Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions شیطان کو کنکریاں مارنے کی حقیقت

  • شیطان کو کنکریاں مارنے کی حقیقت

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar April 16, 2026 at 11:00 pm

    غامدی صاحب میزان میں لکھتے ہیں

    اصطلاح میں اِس عمل کا نام ’حج‘ و’ عمرہ‘ ہے۔

    یہ دونوں عبادات دین ابراہیمی میں عبادت کا منتہاے کمال ہیں۔ اپنے معبودکے لیے جذبۂ پرستش کا یہ آخری درجہ ہے کہ اُس کے طلب کرنے پر بندہ اپنا جان ومال، سب اُس کے حضور میں نذر کردینے کے لیے حاضر ہوجائے۔ حج وعمرہ اِسی نذر کی تمثیل ہیں۔ یہ دونوں ایک ہی حقیقت کو ممثل کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عمرہ اجمال ہے اور حج اِس لحاظ سے اُس کی تفصیل کردیتا ہے کہ اِس میں وہ مقصد بھی بالکل نمایاں ہو کرسامنے آجاتا ہے جس کے لیے جان ومال نذر کردینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آدم کی تخلیق سے اُس کی جواسکیم دنیا میں برپا ہوئی ہے، ابلیس نے پہلے دن ہی سے اُس کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے : ’قَالَ: فَبِمَآ اَغْوَیْْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمْ مِّنْم بَیْْنِ اَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ، وَعَنْ اَیْْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَآءِلِہِمْ، وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیْنَ‘ ( بولا: پھر اِس لیے کہ تو نے مجھے گمراہی میں ڈالا ہے، اب میں بھی اولاد آدم کے لیے ضرور تیری سیدھی راہ پر گھات میں بیٹھوں گا۔ پھر اِن کے آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں ، ہر طرف سے ضرور اِن پر تاخت کروں گااور تو اِن میں سے اکثرکو اپنا شکرگزار نہ پائے گا)۔ قرآن کا بیان ہے کہ ابلیس کا یہ چیلنج قبول کر لیا گیا ہے اور اللہ کے بندے اب قیامت تک کے لیے اپنے اِس ازلی دشمن اور اِس کی ذریت کے ساتھ برسرجنگ ہیں۔ یہی اِس دنیا کی آزمایش ہے جس میں کامیابی اورناکامی پرہمارے ابدی مستقبل کا انحصار ہے۔ اپنا جان و مال ہم اِسی جنگ کے لیے اللہ کی نذر کرتے ہیں۔ انبیا علیہم السلام نے ’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، کُوْنُوْٓا اَنصَارَ اللّٰہِ‘ کی صدا تاریخ میں بارہا اِسی مقصد سے بلند کی ہے۔ ابلیس کے خلاف اِس جنگ کو حج میں ممثل کیا گیا ہے۔ یہ تمثیل اِس طرح ہے :

    اللہ کے بندے اپنے پروردگار کی ندا پر دنیا کے مال ومتاع اوراُس کی لذتوں اورمصروفیتوں سے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔

    پھر’لبیک لبیک‘ کہتے ہوئے میدان جنگ میں پہنچتے اوربالکل مجاہدین کے طریقے پر ایک وادی میں ڈیرے ڈال دیتے ہیں۔

    اگلے دن ایک کھلے میدان میں پہنچ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے،اِس جنگ میں کامیابی کے لیے دعا ومناجات کرتے اور اپنے امام کا خطبہ سنتے ہیں۔

    تمثیل کے تقاضے سے نمازیں قصر اورجمع کرکے پڑھتے اور راستے میں مختصر پڑاؤ کرتے ہوئے دوبارہ اپنے ڈیروں پرپہنچ جاتے ہیں۔

    پھر شیطان پرسنگ باری کرتے، اپنے جانوروں کی قربانی پیش کرکے اپنے آپ کو خداوند کی نذر کرتے، سرمنڈاتے اور نذر کے پھیروں کے لیے اصل معبد اورقربان گاہ میں حاضر ہوجاتے ہیں۔

    پھر وہاں سے لوٹتے اوراگلے دویا تین دن اِسی طرح شیطان پر سنگ باری کرتے رہتے ہیں۔

You must be logged in to reply.
Login | Register