Ask Ghamidi

A Community Driven Discussion Portal
To Ask, Answer, Share And Learn

Forums Forums General Discussions ثالث کی ذمہ داری: صلح یا انصاف؟

  • ثالث کی ذمہ داری: صلح یا انصاف؟

    Posted by Faraz Anjum on May 19, 2026 at 8:43 pm

    میرے محلے کے ایک شخص نے میرا موبائل چھین لیا تھا۔ کچھ تحقیق کے بعد معلوم ہوگیا کہ وہ کون ہے۔ اس کے بعد محلے میں پنچایت ہوئی۔ اس دوران اس شخص کے ایک دوست نے خود کو ثالث/میڈی ایٹر کے طور پر پیش کیا۔ چونکہ وہ محلے میں ایک معزز اور باوقار آدمی سمجھا جاتا ہے، اس لیے میں نے بھی امید کی کہ وہ انصاف کے ساتھ میرا حق دلانے کی کوشش کرے گا۔
    ثالث صاحب نے مجھے صلح کرنے کا مشورہ دیا، لیکن یہ نہیں کہا کہ میرا موبائل واپس دلوایا جائے گا۔ جب میں نے اپنے موبائل کی واپسی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر موبائل مانگو گے تو دوسرا فریق مزید جھگڑا کھڑا کرے گا۔ پھر انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ امن کی خاطر اپنے حق سے دستبردار ہوجانا صلح حدیبیہ کی سنت سے بھی ثابت ہے۔
    میں اس بات کو ایک حد تک سمجھتا ہوں کہ بعض اوقات بڑے فساد سے بچنے کے لیے انسان اپنے بعض حقوق چھوڑ دیتا ہے، اور حضور اکرم ﷺ کی سنت ہمارے لیے باعثِ احترام ہے۔ عقلی اعتبار سے بھی بعض مواقع پر یہ حکمتِ عملی درست محسوس ہوتی ہے۔
    لیکن میرا اصل سوال یہ ہے کہکیا ایک ثالث یا میڈی ایٹر کے لیے شرعاً یہ مناسب ہے کہ وہ مظلوم کو اپنے حق سے دستبردار ہونے کا مشورہ دے، خصوصاً جبکہ حق واضح ہو؟میرا مطلب یہ ہے کہ اگر میرے اپنے گھر والے یا قریبی لوگ امن کی خاطر صلح کا مشورہ دیں تو وہ بات کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے، لیکن ایک ثالث سے تو انصاف اور غیر جانب داری کی توقع ہوتی ہے۔کیا ثالث کی ذمہ داری انصاف کے تقاضوں کے مطابق حق دار کا حق دلانے کی نہیں ہونی چاہیے؟اور کیا ایسے موقع پر سورۃ النساء آیت 135 (“انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو…”) کا اطلاق ثالث پر بھی نہیں ہوتا؟
    براہِ کرم اس معاملے میں شرعی رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

    Dr. Irfan Shahzad replied 1 week, 1 day ago 2 Members · 1 Reply
  • 1 Reply
  • ثالث کی ذمہ داری: صلح یا انصاف؟

  • Dr. Irfan Shahzad

    Scholar May 21, 2026 at 5:18 am

    ثالث کا کام انصاف کرنا ہے۔ اسے انصاف ہی کرنا چاہیے تھا۔

    اگر معاملہ اس طرح حل نہیں ہوتا تو آپ کو پولیس سے رابطہ کیجیے۔ صلح حدیبیہ کا حوالہ یہاں غیر متعلق ہے۔ یہ معاملہ جرم کا ہے اور مجرم کو رعایت دینا جرم کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ ہاں مجرم اگر طاقت ور آدمی ہے جو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے تو پھر مصلحت کا جو تقاضا ہو اس پر عمل کرنا چاہیے۔

You must be logged in to reply.
Login | Register