Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions کیا مشرکین مکہ قبر پرستی کرتے تھے ؟؟

  • کیا مشرکین مکہ قبر پرستی کرتے تھے ؟؟

    Posted by Aejaz Ahmed on May 5, 2026 at 1:04 am

    مندرجہ ذیل آیات

    *وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ۔ اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ۔ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ۔ النحل 21-16:20*

    *اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کے بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔ تمہارا الہ بس ایک ہی الہ ہے۔*

    ایک اور جگہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے :

    *وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۘ مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ فِیۡ مَا ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ۬ ؕ۔ الزمر 39:03*

    *اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے اولیاء (اور کارساز) بنا رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں گے، اللہ یقینا ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں*

    یہ آیات اور اس مفہوم کی دوسری آیات سے پتہ چلتا ہے کہ ان آیات میں مشرکین مکہ کے قوم کے ان مرے ہوئے نیک لوگوں کو اللہ کو چھوڑ کر پکارنے اور انہیں الہ اور معبود اور رب نہ بنانے کی بات ہورہی ہے۔

    تو کیا مشرکین مکہ اپنے نیک لوگوں کی قبروں پر جاتے تھے اور وہاں دعائیں مانگا کرتے تھے ؟؟

    ہم نے تو کہیں نہیں پڑھا کہ مشرکین مکہ نیک لوگوں کی قبروں پر جاکر ان سے دعائیں اور مرادیں مانگا کرتے تھے ؟؟ تو یہ آیات کن معنوں میں ہے اور یہ کن لوگوں کے لئے ہے اور یہ کن باتوں سے منع کر رہی ہے ؟

    Dr. Irfan Shahzad replied 3 weeks, 3 days ago 2 Members · 3 Replies
  • 3 Replies
  • کیا مشرکین مکہ قبر پرستی کرتے تھے ؟؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar May 5, 2026 at 4:01 am

    اپنے مردہ بزرگوں سے مانگنے یا ان کی عبادت کرنے کا کوئی رجحان مشرکین عرب میں نہیں تھا۔

    وہ جن خیالی ہستیوں کی عبادت کرتے یا ان سے دعا مانگتے تھے ان کے بارے میں بتایا گیا ہے وہ مردہ ہیں یعنی وہ ہیں ہی نہیں۔ قرآن مجید میں عدم کو بھی موت کہا گیا ہے۔ جیسے قرآن مجید ہے کہ تم انسان پہلے مردہ تھے پھر انھیں زندگی دی گئی۔

  • Aejaz Ahmed

    Member May 5, 2026 at 7:57 am

    اچھا تو کیا اوپر کی دو آیات اور اسطرح کی دوسری آیات کو کیا ہم لوگوں کی طرف سے آج کے نیک مردہ لوگوں کو داتا، دستگیر، غوث یا مشکل کشاء وغیرہ ماننے کے رد کے طور پیش کرسکتے ہیں ؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar May 6, 2026 at 1:12 am

    جی ہاں۔ جو موجود نہیں وہ عدم ہے اور عدم کو مردہ کہا جاتا ہے۔

    یہ ملحوظ رہے کہ دین میں کوئی چیز اس خود ثابت نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مثبت حکم درکار ہوتا ہے۔ کسی مردہ سے مدد طلب کرنی ہے تو اس کا مثبت ثبوت ہونا چاہیے۔ وہ نہیں تو از خود کوئی خیال باندھ لینا خدا پر جھوٹ باندھنا ہے۔ یہی شرک کی بنیاد ہے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register