-
ثالث کی ذمہ داری: صلح یا انصاف؟
میرے محلے کے ایک شخص نے میرا موبائل چھین لیا تھا۔ کچھ تحقیق کے بعد معلوم ہوگیا کہ وہ کون ہے۔ اس کے بعد محلے میں پنچایت ہوئی۔ اس دوران اس شخص کے ایک دوست نے خود کو ثالث/میڈی ایٹر کے طور پر پیش کیا۔ چونکہ وہ محلے میں ایک معزز اور باوقار آدمی سمجھا جاتا ہے، اس لیے میں نے بھی امید کی کہ وہ انصاف کے ساتھ میرا حق دلانے کی کوشش کرے گا۔
ثالث صاحب نے مجھے صلح کرنے کا مشورہ دیا، لیکن یہ نہیں کہا کہ میرا موبائل واپس دلوایا جائے گا۔ جب میں نے اپنے موبائل کی واپسی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر موبائل مانگو گے تو دوسرا فریق مزید جھگڑا کھڑا کرے گا۔ پھر انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ امن کی خاطر اپنے حق سے دستبردار ہوجانا صلح حدیبیہ کی سنت سے بھی ثابت ہے۔
میں اس بات کو ایک حد تک سمجھتا ہوں کہ بعض اوقات بڑے فساد سے بچنے کے لیے انسان اپنے بعض حقوق چھوڑ دیتا ہے، اور حضور اکرم ﷺ کی سنت ہمارے لیے باعثِ احترام ہے۔ عقلی اعتبار سے بھی بعض مواقع پر یہ حکمتِ عملی درست محسوس ہوتی ہے۔
لیکن میرا اصل سوال یہ ہے کہکیا ایک ثالث یا میڈی ایٹر کے لیے شرعاً یہ مناسب ہے کہ وہ مظلوم کو اپنے حق سے دستبردار ہونے کا مشورہ دے، خصوصاً جبکہ حق واضح ہو؟میرا مطلب یہ ہے کہ اگر میرے اپنے گھر والے یا قریبی لوگ امن کی خاطر صلح کا مشورہ دیں تو وہ بات کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے، لیکن ایک ثالث سے تو انصاف اور غیر جانب داری کی توقع ہوتی ہے۔کیا ثالث کی ذمہ داری انصاف کے تقاضوں کے مطابق حق دار کا حق دلانے کی نہیں ہونی چاہیے؟اور کیا ایسے موقع پر سورۃ النساء آیت 135 (“انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو…”) کا اطلاق ثالث پر بھی نہیں ہوتا؟
براہِ کرم اس معاملے میں شرعی رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
Sponsor Ask Ghamidi