دیا جاتا ہے، جیسے مرزا غلام احمد اور ان کی جماعت . تو کیا ایسے شخص کو مسلمان نہیں سمجھا جائے گا؟ اور اگر اسے مسلمان سمجھا بھی جائے، تو کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہوگا یا نہیں؟”

    اگر وہ کفر کرتے ہیں تو ان کے پیچھے نماز کیسے جائز ہے یہ بھی بتا دیں

    Dr. Irfan Shahzad replied 4 weeks, 1 day ago 2 Members · 1 Reply
  • 1 Reply
  • ختمِ نبوت کے منکر کے پیچھے نماز کا حکم کیا ہے؟ ❓

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar April 13, 2026 at 1:57 am

    کفر کا مطلب سمجھ لیجیے۔ کفر کا مطلب جان بوجھ کر انکار ہے۔ یعنی آدمی ایک سچائی کو سچائی تسلیم کرتا ہے مگر ماننے سے انکار کرتا ہے۔ ایسا شخص چونکہ خود انکار کرتا ہے، اس لیے انکار کرنے والا یا منکر یا کافر کہا جا سکتا ہے۔

    تاہم، ایک شخص اگر ایسا عقیدہ کا عمل اختیار کرتا ہے جو کسی دوسرے کے نزدیک کفر ہے مگر ارتکاب کرنے والا اپنے کفر کا اقرار نہیں کرتا اور اپنے عقیدہ وعمل کی تاویل کرتا ہے دلیل دیتا ہے تو یہ جان بوجھ کر انکار نہیں ہے، ایسے شخص کو کافر نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ اس کا عمل ہمارے نزدیک غلط ہو سکتا ہے۔

    احمدی حضرات عقیدہ ختم نبوت کے منکر نہیں ہیں، بلکہ ان کا کہنا ہے کہ جس مسیح کے دوبارہ آنے کی خبر دی گئی وہ آ گیا تھا تو وہ اس پر ایمان لے آئے۔

    نماز کا معاملہ الگ ہے، وہ آپ کی اپنی ہوتی ہے چاہے کسی امام کے پیچھے پڑیں۔ امام کے عقیدے کا آپ کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

You must be logged in to reply.
Login | Register