-
کیا مشرکین مکہ قبر پرستی کرتے تھے ؟؟
مندرجہ ذیل آیات
*وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ۔ اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ۔ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ۔ النحل 21-16:20*
*اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کے بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔ تمہارا الہ بس ایک ہی الہ ہے۔*
ایک اور جگہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے :
*وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۘ مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ فِیۡ مَا ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ۬ ؕ۔ الزمر 39:03*
*اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے اولیاء (اور کارساز) بنا رکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں گے، اللہ یقینا ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں*
یہ آیات اور اس مفہوم کی دوسری آیات سے پتہ چلتا ہے کہ ان آیات میں مشرکین مکہ کے قوم کے ان مرے ہوئے نیک لوگوں کو اللہ کو چھوڑ کر پکارنے اور انہیں الہ اور معبود اور رب نہ بنانے کی بات ہورہی ہے۔
تو کیا مشرکین مکہ اپنے نیک لوگوں کی قبروں پر جاتے تھے اور وہاں دعائیں مانگا کرتے تھے ؟؟
ہم نے تو کہیں نہیں پڑھا کہ مشرکین مکہ نیک لوگوں کی قبروں پر جاکر ان سے دعائیں اور مرادیں مانگا کرتے تھے ؟؟ تو یہ آیات کن معنوں میں ہے اور یہ کن لوگوں کے لئے ہے اور یہ کن باتوں سے منع کر رہی ہے ؟
Sponsor Ask Ghamidi